سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ
The Book on the Description of Hellfire
9. باب مَا جَاءَ أَنَّ لِلنَّارِ نَفَسَيْنِ وَمَا ذُكِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ
9. باب: جہنم کے لیے دو سانس ہیں اور جہنم سے موحدین باہر نکالے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 2593
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(قدسي) حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، وهشام , عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " يخرج من النار، وقال شعبة: اخرجوا من النار من قال: لا إله إلا الله، وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة، اخرجوا من النار من قال: لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة، اخرجوا من النار من قال: لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة " , وقال شعبة: ما يزن ذرة مخففة، وفي الباب عن جابر، وابي سعيد، وعمران بن حصين , قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.(قدسي) حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، وَقَالَ شُعْبَةُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مِنَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً " , وَقَالَ شُعْبَةُ: مَا يَزِنُ ذُرَةً مُخَفَّفَةً، وفي الباب عن جَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے نکلے گا (شعبہ نے اپنی روایت میں کہا ہے: (اللہ تعالیٰ کہے گا، اسے جہنم سے نکال لو) جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھلائی تھی۔ (شعبہ نے کہا ہے: جوار کے برابر بھلائی تھی)۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں جابر، ابو سعید خدری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الإیمان 33 (44)، والتوحید 19 (7410) (في سیاق حدیث الشفاعة الکبری) و 36 (7509)، صحیح مسلم/الإیمان 83 (193/325) (تحفة الأشراف: 1272، و1356)، و مسند احمد (3/116، 173، 248، 276) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4312)

   صحيح البخاري44أنس بن مالكيخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن شعيرة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن برة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن ذرة من خير
   صحيح مسلم478أنس بن مالكيخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة
   جامع الترمذي2593أنس بن مالكأخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة أخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة أخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة
   سنن ابن ماجه4312أنس بن مالكيخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال شعيرة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال برة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال ذرة من خير
   المعجم الصغير للطبراني823أنس بن مالك أخرجوا من النار من كان فى قلبه مثقال شعيرة من إيمان ، ثم يقول : أخرجوا من النار من كان فى قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان ، ثم يقول : وعزتي وجلالي : لا أجعل من آمن بي ساعة من ليل أو نهار كمن لا يؤمن بي
   مسندالحميدي1238أنس بن مالكفآخذ بحلقة الجنة فأقعقعها

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4312  
´شفاعت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، (یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے)، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قاب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4312]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
 
(1)
قیامت کے مراحل انتہائی شدید ہون گے لہٰذا ان مراحل میں آسانی کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکییاں کرنےکی اور برائیوں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(2)
انبیاء کرام پر بھی قیامت کے دن خشیت الہی کی کیفیت کا غلبہ ہوگا اور انھیں اپنی معاف شدہ لغزشیں بھی بڑے گناہوں کی طرح۔
خطرناک محسوس ہوگی۔

(3)
لوگ انبیاء کرام کو انکا بلند مقام اور فضائل یاد دلا کر کوشش کریں گے کہ وہ اللہ سے انکی شفاعت کریں لیکن ہر نبی دوسرے نبی کے پاس جانے کا مشورہ دے کر خود شفاعت کرنے سے معذرت کرلے گا۔

(4)
شفاعت کبرٰی کا مقام نبیﷺ کے لیے مخصوص ہے۔
اس لیے جب نبیﷺ کو کہا جائیگا تو آپﷺ معذرت نہیں کریں گے۔

(5)
آپﷺ کے قلب مبارک میں بھی اللہ تعالی کی عظمت کا احساس پوری طرح موجود ہوگا اس لیے براہ راست اصل مقصود عرض کرنے کی بجائےپہلے سجدہ کرکے اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں گے۔

(6)
سجدہ بندے کو اللہ کا قرب بخشنے والی عظیم عبادت ہےاور دعا کے آداب میں یہ شامل ہے۔
کہ پہلے حمد و ثناء بیان کی جائےاور درود پڑھا جائے پھر دعا کی جائے۔

(7)
رسولﷺ اللہ تعالی سے اجازت طلب کریں گے۔
پھر مقام شفاعت پہ تشریف لے جائیں گے۔
کیونکہ اللہ تعالی مالک الملک اور شہنشاہ ہے۔
اور نبیﷺ اس کے ایک مقرب بندے ہیں جو درخواست پیش کر سکتے ہیں۔
اور قبولیت کی امید رکھ سکتے ہیں لیکن اللہ کے حکم کے برعکس کچھ نہیں کر سکتے۔

(8)
رسولﷺ عالم الغیب نہیں تھے اس لیے اللہ کی اس وقت جو تعریفیں کریں گے وہ اسی وقت سکھائی جائیں گی۔
پہلے سے معلوم نہیں ہوگی۔

(9)
رسول اللہﷺ بھی اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں فرمائیں گے اور جو شفاعت ملے گی وہ بھی لامحدود نہیں ہوگی۔

(10)
سب لوگوں کے ایمان برابر نہیں ہوتے بلکہ کم و بیش ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک شخص کے ایمان میں بھی اس کے اعمال کی وجہ سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
جنھیں قرآن نے روک دیا وہ نبی پہ ایمان نہ لانے والے اور شرک اکبر کے مرتکب اعتقادی اور منافق ہے۔
جن پہ جنت حرام ہے۔
ان کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4312   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.