الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
23. باب فَضْلِ الرِّفْقِ:
23. باب: نرمی کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 6601
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا حرملة بن يحيي التجيبي ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني حيوة ، حدثني ابن الهاد ، عن ابي بكر بن حزم ، عن عمرة يعني بنت عبد الرحمن ، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: يا عائشة: " إن الله رفيق يحب الرفق، ويعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف، وما لا يعطي على ما سواه ".حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا عَائِشَةُ: " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ ".
) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی کی بنا پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو درشت مزاجی کی بنا پر عطا نہیں فرماتا، وہ اس کے علاوہ کسی بھی اور بات پر اتنا عطا نہیں فرماتا۔"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!بے شک اللہ رفیق ہے(سہولت و آسانی پیدا کرتا ہے)نرمی اور ملا ئمت کو محبوب رکھتا ہے اور وہ نرمی و مہربانی پر اتنا دیتا ہے جتنا کہ درشتی اور سختی پر نہیں دیتا اور جتنا کہ نرمی کے سوا کسی ہر چیز پر نہیں دیتا۔"
ترقیم فوادعبدالباقی: 2593

   صحيح البخاري6030عائشة بنت عبد اللهأولم تسمعي ما قلت رددت عليهم فيستجاب لي فيهم ولا يستجاب لهم في
   صحيح البخاري6927عائشة بنت عبد اللهالله رفيق يحب الرفق في الأمر كله قلت أولم تسمع ما قالوا قال قلت وعليكم
   صحيح البخاري6024عائشة بنت عبد اللهالسام عليكم قالت عائشة ففهمتها فقلت وعليكم السام واللعنة الله يحب الرفق في الأمر كله فقلت يا رسول الله أولم تسمع ما قالوا قال رسول الله
   صحيح البخاري2935عائشة بنت عبد اللهالسام عليك فلعنتهم فقال ما لك قلت أولم تسمع ما قالوا قال فلم تسمعي ما قلت وعليكم
   صحيح البخاري6401عائشة بنت عبد اللهعليك بالرفق إياك والعنف أو الفحش رددت عليهم فيستجاب لي فيهم ولا يستجاب لهم في
   صحيح البخاري6395عائشة بنت عبد اللهالله يحب الرفق في الأمر كله أرد ذلك عليهم فأقول وعليكم
   صحيح البخاري6256عائشة بنت عبد اللهالله يحب الرفق في الأمر كله قلت وعليكم
   صحيح مسلم5658عائشة بنت عبد اللهوعليكم قالت عائشة قلت بل عليكم السام والذام لا تكوني فاحشة
   صحيح مسلم6602عائشة بنت عبد اللهالرفق لا يكون في شيء إلا زانه لا ينزع من شيء إلا شانه
   صحيح مسلم6601عائشة بنت عبد اللهالله رفيق يحب الرفق يعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف وما لا يعطي على ما سواه
   صحيح مسلم5656عائشة بنت عبد اللهالله يحب الرفق في الأمر كله قلت وعليكم
   جامع الترمذي2701عائشة بنت عبد اللهالله يحب الرفق في الأمر كله ألم تسمع ما قالوا قال قد قلت عليكم
   سنن أبي داود2478عائشة بنت عبد اللهارفقي فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه لا نزع من شيء قط إلا شانه
   سنن أبي داود4808عائشة بنت عبد اللهارفقي فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه لا نزع من شيء قط إلا شانه
   سنن ابن ماجه3698عائشة بنت عبد اللهالسام عليك يا أبا القاسم فقال وعليكم
   سنن ابن ماجه3689عائشة بنت عبد اللهالله رفيق يحب الرفق في الأمر كله
   المعجم الصغير للطبراني1004عائشة بنت عبد اللهالله رفيق يحب الرفق في الأمر كله
   مسندالحميدي250عائشة بنت عبد اللهعليكم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3689  
´نرمی اور ملائمیت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور سارے کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3689]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
دعوت و تبلیغ میں نرمی کا انداز نہایت مفید ہے، تاہم درست موقف میں نرمی پیدا کر لینا باطل کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔
جن معاملات میں شریعت میں آسانی ہے ان میں خواہ مخواہ سخت پہلو اختیار کرنا بھی غلط ہے اور اس پر اصرار کرنا مزید غلطی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3689   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2701  
´ذمیوں سے سلام کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» تم پر موت و ہلاکت آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: «عليكم» ۱؎، عائشہ نے (اس پر دو لفظ بڑھا کر) کہا «بل عليكم السام واللعنة» بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو۔‏‏‏‏ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے، عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2701]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
گویا آپﷺ نے  «عليكم»  کہہ کر یہود کی بد دعا خود انہیں پر لوٹا دی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2701   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2478  
´ہجرت کا ذکر اور صحراء و بیابان میں رہائش کا بیان۔`
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء و بیابان (میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2478]
فوائد ومسائل:

اس روایت کا پہلا حصہ (ھذہ التلاع) صحیح ثابت نہیں۔
(علامہ البانی) تاہم تدبر فی الانفس کی نیت سے آدمی کس وقت عزلت وتنہائی اختیار کرلے تو مفید ہے۔
جس کی صورت اعتکاف ہے۔
نہ کہ صوفیاء کی سیاحت۔


جب حیوانات سے نرم خوئی ممدوح اور مطلوب ہے۔
تو انسانوں سے یہ معاملہ اور بھی زیادہ باعث اجر وثواب ہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2478   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6601  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض لوگ اپنے معاملہ اور برتاؤ میں سخت گیر ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی سخت گیری سے وہ کچھ حاصل کر لیتا ہے،
جو نرمی سے حاصل نہیں ہو سکتا،
گویا ان کے نزدیک درشتی اور سختی اور دشوار پسندی کار برآری کا ذریعہ اور حصول مقاصد کی کنجی ہے،
آپ نے اس کی اصلاح فرماتے ہوئے،
پہلے تو نرم خوئی کی عظمت اور صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ اللہ کی ذاتی صفت ہے،
اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ محبوب ہے کہ اس کے بندے بھی باہمی معاملہ اور برتاؤ میں نرمی اپنائیں،
پھر بتایا کہ مقاصد کا پورا ہونا یا نہ ہونا اور کسی چیز کا ملنا یا نہ ملنا تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے،
جو کچھ ہوتا ہے،
اس کے فیصلہ اور مشیت سے ہوتا ہے اور اس کا ضابطہ یہ ہے کہ وہ نرمی پر اس قدر دیتا ہے،
جس قدر درشتی اور سختی پر نہیں دیتا بلکہ نرمی کے علاوہ کسی چیز پر بھی اتنا نہیں دیتا جس قدر نرمی پر دیتا ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6601   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.