الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
Chapters on Seeking Permission
12. باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
12. باب: ذمیوں سے سلام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2701
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، قالت: إن رهطا من اليهود دخلوا على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: السام عليك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " عليكم "، فقالت عائشة: بل عليكم السام واللعنة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عائشة " إن الله يحب الرفق في الامر كله " , قالت عائشة: الم تسمع ما قالوا؟ قال: " قد قلت: عليكم " , وفي الباب عن ابي بصرة الغفاري، وابن عمر، وانس، وابي عبد الرحمن الجهني , قال ابو عيسى: حديث عائشة حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ " , قَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " قَدْ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ " , وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» تم پر موت و ہلاکت آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: «عليكم» ۱؎، عائشہ نے (اس پر دو لفظ بڑھا کر) کہا «بل عليكم السام واللعنة» بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے، عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابو بصرہ غفاری، ابن عمر، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الستتابة المرتدین 4 (6927)، صحیح مسلم/السلام 4 (2165) (تحفة الأشراف: 16437)، و مسند احمد (6/199) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: گویا آپ نے «عليكم» کہہ کر یہود کی بد دعا خود انہیں پر لوٹا دی۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الروض النضير (764)

   صحيح البخاري6030عائشة بنت عبد اللهأولم تسمعي ما قلت رددت عليهم فيستجاب لي فيهم ولا يستجاب لهم في
   صحيح البخاري6927عائشة بنت عبد اللهالله رفيق يحب الرفق في الأمر كله قلت أولم تسمع ما قالوا قال قلت وعليكم
   صحيح البخاري6024عائشة بنت عبد اللهالسام عليكم قالت عائشة ففهمتها فقلت وعليكم السام واللعنة الله يحب الرفق في الأمر كله فقلت يا رسول الله أولم تسمع ما قالوا قال رسول الله
   صحيح البخاري2935عائشة بنت عبد اللهالسام عليك فلعنتهم فقال ما لك قلت أولم تسمع ما قالوا قال فلم تسمعي ما قلت وعليكم
   صحيح البخاري6401عائشة بنت عبد اللهعليك بالرفق إياك والعنف أو الفحش رددت عليهم فيستجاب لي فيهم ولا يستجاب لهم في
   صحيح البخاري6395عائشة بنت عبد اللهالله يحب الرفق في الأمر كله أرد ذلك عليهم فأقول وعليكم
   صحيح البخاري6256عائشة بنت عبد اللهالله يحب الرفق في الأمر كله قلت وعليكم
   صحيح مسلم5658عائشة بنت عبد اللهوعليكم قالت عائشة قلت بل عليكم السام والذام لا تكوني فاحشة
   صحيح مسلم6602عائشة بنت عبد اللهالرفق لا يكون في شيء إلا زانه لا ينزع من شيء إلا شانه
   صحيح مسلم6601عائشة بنت عبد اللهالله رفيق يحب الرفق يعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف وما لا يعطي على ما سواه
   صحيح مسلم5656عائشة بنت عبد اللهالله يحب الرفق في الأمر كله قلت وعليكم
   جامع الترمذي2701عائشة بنت عبد اللهالله يحب الرفق في الأمر كله ألم تسمع ما قالوا قال قد قلت عليكم
   سنن أبي داود2478عائشة بنت عبد اللهارفقي فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه لا نزع من شيء قط إلا شانه
   سنن أبي داود4808عائشة بنت عبد اللهارفقي فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه لا نزع من شيء قط إلا شانه
   سنن ابن ماجه3698عائشة بنت عبد اللهالسام عليك يا أبا القاسم فقال وعليكم
   سنن ابن ماجه3689عائشة بنت عبد اللهالله رفيق يحب الرفق في الأمر كله
   المعجم الصغير للطبراني1004عائشة بنت عبد اللهالله رفيق يحب الرفق في الأمر كله
   مسندالحميدي250عائشة بنت عبد اللهعليكم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3689  
´نرمی اور ملائمیت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور سارے کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3689]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
دعوت و تبلیغ میں نرمی کا انداز نہایت مفید ہے، تاہم درست موقف میں نرمی پیدا کر لینا باطل کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔
جن معاملات میں شریعت میں آسانی ہے ان میں خواہ مخواہ سخت پہلو اختیار کرنا بھی غلط ہے اور اس پر اصرار کرنا مزید غلطی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3689   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2701  
´ذمیوں سے سلام کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» تم پر موت و ہلاکت آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: «عليكم» ۱؎، عائشہ نے (اس پر دو لفظ بڑھا کر) کہا «بل عليكم السام واللعنة» بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو۔‏‏‏‏ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے، عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2701]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
گویا آپﷺ نے  «عليكم»  کہہ کر یہود کی بد دعا خود انہیں پر لوٹا دی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2701   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2478  
´ہجرت کا ذکر اور صحراء و بیابان میں رہائش کا بیان۔`
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء و بیابان (میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2478]
فوائد ومسائل:

اس روایت کا پہلا حصہ (ھذہ التلاع) صحیح ثابت نہیں۔
(علامہ البانی) تاہم تدبر فی الانفس کی نیت سے آدمی کس وقت عزلت وتنہائی اختیار کرلے تو مفید ہے۔
جس کی صورت اعتکاف ہے۔
نہ کہ صوفیاء کی سیاحت۔


جب حیوانات سے نرم خوئی ممدوح اور مطلوب ہے۔
تو انسانوں سے یہ معاملہ اور بھی زیادہ باعث اجر وثواب ہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2478   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.