الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
زکاۃ کے احکام و مسائل
31. باب بَيَانِ أَنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ صَدَقَةُ الصَّحِيحِ الشَّحِيحِ:
31. باب: خوش حالی اور تندرستی میں صدقہ کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2383
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابن نمير ، قالا: حدثنا ابن فضيل ، عن عمارة ، عن ابي زرعة ، عن ابي هريرة ، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله اي الصدقة اعظم اجرا؟، فقال: " اما وابيك لتنبانه ان تصدق وانت صحيح شحيح، تخشى الفقر وتامل البقاء، ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم "، قلت: لفلان كذا، ولفلان كذا، وقد كان لفلان،وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟، فَقَالَ: " أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ "، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ،
ابن فضیل نے عمارہ سے انھوں نے ابو زرعہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول!! کون سا صدقہ اجر میں برا ہے؟ آپ نے فرمایا: " ہاں تمھا رے باپ کا بھلا ہو تمھیں اس بات سے آگا ہ کیا جا ئے گا وہ یہ کہ تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور لمبی زندگی کی امید رکھتے ہو اور (خود کو) اس قدر مہلت نہ دو کہ جب تمھا ری جان حلق تک پہنچ جا ئے تو پھر (وصیت کرتے ہوئے) کہو فلا ں کا اتنا ہے اور فلا ں کا اتنا ہے وہ تو فلا ں کا ہو ہی چکا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا! اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سے صدقہ کا اجر سب سے زیادہ ہے؟ تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تیرے باپ کی قسم! تجھے ضرور اس سے آگاہ کیا جائے گا۔ تم اس وقت کرو جبکہ تندرست حریص ہو فقرو احتیاج کا تمھیں خطرہ ہو اور زندگی امید ہو اور اس قدر تاخیر نہ کر کہ جب تیری جان حلق تک پہنچ جائے تو پھر کہے فلاں کا اتنا ہے اور فلاں کا اتنا ہے۔ وہ تو فلاں کا ہو چکا ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1032
   سنن النسائى الصغرى2543عبد الرحمن بن صخرتصدق وأنت صحيح شحيح تأمل العيش وتخشى الفقر
   سنن النسائى الصغرى3641عبد الرحمن بن صخرتصدق وأنت صحيح شحيح تخشى الفقر وتأمل البقاء ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا وقد كان لفلان
   صحيح البخاري2748عبد الرحمن بن صخرتصدق وأنت صحيح حريص تأمل الغنى وتخشى الفقر ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم
   صحيح البخاري1419عبد الرحمن بن صخرتصدق وأنت صحيح شحيح تخشى الفقر وتأمل الغنى ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا ولفلان كذا وقد كان لفلان
   صحيح مسلم2383عبد الرحمن بن صخرتصدق وأنت صحيح شحيح تخشى الفقر وتأمل البقاء ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم
   صحيح مسلم2382عبد الرحمن بن صخرتصدق وأنت صحيح شحيح تخشى الفقر وتأمل الغنى ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم
   سنن أبي داود2865عبد الرحمن بن صخرتصدق وأنت صحيح حريص تأمل البقاء وتخشى الفقر ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم
   مسندالحميدي1151عبد الرحمن بن صخرأمك

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2865  
´وصیت سے (ورثہ کو) نقصان پہنچانے کی کراہت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو، اور تمہیں زندگی کی امید ہو، اور محتاجی کا خوف ہو، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ: فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اتنا، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہو چکا ہو گا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2865]
فوائد ومسائل:
تندرستی کے ایام میں اور اپنی ضروریات کو بالائے طاق رکھ کر جو صدقہ کیا جائے وہ افضل ہے۔
اور موت کے وقت صدقہ کرنا اپنے وارثوں کے حق میں دخل اندازی اور ان کے حق کو قائم کرنا ہے۔
جو کسی طرح مناسب نہیں۔
اس لئے شریعت نے جانکنی کے وقت ثلث مال سے زیادہ صدقہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2865   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2383  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپﷺ نے (وابيك)
عربی محاورہ کے مطابق محض کلام میں زور تاکید پیدا کرنے کے لیے فرمایا قسم مقصود نہ تھی یا محض اس کے سوال پر حیرت و استعجاب کا اظہار کرنا تھا اور آپﷺ کا مقصد یہ تھا صدقہ کرنے میں عجلت سے کام لینا چاہیے معلوم نہیں کب موت آ جائے یا نیت بدل جائے اور صحیح سے مراد یہ ہے کہ تندرست ہو یا کسی خطرناک اور موذی بیماری میں مبتلا نہ ہو شحیح کا معنی یہ ہے کہ ضروریات زندگی کے لیے مال کا حریص اور خواہش مند ہو محض جذبہ خیر کی قوت ہی صدقہ کرنے کا باعث ہو۔
اگر اپنی ضروریات کو ترجیح دیتا تو خرچ نہ کرتا کفایت شعاری سے کام لے کر صدقہ کیا۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 2383   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.