سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
The Office of the Judge (Kitab Al-Aqdiyah)
14. باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا
14. باب: جھگڑے میں حقیقت جاننے سے پہلے کسی ایک فریق کی مدد کرنا بڑا گناہ ہے۔
Chapter: Regarding a man who helps someone in a dispute without knowing about the case.
حدیث نمبر: 3597
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
Warning: Undefined variable $mhadith_hindi_status in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-hadith-number.php on line 36
English

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 20

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 20

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 20
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عمارة بن غزية، عن يحيى بن راشد، قال: جلسنا لعبد الله بن عمر، فخرج إلينا فجلس،فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله، ومن خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع عنه، ومن قال في مؤمن ما ليس فيه اسكنه الله ردغة الخبال، حتى يخرج مما قال".

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 39

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 39

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 39
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: جَلَسْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَجَلَسَ،فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ عَنْهُ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ".
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8562)، وقد أخرجہ: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی (437)، مسند احمد (2/70، 82، 2/70) (صحیح)» ‏‏‏‏

Yahya ibn Rashid said: We were sitting waiting for Abdullah ibn Umar who came out to us and sat. He then said: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone's intercession intervenes as an obstacle to one of the punishments prescribed by Allah, he has opposed Allah; if anyone disputes knowingly about something which is false, he remains in the displeasure of Allah till he desists, and if anyone makes an untruthful accusation against a Muslim, he will be made by Allah to dwell in the corrupt fluid flowing from the inhabitants of Hell till he retracts his statement.
USC-MSA web (English) Reference: Book 24 , Number 3590


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3611)
   سنن أبي داود3597عبد الله بن عمرمن حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله من خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع عنه من قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال
   سنن ابن ماجه2320عبد الله بن عمرمن أعان على خصومة بظلم لم يزل في سخط الله حتى ينزع
   سنن ابن ماجه2414عبد الله بن عمرمن مات وعليه دينار أو درهم قضي من حسناته ليس ثم دينار ولا درهم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2320  
´جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کر کے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ (اس سے) باز آ جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2320]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لوگوں کےآپس کےاختلافات میں ہر شخص کو چاہیے کہ اس شخص کی حمایت کرے جس کا موقف درست ہو اور جو غلطی پر ہو اسے سمجھائے اور منع کرے۔

(2)
ظالم کی حمایت اور مدد کرنا بڑا گناہ ہے۔

(3)
حق کی حمایت میں دوستی یا رشتے داری کے تعلقات کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد ہے:
﴿يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا كونوا قَوّامينَ بِالقِسطِ شُهَداءَ لِلَّـهِ وَلَو عَلىٰ أَنفُسِكُم أَوِ الوالِدَينِ وَالأَقرَ‌بينَ ۚ إِن يَكُن غَنِيًّا أَو فَقيرً‌ا فَاللَّـهُ أَولىٰ بِهِما ۖ فَلا تَتَّبِعُوا الهَوىٰ أَن تَعدِلوا ۚ وَإِن تَلووا أَو تُعرِ‌ضوا فَإِنَّ اللَّـهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرً‌ا ﴾  (النساء 4: 135)
 اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی موﻻ کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وه خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے، وه شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیاده تعلق ہے، اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2320   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3597  
´جھگڑے میں حقیقت جاننے سے پہلے کسی ایک فریق کی مدد کرنا بڑا گناہ ہے۔`
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3597]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس کا مطلب یہ بھی ہےکہ جب مقدمہ قاضی تک پہنچ جائے تو پھر تنفیذ حدود میں رکاوٹ بننا یا سفارش کرنا حرام ہے۔
اور اسی طرح جاہلی عصبیت کا شکار ہوجانا یا مسلمانوں پر تہمت لگانا بہت بڑے اور بُراے جرائم ہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3597   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.