الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
نماز کے احکام و مسائل
18. باب التَّسْمِيعِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّأْمِينِ:
18. باب: سمع اللہ لمن حمدہ،ربنا لک الحمد، اور آمین کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 917
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني حرملة بن يحيى ، حدثني ابن وهب ، اخبرني عمرو ، ان ابا يونس حدثه، عن ابي هريرة ، " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إذا قال احدكم في الصلاة: آمين، والملائكة في السماء: آمين، فوافق إحداهما الاخرى، غفر له ما تقدم من ذنبه ".حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ: آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ: آمِينَ، فَوَافَقَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
ابو یونس (سلیم بن جبیر) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور ایک آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان پر آمین کہتے ہیں اور اگر ایک دوسرے کے آمین کے موافق ہوتی ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 410
   صحيح البخاري6402عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا إن الملائكة تؤمن من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   صحيح البخاري4475عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين
   صحيح البخاري780عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح البخاري796عبد الرحمن بن صخراللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح البخاري3228عبد الرحمن بن صخراللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح البخاري782عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين
   صحيح البخاري781عبد الرحمن بن صخرإذا قال أحدكم آمين قالت الملائكة في السماء آمين وافقت إحداهما الأخرى غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   صحيح مسلم915عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح مسلم913عبد الرحمن بن صخراللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح مسلم917عبد الرحمن بن صخرإذا قال أحدكم في الصلاة آمين الملائكة في السماء آمين وافق إحداهما الأخرى غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح مسلم918عبد الرحمن بن صخرإذا قال أحدكم آمين الملائكة في السماء آمين وافقت إحداهما الأخرى غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح مسلم934عبد الرحمن بن صخرالإمام جنة فإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد إذا وافق قول أهل الأرض قول أهل السماء غفر له ما تقدم من ذنبه
   جامع الترمذي267عبد الرحمن بن صخرسمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   جامع الترمذي250عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   سنن أبي داود935عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين
   سنن أبي داود936عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   سنن أبي داود848عبد الرحمن بن صخرسمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى930عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين
   سنن النسائى الصغرى928عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين
   سنن النسائى الصغرى929عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى927عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا إن الملائكة تؤمن من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى926عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا إن الملائكة تؤمن من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى931عبد الرحمن بن صخرإذا قال أحدكم آمين قالت الملائكة في السماء آمين وافقت إحداهما الأخرى غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى1064عبد الرحمن بن صخرسمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد فإن من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   سنن ابن ماجه852عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   سنن ابن ماجه851عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا إن الملائكة تؤمن من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم118عبد الرحمن بن صخرإذا امن الإمام فامنوا، فإنه من وافق تامينه تامين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم119عبد الرحمن بن صخرإذا قال احدكم آمين وقالت الملائكة فى السماء آمين فوافقت إحداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم120عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام: {غير المغضوب عليهم ولا الضالين}، فقولوا آمين
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم123عبد الرحمن بن صخراللهم ربنا ولك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 118  
´نماز میں آمین کہنے کی فضیلت کہ یہ ذریعہ مغفرت ہے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا امن الإمام فامنوا، فإنه من وافق تامينه تامين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔۔۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم 118]

تخریج الحدیث: [الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 87/1 ح 191، ك 3 ب 11 ح 44/2، التمهيد 8/7، الاستذكار: 167 ● وأخرجه البخاري 780، ومسلم 410، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ امام ابوالعباس السراج رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ امام زہری سے نقل کیا ہے کہ «كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ إذَا قَالَ وَلَاالضَّالِّيْنَ، جَهََرَ بِآمِيْنَ» [حديث السراج، قلمي ص 35 ب]
➋ اس حدیث سے محدثین کرام نے آمین بالجہر کا مسئلہ ثابت کیا ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 770 وصحيح ابن خزيمه 286/1 ح 570 وسنن ابن ماجه 852 و سنن النسائي 144/2 ح 929]
➌ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی «فَجَهَرَ بِآمِينَ» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین بالجہر کہی۔ [سنن ابي داود: 933، الخلافيات للبيهقي، قلمي ص 15/1 وسنده حسن]
◄ اس قسم کی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے امام مسلم فرماتے ہیں: «تواترت الروايات كلها أن النبى صلى الله عليه وسلم جهر بآمين» تمام روایات متواتر ہیں کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین بالجہر کہی۔ [كتاب التميز قلمي ص 9، مطبوع ص 40]
➍ امام شعبہ کی جس روایت میں خفیہ آمین کا ذکر آیا ہے و شاذ ہونے کی وجہ سے محدثینِ کرام کے نزدیک ضعیف ہے۔ اگر یہ روایت صحیح بھی ہوتی تو اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ سری نماز میں خفیہ آمین کہنی چاہئے۔ یاد رہے کہ سری نماز میں خفیہ آمین کہنے پر اجماع ہے۔
➎ صحابہ و تابعین (جہری نمازوں میں) اونچی آواز سے آمین کہتے تھے۔ دیکھئے [صحيح بخاري قبل حديث 780 و مصنف ابن ابي شيبه 425/2 ح 7963 وسنده حسن]
● سلام (السلام علیکم) اور آمین سے حسد کرنا یہودیوں کا کام ہے۔ دیکھئے: [سنن ابن ماجه 856 وسنده صحيح و صححه ابن خزيمة: 1585، والبوصيري فى زوائد ابن ماجه، والمنذري فى الترغيب والترهيب 328/1]
● نیز دیکھئے: میری کتاب [القول المتين فى الجهر بالتامين]
➏ بعض الناس اس حدیث سے یہ مسئلہ کشید کرتے ہیں کہ فرشتے آہستہ آواز سے آمین کہتے ہیں کیونکہ ان کی آواز سنائی نہیں دیتی لہٰذا آہستہ آواز سے آمین کہنی چاہئے۔ یہ تو صرف ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مترادف ہے۔
➐ نماز میں آمین کہنے کی فضیلت کہ یہ ذریعہ مغفرت ہے۔
➑ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر مسبوق سورہ فاتحہ کا کچھ حصہ پڑھ چکا ہو یا یہ سورۃ پڑھنے والا ہو، اتنے میں امام آمین کہہ دے تو یہ بھی آمین کہے گا اور بعد میں اپنی سورہ فاتحہ پوری کرے گا۔ اب اگر یہ اپنی «ولا الضالين» پر پہنچے اور امام آمین کہنے کے بعد قرأت کر رہا ہو تو یہ آمین نہیں کہے گا بلکہ خاموش رہے گا جیسا کہ دوسرے عمومی دلائل سے ثابت ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 18   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 119  
´نماز میں آمین کہنے کی فضیلت (اور آمین بالجہر)`
«. . . 327- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا قال أحدكم آمين وقالت الملائكة فى السماء آمين فوافقت إحداهما الأخرى غفر له ما تقدم من ذنبه. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان پر آمین کہتے ہیں، پھر اگر دونوں کی آمین ایک دوسرے سے مل جائے تو اس شخص کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 119]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 781، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ آمین کہنا بہت فضیلت والا کام ہے۔
➋ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [الموطأ ح18، 429]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 327   
  حافظ نديم ظهير حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 780  
´امام کا بلند آواز سے آمین کہنا`
«. . . إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام «آمين» کہے تو تم بھی «آمين» کہو۔ کیونکہ جس کی «آمين» ملائکہ کے آمین کے ساتھ ہو گئی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے . . . [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ: 780]

فقہ الحدیث
اس حدیث میں مقتدیوں کی آمین کو امام کی آمین کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے، یعنی جب امام آمین کہے گا تب مقتدی آمین کہیں گے۔ اگر امام دل میں آمین کہے تو مقتدیوں کو کس طرح علم ہو گا کہ امام نے آمین کہی ہے، مثلاً: امام نے «ولا الضالين» کہہ کر سانس لینے کے لیے تھوڑی دیر سکتہ کر لیا، اس پر یہ فرض تو نہیں کہ «ولا الضالين» کہتے ہی فوراً آمین کہہ دے اور سکتہ ہرگز نہ کرے۔ سکتے والی حالت میں امام نے ابھی آمین کہی ہی نہیں اور مقتدی حضرات آمین کہہ دیتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ فرشتے امام کے آمین کے ساتھ ہی آمین کہتے ہیں یا امام کو چھوڑ کر مقتدیوں کی آمین کے ساتھ آمین کہتے ہیں؟
مطلب واضح ہے کہ امام الدنیا فی فقہ الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر «جهر الامام بالتامين» کا باب باندھا ہے۔ مقتدی جب امام کی آمین سنیں گے تب وہ بھی آمین کہہ دیں گے اور فرشتے بھی آمین کہہ دیں گے، پھر موافقت والی بات ہو گی۔
   ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 133، حدیث\صفحہ نمبر: 23   
  حافظ نديم ظهير حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 782  
´مقتدی کا آمین بلند آواز سے کہنا`
«. . . أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ: الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين‏» کہے تو تم بھی «آمين» کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ «آمين» کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ . . . [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ: 782]

