الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
كتاب الأدب
کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
Chapters on Etiquette
52. بَابُ: ثَوَابِ الْقُرْآنِ
باب: تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔
Chapter: The rewards associated with the Quran
حدیث نمبر: 3779
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا هشام بن عمار , حدثنا عيسى بن يونس , حدثنا سعيد بن ابي عروبة , عن قتادة , عن زرارة بن اوفى , عن سعد بن هشام , عن عائشة , قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة , والذي يقرؤه يتتعتع فيه وهو عليه شاق له اجران اثنان".
(مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ , وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ہے ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن 79 (4937)، صحیح مسلم/المسافرین 38 (798)، سنن ابی داود/الصلاة 349 (1454)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 13 (2904)، (تحفة الأشراف: 16102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/48، 94، 98، 110، 170، 192، 239، 266)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 11 (3411) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: ایک تلاوت کا، دوسرے محنت کرنے کا۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3780
Save to word اعراب
(قدسي) حدثنا ابو بكر , حدثنا عبيد الله بن موسى , انبانا شيبان , عن فراس , عن عطية , عن ابي سعيد الخدري , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يقال لصاحب القرآن إذا دخل الجنة: اقرا واصعد , فيقرا ويصعد بكل آية درجة , حتى يقرا آخر شيء معه".
(قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ , عَنْ فِرَاسٍ , عَنْ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: اقْرَأْ وَاصْعَدْ , فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً , حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے (قرآن کی تلاوت کرنے والے سے، یا حافظ قرآن سے) سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا کہا جائے گا: پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا، تو وہ پڑھتا اور چڑھتا چلا جائے گا، وہ ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ترقی کرتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ جو اسے یاد ہو گا وہ سب پڑھ جائے گا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4226، ومصباح الزجاجة: 1320)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/40) (صحیح) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2240، صحیح أبی داود: 1317)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3781
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا علي بن محمد , حدثنا وكيع , عن بشير بن مهاجر , عن ابن بريدة , عن ابيه , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يجيء القرآن يوم القيامة كالرجل الشاحب , فيقول: انا الذي اسهرت ليلك , واظمات نهارك".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ , فَيَقُولُ: أَنَا الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ , وَأَظْمَأْتُ نَهَارَكَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا، اور دن کو پیاسا رکھا ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1953، ومصباح الزجاجة: 1321)، وقد أخرجہ: حم (5/348، 352، 361)، سنن الدارمی/فضائل القران 15 (3434) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2837)

وضاحت:
۱؎: یعنی دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو قرآن پڑھتا یا قرآن سنتا تھا پس سننے والوں کو بھی ایسا ہی کہے گا۔

قال الشيخ الألباني: ضعيف يحتمل التحسين
حدیث نمبر: 3782
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة , وعلي بن محمد , قالا: حدثنا وكيع , عن الاعمش , عن ابي صالح , عن ابي هريرة , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ايحب احدكم إذا رجع إلى اهله , ان يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان"، قلنا: نعم , قال:" فثلاث آيات يقرؤهن احدكم في صلاته , خير له من ثلاث خلفات سمان عظام".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ , أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ"، قُلْنَا: نَعَمْ , قَالَ:" فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ , خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ سِمَانٍ عِظَامٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں (کیوں نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 41 (802)، (تحفة الأشراف: 12471)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/396، 466، 496) سنن الدارمی/فضائل القرآن 1 (3357) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3783
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا احمد بن الازهر , حدثنا عبد الرزاق , انبانا معمر , عن ايوب , عن نافع , عن ابن عمر , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" مثل القرآن مثل الإبل المعقلة , إن تعاهدها صاحبها بعقلها امسكها عليه , وإن اطلق عقلها ذهبت".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ , إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ , وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 32 (789)، سنن الترمذی/القراء ات 100 (2942)، (تحفة الأشراف: 7546)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5031)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (943)، موطا امام مالک/القرآن 4 (6)، مسند احمد (2/17، 23، 30، 64، 112) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس لیے حافظ قرآن کو چاہئے کہ وہ پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کرتا رہے، کیونکہ اگر وہ اسے پڑھنا ترک کر دے گا، تو بھول جائے گا پھر اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3784
Save to word اعراب
(قدسي) حدثنا ابو مروان محمد بن عثمان العثماني , حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم , عن العلاء بن عبد الرحمن , عن ابيه , عن ابي هريرة , قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم , يقول:" قال الله عز وجل: قسمت الصلاة بيني وبين عبدي شطرين , فنصفها لي , ونصفها لعبدي , ولعبدي ما سال" , قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اقرءوا: يقول العبد: الحمد لله رب العالمين سورة الفاتحة آية 2 فيقول الله عز وجل: حمدني عبدي , ولعبدي ما سال , فيقول: الرحمن الرحيم سورة الفاتحة آية 3 , فيقول: اثنى علي عبدي , ولعبدي ما سال , يقول: مالك يوم الدين سورة الفاتحة آية 4 , فيقول الله: مجدني عبدي , فهذا لي , وهذه الآية بيني وبين عبدي نصفين , يقول العبد: إياك نعبد وإياك نستعين سورة الفاتحة آية 5 , يعني: فهذه بيني وبين عبدي , ولعبدي ما سال , وآخر السورة لعبدي , يقول العبد: اهدنا الصراط المستقيم {6} صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين {7} سورة الفاتحة آية 6-7 , فهذا لعبدي , ولعبدي ما سال".
(قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي شَطْرَيْنِ , فَنِصْفُهَا لِي , وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي , وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا: يَقُولُ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: حَمِدَنِي عَبْدِي , وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ , فَيَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3 , فَيَقُولُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي , وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ , يَقُولُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 , فَيَقُولُ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي , فَهَذَا لِي , وَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ , يَقُولُ الْعَبْدُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 , يَعْنِي: فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي , وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ , وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي , يَقُولُ الْعَبْدُ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ {6} صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ {7} سورة الفاتحة آية 6-7 , فَهَذَا لِعَبْدِي , وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لیے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پڑھو!، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حمدني عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أثنى علي عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «مجدني عبدي فهذا لي وهذه الآية بيني وبين عبدي نصفين» میرے بندے نے میری عظمت بیان کی تو یہ میرے لیے ہے، اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، یعنی پھر جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «فهذه بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل وآخر السورة لعبدي» یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور سورت کی اخیر آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، پھر جب بندہ «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: «فهذا لعبدي ولعبدي ما سأل» یہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14045)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 11 (395)، سنن ابی داود/الصلاة 136 (821)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة 2 (1) (2953)، سنن النسائی/الافتتاح 23 (910)، موطا امام مالک/الصلاة 9 (39) مسند احمد (2/241، 250، 285، 290، 457، 478) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3785
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة , حدثنا غندر , عن شعبة , عن خبيب بن عبد الرحمن , عن حفص بن عاصم , عن ابي سعيد بن المعلى , قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:" الا اعلمك اعظم سورة في القرآن قبل ان اخرج من المسجد؟" , قال: فذهب النبي صلى الله عليه وسلم ليخرج , فاذكرته , فقال:" الحمد لله رب العالمين وهي السبع المثاني , والقرآن العظيم الذي اوتيته".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ؟" , قَالَ: فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ , فَأَذْكَرْتُهُ , فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي , وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ".
ابوسعید بن معلّیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں وہ سورت نہ سکھاؤں جو قرآن مجید میں سب سے عظیم سورت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت «الحمد لله رب العالمين» ہے جو سبع مثانی ہے، اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة 1 (4474)، تفسیرالأنفال 3 (4647)، وتفسیر الحجر 3 (4703)، فضائل القرآن 9 (5006)، سنن ابی داود/الصلاة 350 (1458)، سنن النسائی/الافتتاح 36 (914)، (تحفة الأشراف: 12047)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 7 (37)، مسند احمد (3/450، 4/211)، سنن الدارمی/الصلاة 172 (1533)، فضائل القرآن 12 (3416) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3786
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة , حدثنا ابو اسامة , عن شعبة , عن قتادة , عن عباس الجشمي , عن ابي هريرة , عن النبي صلى الله عليه وسلم , قال:" إن سورة في القرآن ثلاثون آية شفعت لصاحبها حتى غفر له تبارك الذي بيده الملك".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِصَاحِبِهَا حَتَّى غُفِرَ لَهُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن میں ایک سورت ہے جس میں تیس آیتیں ہیں وہ اپنے پڑھنے والے کے لیے (اللہ تعالیٰ سے) سفارش کرے گی، حتیٰ کہ اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور وہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 327 (1400)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 9 (2891)، (تحفة الأشراف: 13550)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/فضائل القرآن 23 (3453) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3787
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو بكر , حدثنا خالد بن مخلد , حدثنا سليمان بن بلال , حدثني سهيل , عن ابيه , عن ابي هريرة , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" قل هو الله احد , تعدل ثلث القرآن".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» (یعنی سورۃ الاخلاص) (ثواب میں) تہائی قرآن کے برابر ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2899)، (تحفة الأشراف: 12671)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ المسافرین 45 (812) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3788
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا الحسن بن علي الخلال , حدثنا يزيد بن هارون , عن جرير بن حازم , عن قتادة , عن انس بن مالك , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" قل هو الله احد , تعدل ثلث القرآن".
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» (یعنی سورۃ الاخلاص) (ثواب میں) تہائی قرآن کے برابر ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1150)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2899)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3475) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3789
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا علي بن محمد حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي قيس الاودي عن عمرو بن ميمون عن ابي مسعود الانصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الله احد الواحد الصمد تعدل ثلث القرآن» .
(مرفوع) حدثنا علي بن محمد حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي قيس الأودي عن عمرو بن ميمون عن أبي مسعود الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الله أحد الواحد الصمد تعدل ثلث القرآن» .
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله أحد الواحد الصمد» (یعنی سورۃ الاخلاص ثواب میں) تہائی قرآن کے برابر ہے ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10001، ومصباح الزجاجة: 1322)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/122) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: یعنی یہ کلمات ثواب میں تہائی قرآن کے برابر ہیں بعض نسخوں میں یوں ہے: «قل ھو الله أحد الصمد» تہائی قرآن کے برابر ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.