🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب التمتع:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمتع کا جاری ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1571
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ، عَنْ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ، قَالَ رَجُلٌ: بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا کہا کہ مجھ سے مطرف نے عمران بن حصین سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے تمتع کیا تھا اور خود قرآن میں تمتع کا حکم نازل ہوا تھا۔ اب ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1571]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمتع کیا ہے اور خود قرآن میں بھی اس کا حکم نازل ہوا ہے مگر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1571]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4518
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ"، قَالَ رَجُلٌ: بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمران ابی بکر نے، ان سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (حج میں) تمتع کا حکم قرآن میں نازل ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کے ساتھ (حج) کیا، پھر اس کے بعد قرآن نے اس سے نہیں روکا اور نہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی (لہٰذا تمتع اب بھی جائز ہے) یہ تو ایک صاحب نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4518]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حج تمتع کی آیت تو کتاب اللہ میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج تمتع کیا۔ قرآن کریم میں اس کی حرمت نازل نہیں ہوئی اور نہ مرتے دم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اب جو شخص اپنی رائے سے جو چاہے کہتا رہے۔ محمد (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں (کیونکہ ان کی رائے حج تمتع کے خلاف تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4518]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں