الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
لباس اور زینت کے احکام
7. باب جَوَازِ اتِّخَاذِ الأَنْمَاطِ:
7. باب: قالین یا سوزینوں کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 5449
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد، وعمرو الناقد، وإسحاق بن إبراهيم، واللفظ لعمرو وقال عمرو وقتيبة : حدثنا، وقال إسحاق : اخبرنا سفيان ، عن ابن المنكدر ، عن جابر ، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لما تزوجت اتخذت انماطا؟ "، قلت: وانى لنا انماط، قال: " اما إنها ستكون ".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وإسحاق بن إبراهيم، واللفظ لعمرو وَقَالَ عَمْرٌو وَقُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا تَزَوَّجْتُ اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا؟ "، قُلْتُ: وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ ".
قتیبہ بن سعید، عمروناقد اور اسحٰق بن ابرا ہیم نے کہا: ہمیں سفیان نے ابن منکدرسے حدیث بیان کی، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پو چھا: "کہا تم نے بچھونوں کے غلا ف بنا ئے ہیں؟"میں نے عرض کی، ہمارے پاس غلا ف کہاں سے آئے؟ آپ نے فرما یا: " اب عنقریب ہو ں گے۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیا تم نے قالین رکھے ہیں؟ میں نے عرض کیا، ہمارے ہاں قالین کہاں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اب جلد ہی ہوں گے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2083
   صحيح البخاري5161جابر بن عبد اللهلنا أنماط قال إنها ستكون
   صحيح البخاري3631جابر بن عبد اللهستكون لكم الأنماط فأدعها
   صحيح مسلم5450جابر بن عبد اللهلنا أنماط قال أما إنها ستكون
   صحيح مسلم5449جابر بن عبد اللهلنا أنماط قال أما إنها ستكون
   جامع الترمذي2774جابر بن عبد اللههل لكم أنماط قلت وأنى تكون لنا أنماط
   سنن أبي داود4145جابر بن عبد اللهستكون لكم أنماط
   سنن النسائى الصغرى3388جابر بن عبد اللهلنا أنماط قال إنها ستكون
   مسندالحميدي1262جابر بن عبد اللهيا جابر أتخذتم أنماطا؟

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2774  
´غالیچہ (چھوٹے قالین) رکھنے کی رخصت کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس «انماط» (غالیچے) ہیں؟ میں نے کہا: غالیچے ہمارے پاس کہاں سے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: تمہارے پاس عنقریب «انماط» (غالیچے) ہوں گے۔‏‏‏‏ (تو اب وہ زمانہ آ گیا ہے) میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ تم اپنے «انماط» (غالیچے) مجھ سے دور رکھو۔ تو وہ کہتی ہے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ کہا تھا کہ تمہارے پاس «انماط» ہوں گے، تو میں اس سے درگزر کر جاتا ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2774]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپﷺ نے جوپیشین گوئی کی تھی کہ مسلمان مالدار ہو جائیں گے،
اورعیش وعشرت کی ساری چیزیں انہیں میسر ہوں گی بحمد اللہ آج مسلمان آپﷺ کی اس پیشین گوئی سے پوری طرح مستفید ہو رہے ہیں،
اس حدیث سے غالیچے رکھنے کی اجازت کا پتا چلتا ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2774   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4145  
´بستر اور بچھونے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے توشک اور گدے بنا لیے؟ میں نے عرض کیا: ہمیں گدے کہاں میسر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4145]
فوائد ومسائل:
مسلمان کا بستر بھی صاف ستھرا اور نفیس ہو تو زہد کے خلاف نہی ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4145   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5449  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
انماط:
نمط کی جمع ہے،
بستر کے ابرہ یعنی دہرے کپڑے کی اوپر کی تہہ کو یا بستر پوش کو کہتے ہیں،
قالین اور غالیچہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں آپ نے فتوحات کے سبب مال و دولت کے حصول اور آسائشوں کی فراہمی کی پیشن گوئی فرمائی،
جو حرف بحرف پوری ہوئی،
خلفائے راشدین کے دور میں فتوحات کے نتیجہ میں مسلمانوں کو ہر قسم کی سہولتیں اور آسانیاں میسر آئیں۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 5449   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.