صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب فضل الإصلاح بين الناس والعدل بينهم:
باب: لوگوں میں آپس میں ملاپ کرانے اور انصاف کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2707
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاس عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ النَّاسِ صَدَقَةٌ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ہمام سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان کے بدن کے (تین سو ساٹھ جوڑوں میں سے) ہر جوڑ پر ہر اس دن کا صدقہ واجب ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان انصاف کرنا بھی ایک صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2707]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، لوگوں کے تمام جوڑوں پر صدقہ ہے اور لوگوں کے درمیان انصاف کرنا بھی ایک صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2707]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2891
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ سُلَامَى عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ يُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ يُحَامِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ وَكُلُّ خَطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَدَلُّ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ".
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”روزانہ انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہے اور اگر کوئی شخص کسی کی سواری میں مدد کرے کہ اس کو سہارا دے کر اس کی سواری پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اس پر اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ اچھا اور پاک لفظ بھی (زبان سے نکالنا) صدقہ ہے۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور (کسی مسافر کو) راستہ بتا دینا بھی صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2891]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”روزانہ انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی سواری میں مدد کرے کہ اسے سہارا دے کر اس کی سواری پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اٹھا کر اس پر رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ کسی سے بھلی بات کرنا اور نماز کے لیے ہر قدم اٹھانا بھی صدقہ ہے، اور کسی کو راستہ بتا دینا بھی صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2891]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2989
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2989]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ دو شخصوں کے مابین انصاف کرنا بھی صدقہ ہے، کسی شخص کا اس کے جانور پر سامان لاد دینا بھی صدقہ ہے۔ اچھی بات منہ سے نکالنا بھی صدقہ ہے۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2989]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة