سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
The Book on Military Expeditions
5. باب مَا جَاءَ فِي الْغَنِيمَةِ
5. باب: مال غنیمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1553
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي الكوفي، حدثنا اسباط بن محمد، عن سليمان التيمي، عن سيار، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إن الله فضلني على الانبياء، او قال: امتي على الامم، واحل لي الغنائم "، وفي الباب، عن علي، وابي ذر، وعبد الله بن عمرو، وابي موسى، وابن عباس، قال ابو عيسى: حديث ابي امامة حديث حسن صحيح، وسيار هذا يقال له: سيار مولى بني معاوية، وروى عنه سليمان التيمي، وعبد الله بن بحير، وغير واحد.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، أَوْ قَالَ: أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ، وَأَحَلَّ لِيَ الْغَنَائِمَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَيَّارٌ هَذَا يُقَالُ لَهُ: سَيَّارٌ مَوْلَى بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَرَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے انبیاء و رسل پر فضیلت بخشی ہے (یا آپ نے یہ فرمایا: میری امت کو دوسری امتوں پر فضیلت بخشی ہے، اور ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کیا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوامامہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، ابوذر، عبداللہ بن عمرو، ابوموسیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4877) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4001 / التحقيق الثاني)، الإرواء (152 - 285)
   صحيح البخاري7013عبد الرحمن بن صخربعثت بجوامع الكلم نصرت بالرعب بينا أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي
   صحيح البخاري2977عبد الرحمن بن صخربعثت بجوامع الكلم نصرت بالرعب بينا أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي
   صحيح البخاري7273عبد الرحمن بن صخربعثت بجوامع الكلم نصرت بالرعب وبينا أنا نائم رأيتني أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي
   صحيح البخاري6998عبد الرحمن بن صخرأعطيت مفاتيح الكلم نصرت بالرعب بينما أنا نائم البارحة إذ أتيت بمفاتيح خزائن الأرض حتى وضعت في يدي
   صحيح مسلم1172عبد الرحمن بن صخرنصرت بالرعب أوتيت جوامع الكلم
   صحيح مسلم1171عبد الرحمن بن صخرنصرت بالرعب على العدو أوتيت جوامع الكلم بينما أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي
   صحيح مسلم1168عبد الرحمن بن صخربعثت بجوامع الكلم نصرت بالرعب بينا أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت بين يدي
   صحيح مسلم1167عبد الرحمن بن صخرفضلت على الأنبياء بست أعطيت جوامع الكلم نصرت بالرعب أحلت لي الغنائم جعلت لي الأرض طهورا ومسجدا أرسلت إلى الخلق كافة ختم بي النبيون
   جامع الترمذي1553عبد الرحمن بن صخرفضلت على الأنبياء بست أعطيت جوامع الكلم نصرت بالرعب أحلت لي الغنائم جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا أرسلت إلى الخلق كافة ختم بي النبيون
   سنن النسائى الصغرى3089عبد الرحمن بن صخربعثت بجوامع الكلم نصرت بالرعب بينا أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي
   سنن النسائى الصغرى3091عبد الرحمن بن صخربعثت بجوامع الكلم نصرت بالرعب بينا أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي
   سنن ابن ماجه567عبد الرحمن بن صخرجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا
   صحيفة همام بن منبه42عبد الرحمن بن صخرنصرت بالرعب أوتيت جوامع الكلم
   مسندالحميدي975عبد الرحمن بن صخر
   جامع الترمذي1553صدي بن عجلانالله فضلني على الأنبياء أمتي على الأمم أحل لي الغنائم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث567  
´تیمم کے مشروع ہونے کا سبب۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین میرے لیے نماز کی جگہ اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 567]
اردو حاشہ:
(1)
  زمین میں مسجد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے لیے مسجد ضروری نہیں مسجد سے باہر بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے، سوائے ممنوعہ مقامات یا ناپاک جگہ کے مثلاً عین راستے پر، قبرستان میں اور بعض دیگر مقامات جن کی تفصیل حدیث: 746، 745، اور 747 میں مذکور ہے۔
لیکن فرض نمازمیں کسی عذر کے بغیر جاعت سے پیچھے رہنا جائز نہیں۔

(2)
زمین پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دی گئی ہے کا مطلب یہ ہے کہ عذر کے موقع پر وضو اور غسل کے بجائے تیمم سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 567   

حدیث نمبر: 1553M
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا علي بن حجر، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: " فضلت على الانبياء بست: اعطيت جوامع الكلم، ونصرت بالرعب، واحلت لي الغنائم، وجعلت لي الارض مسجدا وطهورا، وارسلت إلى الخلق كافة، وختم بي النبيون "، هذا حديث حسن صحيح.حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے انبیاء و رسل پر چھ چیزوں (خصلتوں) کے ذریعہ فضیلت بخشی گئی ہے، مجھے «جوامع الكلم» (جامع کلمات) عطا کئے گئے ہیں ۱؎، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے، میرے لیے تمام روئے زمین مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے ۳؎، میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میرے ذریعہ انبیاء و رسل کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/المساجد 1 (523)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 90 (567)، (قولہ ”جُعِلت لي الأرض مسجدا وطہورا“ فحسب) (تحفة الأشراف: 13977)، و مسند احمد (2/412) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی قرآن و حدیث جن کے الفاظ مختصر لیکن معانی بہت ہیں۔
۲؎: یعنی عام حالات میں میرا رعب میرے دشمنوں پر ایک مہینہ کی مسافت کی دوری ہی سے طاری رہتا ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں شامل ہے۔
۳؎: یعنی عبادت کے لیے کوئی جگہ مخصوص نہیں ہے، بلکہ وقت ہونے کے ساتھ کسی بھی پاکیزہ جگہ عبادت کی جا سکتی ہے، اسی طرح زمین (مٹی) سے ہر مسلمان طہارت کر سکتا ہے، یعنی وہ میرے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی ہے۔
۴؎: یعنی میری رسالت دنیا کی ساری مخلوق کے لیے عام ہے اور میں نبوت کے سلسلہ کی آخری کڑی ہوں، میرے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آنے والا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4001 / التحقيق الثاني)، الإرواء (152 - 285)


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.