الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
5. باب جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ:
5. باب: سفر میں نمازوں کے جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1623
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا يحيى بن يحيى ، وقتيبة بن سعيد ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد كلهم، عن ابن عيينة ، قال عمرو، حدثنا سفيان ، عن الزهري ، عن سالم ، عن ابيه ، رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم، " يجمع بين المغرب والعشاء، إذا جد به السير ".وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كلهم، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ".
سفیان نے (ابن شہاب) زہری سے، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کرلیتے تھے۔
سالم اپنے باپ (ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب ان کو تیز چلنا مقصود ہوتا تو مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے تھے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 703
   صحيح البخاري3000عبد الله بن عمرإذا جد به السير أخر المغرب وجمع بينهما
   صحيح البخاري1109عبد الله بن عمرإذا أعجله السير في السفر يؤخر صلاة المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء
   صحيح البخاري1805عبد الله بن عمرإذا جد به السير أخر المغرب وجمع بينهما
   صحيح البخاري1092عبد الله بن عمرإذا أعجله السير يؤخر المغرب فيصليها ثلاثا ثم يسلم ثم قلما يلبث حتى يقيم العشاء فيصليها ركعتين ثم يسلم ولا يسبح بعد العشاء حتى يقوم من جوف الليل
   صحيح مسلم1622عبد الله بن عمرإذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء
   صحيح مسلم1623عبد الله بن عمريجمع بين المغرب والعشاء إذا جد به السير
   صحيح مسلم3112عبد الله بن عمرصلى المغرب بجمع والعشاء بإقامة
   صحيح مسلم1621عبد الله بن عمرإذا عجل به السير جمع بين المغرب والعشاء
   صحيح مسلم1624عبد الله بن عمرإذا أعجله السير في السفر يؤخر صلاة المغرب حتى يجمع بينها وبين صلاة العشاء
   جامع الترمذي555عبد الله بن عمراستغيث على بعض أهله فجد به السير فأخر المغرب حتى غاب الشفق ثم نزل فجمع بينهما ثم أخبرهم أن رسول الله كان يفعل ذلك إذا جد به السير
   سنن أبي داود1217عبد الله بن عمرإذا جد به السير صلى صلاتي هذه
   سنن أبي داود1913عبد الله بن عمرغدا رسول الله من منى حين صلى الصبح صبيحة يوم عرفة حتى أتى عرفة فنزل بنمرة وهي منزل الإمام الذي ينزل به بعرفة حتى إذا كان عند صلاة الظهر راح رسول الله مهجرا فجمع بين الظهر والعصر ثم خطب الناس ثم راح فوقف على الموقف من عرفة
   سنن أبي داود1209عبد الله بن عمرما جمع رسول الله بين المغرب والعشاء قط في السفر إلا مرة
   سنن أبي داود1207عبد الله بن عمرإذا عجل به أمر في سفر جمع بين هاتين الصلاتين فسار حتى غاب الشفق فنزل فجمع بينهما
   سنن النسائى الصغرى596عبد الله بن عمرإذا عجل به السير صنع هكذا
   سنن النسائى الصغرى589عبد الله بن عمرإذا حضر أحدكم الأمر الذي يخاف فوته فليصل هذه الصلاة
   سنن النسائى الصغرى598عبد الله بن عمرإذا حضر أحدكم أمر يخشى فوته فليصل هذه الصلاة
   سنن النسائى الصغرى597عبد الله بن عمرصلى وغاب الشفق فصلى العشاء ثم أقبل علينا فقال هكذا كنا نصنع مع رسول الله إذا جد به السير
   سنن النسائى الصغرى600عبد الله بن عمرإذا جد به السير أو حزبه أمر جمع بين المغرب والعشاء
   سنن النسائى الصغرى599عبد الله بن عمرإذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم173عبد الله بن عمر إذا عجل به السير يجمع بين المغرب والعشاء
   مسندالحميدي628عبد الله بن عمررأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء
   مسندالحميدي697عبد الله بن عمرفلما غاب الشفق نزل فصلى المغرب بنا ثلاثا ثم سلم، وصلى العشاء ركعتين

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 173  
´سفر میں دو نمازیں جمع کرنا`
«. . . وبه: قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عجل به السير يجمع بين المغرب والعشاء . . .»
. . . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جب جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر لیتے تھے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 173]

تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 703، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ سفر میں دو نمازیں مثلا مغرب اور عشاء یا ظہر اور عصرجمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔
➋ مزید فوائد کے لئے دیکھئے [موطأ امام مالك ح 488، 190، 109، 108، البخاري 4414، 139، ومسلم: 1280، 705، 2281]
➌ جب بارش میں حکمران مغرب اور عشاء کی نماز میں جمع کرتے تھے تو سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ جمع کر لیتے تھے۔ ديكهئے [الموطا 145/1 ح 329 وسنده صحيح]
➍ مدینہ طیبہ کے مشہور تابعی اور فقیہ امام سالم بن عبداللہ بن عمر بن الخطاب رحمہ اللہ نے سفر میں ظہر اور عصر کی نمازوں کے جمع کرنے کے بارے میں فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ الخ [الموطا 145/1 ح 330 وسنده صحيح]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 199   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 589  
´جمع بین الصلاتین کا بیان۔`
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم) کی نماز کے بارے میں پوچھا، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید (جو ان کے عقد میں تھیں) نے انہیں لکھا، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے (یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم سوار ہوئے، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئیے، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہو گیا، تو سواری سے اترے اور بولے: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو (پھر) تکبیر کہو، ۲؎ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، انہوں نے کہا: جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے، تو سواری سے اترے، پھر مؤذن سے کہا: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو، تو انہوں نے نماز پڑھی، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح (جمع کر کے) نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 589]
589 ۔ اردو حاشیہ: اس حدیث میں احتمال ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جمع تقدیم کی یا تاخیر یا پھر صوری؟ تینوں کا احتمال ہے، تاہم حدیث: 592سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمع تاخیر کی تھی۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 589   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 596  
´مسافر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، وہ اپنی زمین (کھیتی) کا ارادہ کر رہے تھے، اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آپ کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید سخت بیمار ہیں تو آپ جا کر ان سے مل لیجئے، چنانچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلے اور ان کے ساتھ ایک قریشی تھا وہ بھی ساتھ جا رہا تھا، آفتاب غروب ہوا تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کی بڑی محافظت کرتے ہیں، تو جب انہوں نے تاخیر کی تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے لگی تو اترے، اور مغرب پڑھی، پھر عشاء کی تکبیر کہی، اس وقت شفق غائب ہو گئی تھی، انہوں نے ہمیں (عشاء کی) نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 596]
596 ۔ اردو حاشیہ: اس روایت میں بظاہر جمع صوری کا ذکر ہے جب کہ پچھلی روایات میں جمع تاخیر کا، گویا دونوں جائز ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ان روایات کو تعددِ واقعہ پر محمول کیا ہے، یعنی کبھی نمازیں جمع حقیقی کی صورت میں اور کبھی جمع صوری کی شکل میں ادا کیں، لہٰذا اس طرح روایات میں کوئی تعارض نہیں رہتا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [فتح الباري: 2؍750، 751، حدیث: 1109]
نیز بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اہلیہ مدینے میں تھیں اور آپ مکہ میں تو اس طرح مدینہ پہنچنے تک تین دن لگے تھے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبٰی شرح سنن النسائي للإتیوبي: 7؍274]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 596   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 597  
´مسافر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے (اور برابر چلتے رہے) یہاں تک کہ ہم نے شام کر لی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چنانچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی ۱؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 597]
597 ۔ اردو حاشیہ: مزید دیکھیے سنن نسائی حدیث: 589۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 597   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 600  
´جمع بین الصلاتین کے احوال و ظروف کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا، تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 600]
600 ۔ اردو حاشیہ: مذکورہ روایت صحیح ہے، البتہ اس روایت کے الفاظ «أَوْ حَزَبَهُ أَمْرٌ» یا کوئی مسئلہ آپ کو بے چین کرتا۔ ‘ کو محققین نے شاذ قرار دیا ہے۔ محقق کتاب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ جملہ صرف مجھے یہاں ہی ملا ہے کسی اور جگہ نہیں ملا۔ دیکھیے: [صحیح سنن النسائي للألباني، حدیث: 598]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 600   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 555  
´دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کی ایک بیوی ۱؎ کے حالت نزع میں ہونے کی خبر دی گئی تو انہیں چلنے کی جلدی ہوئی چنانچہ انہوں نے مغرب کو مؤخر کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی، وہ سواری سے اتر کر مغرب اور عشاء دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا، پھر لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے تھے ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 555]
اردو حاشہ:
1؎:
ان کا نام صفیہ بنت ابی عبید ہے۔

2؎:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور بہت سے علماء کا یہی قول ہے کہ دو نمازوں کے درمیان جمع اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب آدمی سفر میں چلتے رہنے کی حالت میں ہو،
اگر مسافر کہیں مقیم ہو تو اسے ہر نماز اپنے وقت ہی پر پڑھنی چاہئے،
اور احتیاط بھی اسی میں ہے،
ویسے میدان تبوک میں حالتِ قیام میں آپ ﷺ سے جمع بین الصلاتین ثابت ہے،
لیکن اسے بیانِ جواز پر محمول کیا جاتا ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 555   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1209  
´دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث «ایوب عن نافع عن ابن عمر» سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1209]
1209۔ اردو حاشیہ:
یہ ر وایت مرفوعاً صحیح ثابت نہیں ہے، البتہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل ثابت ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1209   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.