فقہ الحدیث
اس حدیث میں امام کے آمین کہنے کا ذکر نہیں، لہٰذا اسے سابقہ حدیث کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے گا۔
تنبیہ: بعض علماء نے کہا ہے کہ قول میں خطاب اگر مطلقاً ہو تو جہر پر محمول ہوتا ہے۔
عرض ہے کہ جس اصول کی تخصیص دلیل کے ساتھ ثابت ہو تو خاص کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے اور باقی پر وہ اصول جاری رہتا ہے۔ جیسا کہ تشہد کا خفیہ پڑھنا ثابت ہے۔ لیکن آمین کا جہری نمازوں میں خفیہ پڑھنا ہرگز ثابت نہیں ہے، لہٰذا یہاں قول اپنے عمومی اصول پر ہی رہے گا اور اس پر مزید تائید یہ کہ صحیح مرفوع احادیث اور آثار سے آمین بلجہر ثابت ہے۔ «والحمدلله»
   ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 133، حدیث\صفحہ نمبر: 24   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 848  
´جب آدمی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو جائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 848]
848۔ اردو حاشیہ:
➊ معلوم ہوا کہ ملائکہ (فرشتے) بھی نمازیوں کے ساتھ یہ کلمات کہتے ہیں اور ان کی دعا کا وقت وہی ہوتا ہے، جب امام رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے تسمیع سے فارغ ہوتا ہے، تو وہ اپنے کلمات کہتے ہیں۔
➋ مقتدی کو بھی امام کی اقتداء کرنی چاہیے اور اس میں ملائکہ کی موافقت ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 848   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 936  
´امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گی اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔‏‏‏‏ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 936]
936۔ اردو حاشیہ:
➊ یعنی امام «غَيْرِ الْمَغْضُو بِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کے بعد آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو اسی وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اس اجتماع و توافق کی فضیلت یہی ہے کہ نمازیوں کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ «والله ذوالفضل العظيم»
➋ حدیث کے الفاظ جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو۔ کا تقاضا یہ ہے کہ مقتدی امام کی آمین کے بعد آمین کہیں، نہ کہ امام کے ساتھ ہی، نہ امام سے پہلے ہی۔ اس میں بھی یہ کوتاہی عام ہے کہ اکثر لوگ امام کے «ولا الضالين» پڑھتے ہی آمین کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ مقتدیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے امام کو آمین کہنے کا موقع دیں اور اس کے بعد خود آمین کہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 936   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 926  
´امام کے زور سے آمین کہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری (امام) آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے ۱؎ گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 926]
926 ۔ اردو حاشیہ:
➊ معلوم ہوا امام صاحب آمین اونچی آواز سے کہیں تاکہ دوسرے لوگ بھی کہہ سکیں۔ ابوداود میں صریح اور صحیح روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «وَلا الضّالِّينَ» کہتے تو آمین کہتے اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ [سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 932]
امام شافعی، احمد اور اسحاق رحم اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے۔
➋ فرشتوں کی آمین سے ملنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایک وقت میں ہوں، لہٰذا تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ امام اور مقتدیوں کی آمین متصل ہونی چاہیے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ولا الْضّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو۔ [صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 782، وصحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 410]
، البتہ مقتدیوں کو امام کی آواز سن کر آمین شروع کرنی چاہیے، امام سے پہل کرنا درست نہیں۔
➌ بعض حضرات نے «إذا قال الإمامُ: (وَلا الضّالِّينَ)، فقولُوا: آمينَ» سے استدلال کیا ہے کہ سورۂ فاتحہ امام ہی پڑھے گا اور مقتدی صرف آمین کہے گا۔ لیکن یہ استدلال احادیث صحیحہ متواترہ کے خلاف ہے۔ سورۂ فاتحہ کے وجوب کے دلائل بے شمار ہیں جن میں سے بعض کا احاطہ سابقہ احادیث میں بھی ہو چکا ہے، لہٰذا سورۂ فاتحہ نماز کا رکن ہے جس کے بغیر کسی کی کوئی نماز نہیں ہوتی۔ واللہ أعلم۔
➍ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سورۂ فاتحہ کے اختتام پر صرف آمین کہنی چاہیے، اس سے زائد الفاظ کہنا درست نہیں کیونکہ جن روایاتِ آمین میں زائد الفاظ ہیں، وہ روایات ضعیف ہیں: مثلاً: امام بیہقی رحمہ اللہ نے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، جب آپ نے «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضّالِّينَ» پڑھا تو «ربِّ اغفرْ لي، آمين» کہا۔ [السنن الکبریٰ بیهقي: 2؍58]
یہ روایت ابوبکر نبشلی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➎ اس حدیث میں امامیہ فرقے کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ نماز میں آمین کہنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 926   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 929  
´امام کے زور سے آمین کہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 929]
929 ۔ اردو حاشیہ: سابقہ سب گناہ جمہور اہل علم کے نزدیک، اس سے اور دیگر اعمال جن کے متعلق یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کے بجا لانے پر سابقہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، ان سے صغیرہ گناہ مراد ہیں جو توبہ کیے بغیر مختلف اعمال سے معاف ہو جاتے ہیں۔ جہاں تک کبیرہ گناہوں کی معافی کا معاملہ ہے تو وہ خالص توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ لیکن یہ اور اس قسم کی دیگر احادیث کے ظاہر کا تقاضا یہی ہے کہ ان اعمال کی تاثیر و برکت سے سبھی گناہ معاف ہو جاتے ہیں، وہاں توبہ کی شرط نہیں، الفاظ کا عموم بھی اسی بات کا متقاضی ہے۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 929   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 930  
´امام کے پیچھے آمین کہنے کے حکم۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 930]
930 ۔ اردو حاشیہ: امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا اتفاقی مسئلہ ہے۔ اختلاف آہستہ اور اونچی کہنے میں ہے۔ بیہقی میں حضرت عطاء سے روایت ہے کہ میں نے دو سو اصحاب رسول کو مسجد حرام میں دیکھا کہ جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہتا تو ان کی آمین کی آواز سے گونج پیدا ہو جاتی تھی۔ [السنن الکبری للبیھقي، الصلاة: 59/2]
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے خصوصاً منقول ہے کہ ان کے مقتدیوں کی آواز سے شور برپا ہو جاتا تھا۔ [السنن الکبریٰ للبيھقي، الصلاة: 59/2]
اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [فتح الباري: 345-339/2، تحت حدیث: 782-780]

