سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
Chapters on Etiquette
52. بَابُ : ثَوَابِ الْقُرْآنِ
52. باب: تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3781
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا علي بن محمد , حدثنا وكيع , عن بشير بن مهاجر , عن ابن بريدة , عن ابيه , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يجيء القرآن يوم القيامة كالرجل الشاحب , فيقول: انا الذي اسهرت ليلك , واظمات نهارك".
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ , فَيَقُولُ: أَنَا الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ , وَأَظْمَأْتُ نَهَارَكَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا، اور دن کو پیاسا رکھا ۱؎۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1953، ومصباح الزجاجة: 1321)، وقد أخرجہ: حم (5/348، 352، 361)، سنن الدارمی/فضائل القران 15 (3434) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2837)

وضاحت:
۱؎: یعنی دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو قرآن پڑھتا یا قرآن سنتا تھا پس سننے والوں کو بھی ایسا ہی کہے گا۔

قال الشيخ الألباني: ضعيف يحتمل التحسين

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
   سنن ابن ماجه3781عامر بن الحصيبيجيء القرآن يوم القيامة كالرجل الشاحب فيقول أنا الذي أسهرت ليلك وأظمأت نهارك

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3781  
´تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا، اور دن کو پیاسا رکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3781]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شَاحِب سے مراد وہ انسان ہے جس کا رنگ بیماری کی وجہ سے یا سخت محنت اور تھکاوٹ کی وجہ سے تبدیل ہو گیا ہو۔

(2)
اسکی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جس طرح قرآن پڑھنے والا تہجد میں تلاوت کی محنت اور تھکاوٹ برداشت کرتا تھا، قرآن کو بھی اسی شکل میں ظاہر کیا جائے گا۔
اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جس طرح قرآن کی تلاوت اور قیام کی وجہ سے آدمی کا رنگ بدل جاتا تھا، اسی طرح قرآن بھی انتہائی بھاگ دوڑ کرے گا کہ مومن کو زیادہ سے زیادہ بلند درجہ مل سکے۔
اور اس بھاگ دوڑ کا اثر اس کی ظاہری صورت میں نظر آئے گا۔
واللہ أعلم۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3781   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.