الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: امامت کے احکام و مسائل
The Book of Leading the Prayer (Al-Imamah)
52. بَابُ : حَدِّ إِدْرَاكِ الْجَمَاعَةِ
52. باب: (بغیر جماعت) جماعت کا ثواب پانے کی حد کا بیان۔
Chapter: "Catching the congregation" (when is one regarded As having caught up with the congregation)
حدیث نمبر: 856
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن ابن طحلاء، عن محصن بن علي الفهري، عن عوف بن الحارث، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" من توضا فاحسن الوضوء، ثم خرج عامدا إلى المسجد فوجد الناس قد صلوا كتب الله له مثل اجر من حضرها ولا ينقص ذلك من اجورهم شيئا".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ الْفِهْرِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ حَضَرَهَا وَلَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، (اور مسجد آیا) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 52 (564)، (تحفة الأشراف: 14281)، مسند احمد 2/380 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن

   سنن النسائى الصغرى856عبد الرحمن بن صخرمن توضأ فأحسن الوضوء ثم خرج عامدا إلى المسجد فوجد الناس قد صلوا كتب الله له مثل أجر من حضرها ولا ينقص ذلك من أجورهم شيئا
   سنن أبي داود564عبد الرحمن بن صخرمن توضأ فأحسن وضوءه ثم راح فوجد الناس قد صلوا أعطاه الله مثل أجر من صلاها وحضرها لا ينقص ذلك من أجرهم شيئا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 856 کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 856  
856 ۔ اردو حاشیہ: اس شخص کی نیت جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے ہی کی تھی، پھر اس نے کوئی کوتاہی بھی نہیں کی بلکہ اپنی پوری کوشش کی لیکن پھر بھی جماعت نہ مل سکی۔ اس نے افسوس کیا تو اس کی نیت اور کوشش کے لحاظ سے اسے جماعت کا ثواب ملے گا، بشرطیکہ وہ جماعت کا پابند ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس سے مراد وہ شخص نہیں جو نماز باجماعت میں سستی کا عادی ہے یا زیادہ پروا نہیں کرتا۔ مل جائے تو ٹھیک، نہ ملے تو کوئی افسوس نہیں۔ ایسے شخص کے لیے کم از کم ایک رکعت باجماعت پڑھنے کی صورت میں جماعت کا ثواب ملے گا، کم میں نہیں۔ اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 580، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 607]

   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 856   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 564  
´جو نماز کے ارادہ سے نکلا لیکن اس کی جماعت چھوٹ گئی۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 564]
564. اردو حاشیہ:
 یہ فضل عظیم اس شخص کی حسن نیت اور جہد کامل کی بنا پر ہوتا ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 564   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.