   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 930   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1064  
´ «ربنا ولک الحمد» کہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1064]
1064۔ اردو حاشیہ: معلوم ہوتا ہے کہ انسان پر مقرر فرشتے بھی نماز میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں، خصوصاً امام کو جواب دیتے ہیں، مثلاً: امام کی فاتحہ پر آمین کہنا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کے جواب میں «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہنا وغیرہ، لہٰذا مقتدی بھی امام کو جواب دے اور فوراًً دے (جیسا کہ جواب کا دستور ہے)۔ اس طرح وہ فرشتوں کی موافقت کی فضیلت حاصل کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی معیت کوئی معمولی بات نہیں اور پھر معصوم فرشتوں کی معیت۔ اللہ! اللہ!
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 1064   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث851  
´آمین زور سے کہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 851]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی کو اس وقت آمین کہنی چاہیے۔
جب امام آمین کہے اگرچہ مقتدی کی قراءت امام سے آگے پیچھے ہی ہو۔

(2)
اس سے امام کا بلند آواز سے آمین کہنا ظاہر ہوتا ہے۔
کیونکہ مقتدی اس کی آواز سن کر آمین کہیں گے۔

(3)
نمازی کی آمین کا فرشتوں کی آمین سے مل جانے کا کیا مطلب ہے۔
؟ اس کی تشریح مختلف انداز سے کی گئی ہے۔

(الف)
     وقت میں موافقت یعنی جس وقت فرشتے آمین کہیں اس وقت نمازی آمین کہیں۔

(ب)
       خلوص میں موافقت۔
فرشتوں کا ہر عمل اخلاص کے ساتھ محض اللہ کی رضا کےلئے ہوتا ہے۔
اگر نمازی بھی اسی طرح اخلاص کےساتھ آمین کہے تو اس کے گناہ معاف ہوجایئں گے۔

(ج)
       خشوع میں موافقت- آمین دعا ہے اور دعا میں خشوع قبولیت کا باعث ہے۔
فرشتوں کے اعمال میں خشوع پایا جاتا ہے۔
اسی طرح مومن کی دعا اور خصوصاً آمین میں خشوع اور ادب واحترام ہونا چاہیے۔

(4)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث اس عنوان کے تحت ذکر کی ہے (باب جھر المأموم بالتأمین۔)
مقتدی کا بلند آواز سے آمین کہنا (صحیح البخاري، الأذان، باب جھر المأموم بالتأمین، حدیث: 782)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 851   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 267  
´رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده‏» اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
اردو حاشہ:
1؎:
متعدد احادیث سے (جن میں بخاری کی بھی ایک روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ہے) یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ امامت کی حالت میں ((سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) کے بعد کہا کرتے تھے،
اس لیے یہ کہناغلط ہے کہ امام ((رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ)) نہ کہے۔
وضاحت
2؎:
لیکن حافظ ابن حجرکہتے ہیں (اور صاحب تحفہ ان کی موافقت کرتے ہیں) کہ مقتدی کے لیے دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں کوئی واضح حدیث وارد نہیں ہے اور جو لو گ اس کے قائل ہیں وہ ((صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُوْنِيْ أُصَلِّي)) جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ویسے تم بھی نماز پڑھو سے استدلال کرتے ہیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 267   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.