سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai Wal-Imarah)
10. باب فِي أَرْزَاقِ الْعُمَّالِ
10. باب: ملازمین کی تنخواہ کا بیان۔
Chapter: Regarding Granting Provision To (Government) Employees.
حدیث نمبر: 2944
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا ليث، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن بسر بن سعيد، عن ابن الساعدي، قال: استعملني عمر على الصدقة فلما فرغت امر لي بعمالة، فقلت: إنما عملت لله، قال: خذ ما اعطيت فإني قد عملت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فعملني.
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي.
ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ (وصولی) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (زکاۃ کی وصولی کا) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 51 (1473)، والأحکام 17 (7163)، صحیح مسلم/الزکاة 37 (1045)، سنن النسائی/الزکاة 94 (2605، 2607)، (تحفة الأشراف: 10487)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/17،40، 52)، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1689) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Ibn al-Saeedi: Umar reported me to collect the sadaqah (i. e. zakat). When I became free, he ordered to give me payment for it. I said: I have worked for the sake of Allah. He said: Take what you have been given, for I held an administrative post in the time of the Messenger of Allah ﷺ, and he gave me payment for it.
USC-MSA web (English) Reference: Book 19 , Number 2938


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم (1045)
مشكوة المصابيح (3749)
   سنن أبي داود2944عبد الله بن وقدانخذ ما أعطيت فإني قد عملت على عهد رسول الله فعملني

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2944  
´ملازمین کی تنخواہ کا بیان۔`
ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ (وصولی) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (زکاۃ کی وصولی کا) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2944]
فوائد ومسائل:

واجب ہے کہ جس کسی سے کوئی کام لیا جائے۔
تو اس کا حق الخدمت بھی ادا کیا جائے۔
اس طرح کام کرنے والے پر فی الواقع ایک ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔
اور تقصیرکی صورت میں جواب طلبی کا حق بھی موجود رہتا ہے۔
ورنہ غفلت کر جانے کا پہلوغالب رہے گا۔


راوی حدیث کو ابن السعدی بھی کہا گیا ہے اور اس کا اصل نام عبد اللہ یا عمرو یا قدامہ روایت ہوا ہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2944   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.