صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب إذا قال أخدمتك هذه الجارية على ما يتعارف الناس. فهو جائز:
باب: عام دستور کے مطابق کسی نے کسی شخص سے کہا کہ یہ لڑکی میں نے تمہاری خدمت کے لیے دے دی تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2635
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ بِسَارَةَ، فَأَعْطَوْهَا آجَرَ، فَرَجَعَتْ، فَقَالَتْ: أَشَعَرْتَ أَنَّ اللهَ كَتَبَ الْكَافِرَ، وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً". وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کے ساتھ ہجرت کی تو انہیں بادشاہ نے آجر کو (یعنی ہاجرہ علیہا السلام کو) عطیہ میں دے دیا۔ پھر وہ واپس ہوئیں اور ابراہیم علیہ السلام سے کہا، دیکھا آپ نے اللہ تعالیٰ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ایک لڑکی خدمت کے لیے بھی دے دی۔ ابن سیرین نے کہا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ بادشاہ نے ہاجرہ کو ان کی خدمت کے لیے دے دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2635]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ جب ہجرت کی تو اہل مصر نے آپ کو ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے دی۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے واپس آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا: آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو ذلیل و خوار کیا اور اس نے ایک لڑکی خدمت کے لیے دی ہے۔“ ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اس نے سارہ کو ہاجرہ بطور خدمت دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2635]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام بِسَارَةَ، فَدَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ: دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ بِامْرَأَةٍ هِيَ مِنْ أَحْسَنِ النِّسَاءِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ، مَنْ هَذِهِ الَّتِي مَعَكَ؟ قَالَ: أُخْتِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: لَا تُكَذِّبِي، حَدِيثِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّكِ أُخْتِي، وَاللَّهِ إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ، قَالَ الْأَعْرَجُ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَتِ: اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ، يُقَالُ: هِيَ قَتَلَتْهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ تُصَلِّي، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ هَذَا الْكَافِرَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ، فَيُقَالُ: هِيَ قَتَلَتْهُ، فَأُرْسِلَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، وَأَعْطُوهَا آجَرَ فَرَجَعَتْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَتْ: أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ كَبَتَ الْكَافِرَ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ (نمرود کے ملک سے) ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا (یہ فرمایا کہ) ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پچھوا بھیجا کہ ابراہیم! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے تمہاری کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا کہ میری بات نہ جھٹلانا، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں۔ اللہ کی قسم! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا، یا بادشاہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ اس وقت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول (ابراہیم علیہ السلام) پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کر۔“ اتنے میں بادشاہ تھرایا اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا۔ اعرج نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔ چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا۔ سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے پھر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر (ابراہیم علیہ السلام) کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر۔“ چنانچہ وہ پھر تھرایا، کانپا اور اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے بیان کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔“ اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا۔ اسے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر (ہاجرہ) کو بھی دے دو۔ پھر سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوا دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2217]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کی اور انہیں لے کر ایک شہر پہنچے جہاں ایک سخت گیر ظالم حکمران تھا۔ اسے اطلاع دی گئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک خوبرو عورت کو لے کر آئے ہیں۔ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیغام بھیجا کہ تمہارے ساتھ یہ عورت کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ میری بہن ہے، پھر حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تم نے میری بات کو جھٹلانا نہیں کیونکہ میں نے ان لوگوں کو بتایا ہے کہ تو میری بہن ہے۔ اللہ کی قسم! اس سرزمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی دوسرا مومن نہیں ہے۔ پھر انہوں نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم کے پاس بھیج دیا۔ وہ بادشاہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھنے کے لیے اٹھا تو انہوں نے کھڑے ہوکر وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگیں، پھر دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ هَذَا الْكَافِرَ» ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کو اپنے شوہر کے سوا محفوظ رکھا ہے تو اس کافر کو میرے اوپر مسلط نہ ہونے دے۔“ اس پر بادشاہ کا سانس گلے میں پھنس گیا اور وہ گر کر ایڑیاں رگڑنے لگا۔“ حضرت اعرج نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: ”اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ اسے اس (سارہ) نے قتل کیا ہے، چنانچہ وہ درست ہو گیا۔ پھر وہ (بُری نیت سے) اٹھ کر حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف جانے لگا تو انہوں نے وضو کرنے کے بعد نماز شروع کر دی، پھر دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ» ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے بجز اپنے خاوند کے کسی کو اجازت نہیں دی تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ ہونے دے۔“ اس پر وہ زمین پر گرا اور اس کا سانس حلق میں پھنس گیا حتیٰ کہ زمین پر ایڑیاں رگڑنے لگا۔“ حضرت عبدالرحمان نے ابوسلمہ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: ”اے اللہ! اگر یہ ظالم مر گیا تو کہا جائے کہ اس عورت نے اسے قتل کیا ہے تو وہ دوسری دفعہ بھی اچھا ہو گیا۔ پھر جب تیسری دفعہ بھی ایسا ہوا تو بادشاہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے ایک شیطان عورت کو میرے پاس بھیج دیا ہے۔ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس لے جاؤ اور اسے آجر (حضرت ہاجرہ علیہا السلام) بھی دے دو، چنانچہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس واپس آئیں اور فرمایا: تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو ذلیل و خوار کیا اور اس نے ایک لڑکی خدمت گزاری کے لیے بھی ساتھ دی ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2217]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5084
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ"، بَيْنَمَا إِبْرَاهِيمُ مَرَّ بِجَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَأَعْطَاهَا هَاجَرَ، قَالَتْ: كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْكَافِرِ وَأَخْدَمَنِي آجَرَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (دوسری سند) ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے تین مرتبہ کے سوا کبھی دین میں جھوٹ بات نہیں نکلی۔ ایک مرتبہ آپ ایک ظالم بادشاہ کی حکومت سے گزرے آپ کے ساتھ آپ کی بیوی سارہ علیہ السلام تھیں۔ پھر پورا واقعہ بیان کیا (کہ بادشاہ کے سامنے) آپ نے سارہ علیہ السلام کو اپنی بہن (یعنی دینی بہن) کہا۔ پھر اس بادشاہ نے سارہ علیہا السلام کو آجر (ہاجرہ) کو دے دیا۔ (بی بی سارہ علیہا السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے) کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے ہاتھ کو روک دیا اور آجر (ہاجرہ) کو میری خدمت کے لیے دلوا دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اے آسمان کے پانی کے بیٹو! یعنی اے عرب والو! یہی ہاجرہ علیہا السلام تمہاری ماں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5084]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بظاہر تین خلاف باتیں کی ہیں: ایک یہ کہ آپ کا گزر ایک ظالم بادشاہ کے پاس سے ہوا جبکہ آپ کے ہمراہ آپ کی بیوی حضرت سارہ رضی اللہ عنہا تھیں۔“ اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی، (اس میں ہے کہ) اس (بادشاہ) نے بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے کر ان کو رخصت کیا۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے کافر کا ہاتھ مجھ سے روکے رکھا اور مجھے خدمت کے لیے ہاجرہ بھی عنایت کر دی۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے آسمان کے پانی سے گزر اوقات کرنے والو! یہی ہاجرہ رضی اللہ عنہا تمہاری والدہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5084]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6950
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ بِسَارَةَ، دَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا، فَأَرْسَلَ بِهَا، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالموں میں سے ایک ظالم رہتا تھا اس ظالم نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سارہ علیہا السلام کو اس کے پاس بھیجیں آپ نے سارہ کو بھیج دیا وہ ظالم ان کے پاس آیا تو وہ (سارہ علیہا السلام) وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں تو تو مجھ پر کافر کو نہ مسلط کر پھر ایسا ہوا کہ وہ کم بخت بادشاہ اچانک خراٹے لینے اور گر کر پاؤں ہلانے لگا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 6950]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں ظالم بادشاہوں میں سے ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا۔ اس ظالم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس سارہ (رضی اللہ عنہا) کو بھیج دو۔ جب وہ ان کے پاس گیا تو وہ وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے دعا کی: «اللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتُ اٰمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ» ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر۔“ پھر ایسا ہوا کہ اس ظالم کا دم گھٹنے لگا اور گر کر زمین پر پاؤں مارنے (ایڑیاں رگڑنے) لگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 6950]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة