الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
27. باب تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ:
27. باب: جھوٹ حرام ہے لیکن کسی حد تک درست ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 6633
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني حرملة بن يحيي ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، اخبرني حميد بن عبد الرحمن بن عوف : ان امه ام كلثوم بنت عقبة بن ابي معيط ، وكانت من المهاجرات الاول اللاتي بايعن النبي صلى الله عليه وسلم، اخبرته انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو يقول: " ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس ويقول خيرا وينمي خيرا "، قال ابن شهاب: ولم اسمع يرخص في شيء، مما يقول: الناس كذب إلا في ثلاث: الحرب، والإصلاح بين الناس، وحديث الرجل امراته، وحديث المراة زوجها.حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: " لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْءٍ، مِمَّا يَقُولُ: النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ، وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے خبر دی کہ ان کی والدہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی۔ انہوں نے اسے (اپنے بیٹے کو) خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: "وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں میں صلح کرائے اور اچھی بات کہے اور اچھی بات پہنچائے۔" ابن شہاب نے کہا: لوگ جو جھوٹی باتیں کرتے ہیں، میں نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کے بارے میں نہیں سنا کہ ان کی اجازت دی گئی ہے: جنگ اور جہاد میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے اور خاوند کا اپنی بیوی سے (اسے راضی کرنے کی) بات اور عورت کی اپنے خاوند سے (اسے راضی کرنے کے لیے) بات۔"
حضرت اُم کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو پہلے ہجرت کرنے والیوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں سے ہیں بیان کرتی ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے وہ جھوٹا نہیں ہے، اچھی بات کہتا ہے اور اچھی بات دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے۔"ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں لوگ جس کو جھوٹ کہتے ہیں میں نے اس کی صرف تین مواقع پر رخصت سنی ہے، جنگ و جہاد لوگوں کے درمیان صلح کرانا اور مرد کا اپنی بیوی سے بات کرنا اور بیوی کی اپنے خاوند سے گفتگو۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2605
   صحيح البخاري2692أم كلثوم بنت عقبةليس الكذاب الذي يصلح بين الناس فينمي خيرا أو يقول خيرا
   صحيح مسلم6633أم كلثوم بنت عقبةليس الكذاب الذي يصلح بين الناس ويقول خيرا وينمي خيرا
   جامع الترمذي1938أم كلثوم بنت عقبةليس بالكاذب من أصلح بين الناس فقال خيرا أو نمى خيرا
   سنن أبي داود4921أم كلثوم بنت عقبةلا أعده كاذبا الرجل يصلح بين الناس يقول القول ولا يريد به إلا الإصلاح الرجل يقول في الحرب الرجل يحدث امرأته والمرأة تحدث زوجها
   سنن أبي داود4920أم كلثوم بنت عقبةلم يكذب من نمى بين اثنين ليصلح
   المعجم الصغير للطبراني661أم كلثوم بنت عقبةلا أعدهن كذبا الرجل يصلح بين الناس يريد به الإصلاح الرجل يقول القول في الحرب الرجل يحدث امرأته والمرأة تحدث زوجها
   المعجم الصغير للطبراني674أم كلثوم بنت عقبةليس بكذاب من أصلح بين الناس فقال خيرا أو نمى خيرا
   مسندالحميدي331أم كلثوم بنت عقبةلا فلا يحب الله الكذب

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1938  
´آپس میں صلح کرانے کا بیان۔`
ام کلثوم بنت عقبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور وہ (خود ایک طرف سے دوسرے کے بارے میں) اچھی بات کہے، یا اچھی بات بڑھا کر بیان کرے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1938]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
لوگوں کے درمیان صلح ومصالحت کی خاطر اچھی باتوں کا سہارا لے کر جھوٹ بولنا درست ہے،
یہ اس جھوٹ کے دائرہ میں نہیں آتا جس کی قرآن و حدیث میں مذمت آئی ہے،
مثلاً زید سے یہ کہنا کہ میں نے عمر کو تمہاری تعریف کرتے ہوئے سنا ہے وغیرہ،
اسی طرح کی بات عمر کے سامنے رکھنا،
ایسا شخص جھوٹانہیں ہے،
بلکہ وہ ان دونوں کا محسن ہے،
اور شریعت کی نظر میں اس کا شمار نیک لوگوں میں ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1938   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4921  
´میل جول اور مصالحت کرانے کا بیان۔`
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4921]
فوائد ومسائل:

مسلمان بھائیوں میں صلح اور اصلاح کے لیئے کوئی بات بنانی پڑ جائے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیئے۔
یہ جھوٹ معیوب نہیں ہوتا۔


میاں بیوی اگر کسی ناراضی کو دور کرنے کے لیئے یا لفظی طور پر ایک دوسرے کو محبت جتلانے کے لیئے کوئی بات کہیں تو جائز ہے تاکہ انکی عائلی زندگی مسرت بھری رہے۔


دشمن کو دھوکہ دینا بھی جائز ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4921   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6633  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ينمي خيرا:
ایک فریق کی دوسرے فریق تک اچھی اور بہتر بات پہنچاتا ہے،
تاکہ ان کے درمیان صلح کروا سکے،
اويقول خيرا:
اور اچھا اثر ڈالنے والی بات بیان کرتا ہے اور بری بات سے خاموشی اختیار کرتا ہے،
وہ نقل نہیں کرتا۔
فوائد ومسائل:
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں یا دو گروہوں میں سخت نزاع اور رنجش ہے،
ہر فریق دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتا ہے،
ان میں بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں،
جو باہمی اختلاف اور نزاع کو ختم کرنے یا کم از کم،
کم کرنے کا باعث بن سکتی ہیں،
ایسی صورت میں اگر کوئی نیک نیت اور مخلص انسان دونوں فریقوں میں صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو خیر اندیشی کی باتیں پہنچاتا ہے،
جن سے عداوت و اختلاف کی آگ ٹھنڈی ہو سکے اور خوش گمانی اور مصالحت کی فضا پیدا ہو سکے اور ایک دوسرے کی مخالفت و عداوت میں کہی گئی باتیں چھپا لے تو یہ اچھی اور بہتر بات ہے،
اسی طرح جنگ و جدال میں توریہ و تعریض سے کام لیا جا سکتا ہے اور میاں بیوی ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے ایک دوسرے سے محبت و پیار کے اظہار میں مبالغہ سے کام لے سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے اچھے اچھے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں تو یہ جھوٹ نہیں ہے،
تفصیل کتاب الجہاد میں،
باب جواز الخداع فی الحرب "لڑائی میں دھوکا کا جواز" میں گزر چکی ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6633   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.