سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
77. بَابُ : إِبَاحَةِ فَسْخِ الْحَجِّ بِعُمْرَةٍ لِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْىَ
77. باب: جو شخص ہدی ساتھ نہ لے جائے وہ حج عمرہ میں تبدیل کر کے احرام کھول سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2810
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: انبانا عبد العزيز وهو الدراوردي، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن الحارث بن بلال، عن ابيه، قال: قلت: يا رسول الله: افسخ الحج لنا خاصة ام للناس عامة؟ قال:" بل لنا خاصة".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ:" بَلْ لَنَا خَاصَّةً".
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الحج25 (1808)، سنن ابن ماجہ/الحج42 (2984)، (تحفة الأشراف: 2027)، مسند احمد (3/469)، سنن الدارمی/المناسک 37 (1897) (ضعیف منکر) (اس کے راوی ’’حارث‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث دیگر صحیح حدیثوں کے مخالف ہے)»

وضاحت:
۱؎: یعنی حج کو عمرہ کے ذریعہ فسخ کرنا خاص ہے، نہ کہ تمتع کیونکہ اس کا حکم عام ہے جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا اور جو لوگ فسخ کو بھی عام کہتے ہیں وہ اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی حارث ہیں جو ضعیف ہیں۔

قال الشيخ الألباني: ضعيف

قال الشيخ زبير على زئي: حسن

   سنن النسائى الصغرى2810بلال بن الحارثفسخ الحج لنا خاصة أم للناس عامة قال بل لنا خاصة
   سنن أبي داود1808بلال بن الحارثفسخ الحج لنا خاصة أو لمن بعدنا قال بل لكم خاصة
   سنن ابن ماجه2984بلال بن الحارثفسخ الحج في العمرة لنا خاصة أم للناس عامة فقال رسول الله بل لنا خاصة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2810  
´جو شخص ہدی ساتھ نہ لے جائے وہ حج عمرہ میں تبدیل کر کے احرام کھول سکتا ہے۔`
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2810]
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لہٰذا حجت نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ موقف درست ہے جو سابقہ صحیح احادیث: 2808، 2809 میں بیان ہوا ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 2810   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1808  
´آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بدل دے اس کے حکم کا بیان۔`
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کا (عمرے کے ذریعے) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1808]
1808. اردو حاشیہ: یہ حدیث ضعیف ہے،اس لئے قابل استدلال نہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1808