صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. باب متى يدفع من جمع:
باب: مزدلفہ سے کب چلا جائے؟
حدیث نمبر: 1684
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِجَمْعٍ الصُّبْحَ، ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ:" إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، ثُمَّأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، انہوں نے عمرو بن میمون کو یہ کہتے سنا کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھی تو میں بھی موجود تھا، نماز کے بعد آپ ٹھہرے اور فرمایا کہ مشرکین (جاہلیت میں یہاں سے) سورج نکلنے سے پہلے نہیں جاتے تھے کہتے تھے اے ثبیر! تو چمک جا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1684]
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ میں نماز فجر ادا کی تو میں بھی موجود تھا۔ نماز کے بعد آپ ٹھہرے اور فرمایا: مشرکین طلوع آفتاب کے بعد یہاں سے کوچ کرتے اور طلوع آفتاب کے انتظار میں یہ کہتے تھے: «أَشْرِقْ ثَبِيرُ» ”اے ثبیر! تو چمک جا“ یعنی آفتاب تجھ پر ظاہر ہو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے روانہ ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جب تک دھوپ ثبیر پہاڑی پر نہ آ جاتی قریش (حج میں) مزدلفہ سے نہیں نکلا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 3838]
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مشرک لوگ مزدلفہ سے واپس نہیں ہوتے تھے حتی کہ سورج کی دھوپ ثبیر پہاڑ پر آ جاتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے کوچ فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 3838]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة