الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
The Book of As-Salat (The Prayer)
33. بَابُ حَكِّ الْبُزَاقِ بِالْيَدِ مِنَ الْمَسْجِدِ:
33. باب: مسجد میں تھوک لگا ہو تو ہاتھ سے اس کا کھرچ ڈالنا ضروری ہے۔
(33) Chapter. To scrape off the sputum from the mosque with the hand (using some tool or other, or using no tool).
حدیث نمبر: 405
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نخامة في القبلة، فشق ذلك عليه حتى رئي في وجهه، فقام فحكه بيده، فقال:" إن احدكم إذا قام في صلاته فإنه يناجي ربه او إن ربه بينه وبين القبلة، فلا يبزقن احدكم قبل قبلته، ولكن عن يساره او تحت قدميه، ثم اخذ طرف ردائه فبصق فيه، ثم رد بعضه على بعض، فقال: او يفعل هكذا".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ فَحَكَّهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ أَوْ إِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے حمید کے واسطہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم دیکھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص (نماز میں اپنے) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرو۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet saw some sputum in the direction of the Qibla (on the wall of the mosque) and he disliked that and the sign of disgust was apparent from his face. So he got up and scraped it off with his hand and said, "Whenever anyone of you stands for the prayer, he is speaking in private to his Lord or his Lord is between him and his Qibla. So, none of you should spit in the direction of the Qibla but one can spit to the left or under his foot." The Prophet then took the corner of his sheet and spat in it and folded it and said, "Or you can do this. "
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 8, Number 399

   صحيح البخاري417أنس بن مالكإذا قام في صلاته فإنما يناجي ربه أو ربه بينه وبين قبلته لا يبزقن في قبلته ولكن عن يساره أو تحت قدمه ثم أخذ طرف ردائه فبزق فيه ورد بعضه على بعض قال أو يفعل هكذا
   صحيح البخاري531أنس بن مالكأحدكم إذا صلى يناجي ربه لا يتفلن عن يمينه لكن تحت قدمه اليسرى
   صحيح البخاري405أنس بن مالكأحدكم إذا قام في صلاته فإنه يناجي ربه أو إن ربه بينه وبين القبلة لا يبزقن أحدكم قبل قبلته لكن عن يساره أو تحت قدميه ثم أخذ طرف ردائه فبصق فيه ثم رد بعضه على بعض فقال أو يفعل هكذا
   صحيح البخاري412أنس بن مالكلا يتفلن أحدكم بين يديه ولا عن يمينه ولكن عن يساره أو تحت رجله
   صحيح البخاري413أنس بن مالكإذا كان في الصلاة فإنما يناجي ربه لا يبزقن بين يديه ولا عن يمينه ولكن عن يساره أو تحت قدمه
   صحيح البخاري1214أنس بن مالكإذا كان في الصلاة فإنه يناجي ربه لا يبزقن بين يديه ولا عن يمينه ولكن عن شماله تحت قدمه اليسرى
   صحيح مسلم1230أنس بن مالكإذا كان أحدكم في الصلاة فإنه يناجي ربه لا يبزقن بين يديه ولا عن يمينه ولكن عن شماله تحت قدمه
   سنن النسائى الصغرى309أنس بن مالكأخذ طرف ردائه فبصق فيه فرد بعضه على بعض
   سنن النسائى الصغرى729أنس بن مالكنخامة في قبلة المسجد فغضب حتى احمر وجهه فقامت امرأة من الأنصار فحكتها وجعلت مكانها خلوقا فقال رسول الله ما أحسن هذا
   سنن ابن ماجه762أنس بن مالكرأى نخامة في قبلة المسجد فغضب حتى احمر وجهه جاءته امرأة من الأنصار فحكتها وجعلت مكانها خلوقا فقال رسول الله ما أحسن هذا
   بلوغ المرام191أنس بن مالك‏‏‏‏إذا كان احدكم في الصلاة فإنه يناجي ربه فلا يبصقن بين يديه ولا عن يمينه،‏‏‏‏ ولكن عن شماله تحت قدمه
   مسندالحميدي1253أنس بن مالكأيحب أحدكم أن يبصق في وجهه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 191  
´نماز کے دوران میں تھوک یا بلغم آ جائے تو سامنے اور دائیں جانب تھوکنے سے اجتناب کرنا چاہیے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏إذا كان احدكم في الصلاة فإنه يناجي ربه فلا يبصقن بين يديه ولا عن يمينه،‏‏‏‏ ولكن عن شماله تحت قدمه . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے باتیں کر رہا ہوتا ہے (لہذا ایسی حالت میں) اپنے سامنے کی طرف اور دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں جانب پاؤں کے نیچے (تھوکے) . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 191]

لغوی تشریح:
«يُنَاجِي» مناجاۃ سے ماخوذ ہے۔ خفیہ طور پر گفتگو اور بات چیت کرنے کو کہتے ہیں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ بندے کی طرف توجہ فرماتا ہے۔
«فَلَا يَبْصُقَنَّ» لہٰذا نہ تھوکے۔ یہ ممانعت تھوک اور منہ کے دیگر فضلوں کو شامل ہے۔
«وَلَا عَنْ يَّمِينِهِ» دائیں جانب تھوکنے کی ممانعت کا سبب دائیں جانب کی تعظیم و تکریم ہے اور بعض کے نزدیک اس کی وجہ فرشتے کا دائیں جانب ہونا ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے دوران میں تھوک یا بلغم آ جائے تو سامنے اور دائیں جانب تھوکنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
➋ اگر نمازی مسجد میں ہو اور یہ ضرورت پیش آ جائے تو کسی رومال یا کپڑے وغیرہ پر لے کر اسے مل دینا چاہیے۔ اگر کوئی چیز اس وقت دستیاب نہ ہو تو پھر تھوک وغیرہ اپنی بائیں جانب پاؤں کے نیچے پھینک دے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب مسجد میں قالین وغیرہ نہ ہو۔
➌ یہ حکم گویا اس وقت کے لیے ہے جب فرش کچا ہو۔ آج کل عام طور پر صورت حال اس سے مختلف ہے۔ بہرحال نماز میں قبلہ رو تھوکنا نہیں چاہیے بلکہ عام حالت میں بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم نماز سے باہر بھی اس کا اہتمام کرتے تھے۔ ادب و احترام اور پاکیزگی کا یہی تقاضہ ہے۔
➍ سنن ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک امام کو نماز کے دوران قبلہ رخ تھوکنے کی وجہ سے منصب امامت سے معزول فرما دیا تھا۔ [سنن ابي داؤد، الصلاة، باب فى كراهية البزاق فى المسجد، حديث:481]
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 191   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 309  
´کپڑے میں تھوک لگ جانے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا، اور اسے مل دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 309]
309۔ اردو حاشیہ:
➊ باب کا مقصد یہ ہے کہ تھوک پاک ہے۔ ایک شاذ قول ہے کہ تھوک منہ سے نکلنے کے بعد پلید ہو جاتا ہے مگر یہ بلادلیل ہے۔
➋ کپڑے میں تھوک کر کپڑے کو آپس میں مل لینا مجلس میں تھوکنے کا مہذب طریقہ ہے۔ گندگی نہیں پھیلتی اور آدمی گنوار نہیں لگتا۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 309   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 729  
´مساجد کو خوشبو میں بسانے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 729]
729 ۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین میں سے بعض نے اسے صحیح اور بعض نے حسن قرار دیا ہے اور انھی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کیونکہ دیگر صحیح روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ دیگر روایات میں مذکور مضمون کی اس روایت سے تردید یا مخالفت بھی نہیں ہوتی، لہٰذا مذکورہ روایت قابل عمل ہے۔ مزید دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة للألباني: 120/7، حدیث: 3050، و سنن ابن ماجه بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 762]
➋ مسجد میں گند لگا ہو تو اسے کھرچ کر یا صاف کر کے خوشبو لگا دینا اچھا عمل ہے۔ خلوق ایک رنگ دار خوشبو ہے جسے عورتیں استعمال کرتی ہیں کیونکہ مرد کے لیے رنگ دار خوشبو کا استعمال منع ہے، البتہ مسجد کو یہ خوشبو لگانا جائز ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 729   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث762  
´مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا کام ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 762]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
غلط کام دیکھ کر ناراضی کا اظہار کرنا جائز ہے۔

(2)
بعض اوقات چہرے کے تاثرات ہی تنبیہ کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

(3)
اچھا کام کرنے والے کی تعریف کرنا جائز ہے تاکہ دوسروں کی توجہ اس اچھائی کی طرف ہو اور وہ بھی اس طرح اچھے کام کرنے کی کوشش کریں اور اس شخص کی حوصلہ افزائی ہو۔

(4)
انعام اور سزا تربیت کا ایک اصول ہے اگرچہ وہ صرف چند الفاظ کی صورت میں ہو یا موقع کی مناسبت سے کسی اور انداز میں۔

(5)
سردار، افسر، استاد یا بزرگ کا اپنے ماتحت زیردست شاگرد یا ملازم کے اچھے کام کی تعریف کرنا اس خوشامد میں شامل نہیں جو ایک بری عادت ہے نہ منہ پر تعریف کرنے کی اس صورت میں شامل ہے جو شرعاً ممنوع ہے۔

(6)
بعض محققین نے اس حدیث کو حسن یا صحیح کہا ہے۔ دیکھیے: (الصحيحة رقم: 3050)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 762   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:405  
405. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے ایک دفعہ قبلے کی جانب کچھ تھوک دیکھا تو آپ کو سخت ناگواری ہوئی حتی کہ اس کے اثرات آپکے چہرہ انور پر دیکھے گئے۔ آپ (خود) کھڑے ہوئے اور اپنے دست مبارک سے صاف کر کے فرمایا:تم میں سے جب کوئی اپنی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اور اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے، لہذا تم میں سے کوئی (بحالت نماز) اپنے قبلے کی طرف نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوکے۔پھر آپ ﷺ نے اپنی چادر کے گوشے میں تھوکا اور اسے الٹ پلٹ کیا، اور فرمایا:اس طرح بھی کر سکتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:405]
حدیث حاشیہ:

اس باب کی روایات میں تین چیزوں کو باعث نفرت قراردیاگیا ہے:
نخامہ:
سینے کا بلغم۔
مخاط:
ناک سے بہنے والی رطوبت۔
بصاق:
منہ کاتھوک۔
مسجد کے معاملے میں ان تینوں کاحکم یکساں ہے کہ یہ چیزیں جہاں کہیں نظر آئیں انھیں فوراً زائل کردیا جائے۔
احترام مسجد کا تقاضاہے کہ مسجد کے خادم یا موذن کاانتظار کیے بغیر ہردیکھنے والا اسے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبلے کی طرف منہ کرکے تھوکنا حرام ہے، اگرچہ مسجد سے باہر ہی کیوں نہ ہو۔
اس کی سنگینی حدیث میں بایں الفاظ بیان کی گئی ہے۔
کہ جو شخص قبلے کی طرف تھوکتا ہے قیامت کے دن جب یہ شخص اللہ کے حضور پیش ہوگا تو اس کا تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہوگا۔
(سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3824)
ایک روایت میں ہے کہ قبلے کی طرف منہ کرکے تھوکنے والے کو جب قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو اس کاتھوک اس کے چہرے پر ہوگا۔
(صحیح ابن خذیمة: 278/2، حدیث: 1313)
حضرت سائب بن خلاد بیان کرتے ہیں کہ ایک امام مسجد نے دوران نماز میں قبلے کی جانب منہ کرکے تھوک دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے امامت سے معزول کرکے فرمایا:
تو نے اللہ اور اس کےرسول ﷺ کو ایذادی ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 481)

دوسری روایت میں سامنے نہ تھوکنے کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس اس کے سامنے ہوتی ہے۔
(صحیح البخاري، حدیث: 406)
اس سے قبلے کی عظمت معلوم ہوتی ہے، نیز اس کی تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔
اگرچہ اس حدیث کے پیش نظر معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ حاضر وناضر ہے۔
یہ ان کی کھلی جہالت ہے، کیونکہ اگرایسا ہوتاتو بائیں جانب یا پاؤں تلے تھوکنا بھی منع ہوتا۔
(فتح الباري: 658/1)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر ہے، لیکن حافظ صاحب ؒ کی جلالت قدر کے باوجود ان کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ متعدد آیات اور بکثرت احادیث اس امر کے متعلق قطعی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے مستوی علی العرش ہے۔
تمام ائمہ سنت کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش معلیٰ پر مستوی ہے اور ہرجگہ اس کی معیت سے مراد اس کی قدرت کاملہ اور وسیع علم ہے۔
بعض اہل علم کا موقف ہے کہ قدرت اور علم اللہ تعالیٰ کی دوالگ الگ صفات ہیں۔
معیت سے قدرت کاملہ اور وسیع علم مرادلینا بھی ایک قسم کی تاویل ہے جس کی ممانعت ہے، لہذا معیت کو بھی اپنے معنی میں ہی رکھا جائےاور یہ موقف اختیار کیاجائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق ہر ایک کے ساتھ ہے۔
یہ موقف بھی وزنی اور خاصا محتاط ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی صفات کے متعلق مکمل بحث آئندہ کتاب التوحید میں آئے گی۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 405   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.