سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: جہاد کے مسائل
Jihad (Kitab Al-Jihad)
21. باب مَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَزْوِ
21. باب: جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟
Chapter: What Is Accepted As Participation In Battle.
حدیث نمبر: 2509
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا الحسين، حدثني يحيى، حدثني ابو سلمة، حدثني بسر بن سعيد، حدثني زيد بن خالد الجهني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلفه في اهله بخير فقد غزا".
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا۔
19047 - D 2509 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 38 (2843)، صحیح مسلم/الإمارة 38 (1895)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد 6 (1628)، سنن النسائی/الجھاد 44 (3182)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 3 (2759)، (تحفة الأشراف: 3747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/115، 116، 117، 5/192، 193)، سنن الدارمی/ الجھاد 27 (2463) (صحیح)» ‏‏‏‏

Zaid bin Khalid al Juhani reported that Messenger of Allah ﷺ as saying “He who equips a fighter in Allaah’s path has taken part in the fighting. And he looks after a fighter’s family when he is away has taken part in the fighting. ”
USC-MSA web (English) Reference: Book 14 , Number 2503



قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري (2843) صحيح مسلم (1895)
   صحيح البخاري2843زيد بن خالدمن جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في سبيل الله بخير فقد غزا
   صحيح مسلم4903زيد بن خالدمن جهز غازيا فقد غزا ومن خلف غازيا في أهله فقد غزا
   صحيح مسلم4902زيد بن خالدمن جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلفه في أهله بخير فقد غزا
   جامع الترمذي1631زيد بن خالدمن جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في أهله فقد غزا
   جامع الترمذي1629زيد بن خالدمن جهز غازيا في سبيل الله أو خلفه في أهله فقد غزا
   جامع الترمذي1628زيد بن خالدمن جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في أهله فقد غزا
   جامع الترمذي807زيد بن خالدمن فطر صائما كان له مثل أجره غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا
   سنن أبي داود2509زيد بن خالدمن جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلفه في أهله بخير فقد غزا
   سنن النسائى الصغرى3182زيد بن خالدمن جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلفه في أهله بخير فقد غزا
   سنن النسائى الصغرى3183زيد بن خالدمن جهز غازيا فقد غزا ومن خلف غازيا في أهله بخير فقد غزا
   سنن ابن ماجه1746زيد بن خالدمن فطر صائما كان له مثل أجرهم من غير أن ينقص من أجورهم شيئا
   سنن ابن ماجه2759زيد بن خالدمن جهز غازيا في سبيل الله كان له مثل أجره من غير أن ينقص من أجر الغازي شيئا
   مسندالحميدي837زيد بن خالدمن جهز غازيا أو خلفه في أهله، فقد غزا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1746  
´روزہ افطار کرانے والے کا ثواب۔`
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1746]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
روزے دار کا روزہ افطا ر کرانا ایک عظیم نیکی ہے
(2)
روزہ افطار کرانے کے لئے حسب توفیق کوئی بھی چیز پیش کی جا سکتی ہے پیٹ بھر کھلانا ضروری نہیں۔
اگر کھلائے تو اس کا الگ سے ثوا ب ہو گا
(3)
افطا ر کرانا نیکی میں تعاون ہے اور نیکی کے ہر کام میں تعا ون اس نیکی میں شر کت ہے خواہ بظا ہر معمولی ہو
(4)
روزہ کھلوانے والے کو ثواب، روزہ رکھنے والے کے حصے میں سے نہیں ملتا اسی طرح کسی نیکی کے کام میں اگر تعاون پر آمادہ ہو تو اس سے تعاون قبول کرنا چاہیے کیونکہ اس سے کام انجام دینے والے کا درجہ کم نہیں ہو جاتا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1746   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1629  
´مجاہد اور غازی کا سامان تیار کرنے کی فضیلت کا بیان۔`
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا، یا اس کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1629]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں محمد بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں،
مگرپچھلی سند صحیح ہے)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1629