🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب من لم يخمس الأسلاب:
باب: جو کوئی مقتول کافروں کے ساز و سامان میں خمس نہ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3141
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بِغُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي، قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ فَغَمَزَنِي الْآخَرُ، فَقَالَ لِي: مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ، قُلْتُ: أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ:" أَيُّكُمَا قَتَلَهُ، قَالَ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا، قَالَا: لَا فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ: كِلَاكُمَا قَتَلَهُ سَلَبُهُ مُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَكَانَا مُعَاذَ بْنَ عَفْرَاءَ ومُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الجَمُوحِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن ماجشون نے، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص) نے بیان کے کہ بدر کی لڑائی میں، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا، تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے۔ میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زبردست زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا، اور پوچھا چچا! آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہو گا، مر نہ جائے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی۔ پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں (کفار کے لشکر میں) گھومتا پھر رہا تھا۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ سامنے (پھرتا ہوا نظر آ رہا) ہے۔ دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے؟ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے۔ اس لیے آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے۔ اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا۔ وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع تھے۔ محمد نے کہا یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3141]
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بدر کی لڑائی کے وقت میں صف بندی میں کھڑا تھا، اس دوران میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو دو انصاری کم سن لڑکے دکھائی دیے، میں نے (اول میں) خواہش کی کہ کاش! میں دو طاقتور اور ان سے زیادہ عمر والوں کے درمیان کھڑا ہوتا، اچانک ان میں سے ایک نے میری طرف اشارہ کر کے آہستہ آواز سے پوچھا: اے چچا! کیا تم ابوجہل کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، لیکن اے بھتیجے! تجھے اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر وہ مجھے مل جائے تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے وہ جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہوگا، مر نہ جائے۔ میں نے اس کی جرات پر بڑا تعجب کیا، اتنے میں مجھ سے دوسرے نے آہستگی سے دریافت کیا اور اس نے بھی وہی کہا جو پہلے نے کہا تھا۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں ٹہل رہا تھا، میں نے (ان دونوں سے) کہا: سنو! وہ ہے جس کے متعلق تم مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ یہ سنتے ہی انہوں نے تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے، پھر زبردست حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ ان میں سے ہر ایک نے جواب دیا کہ میں نے اس لعین کو مارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا: واقعی تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تمام سامان معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو دیا، وہ دونوں لڑکے معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما تھے۔ (راویِ حدیث) محمد نے کہا کہ یوسف نے صالح سے اور ابراہیم نے اپنے باپ حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3964
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَتَبْتُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي بَدْرٍ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یوسف بن ماجشون سے یہ حدیث لکھی، انہوں نے صالح بن ابراہیم سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص) سے، بدر کے بارے میں عفراء کے دونوں بیٹوں کی حدیث مراد لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3964]
حضرت صالح بن ابراہیم سے روایت ہے، انہوں نے اپنے باپ سے، پھر اپنے دادا (حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) سے عفراء کے دونوں بیٹوں کے بدر (میں کارنامے) کے متعلق یہ حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3988
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ:" إِنِّي لَفِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ إِذْ الْتَفَتُّ , فَإِذَا عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي فَتَيَانِ حَدِيثَا السِّنِّ , فَكَأَنِّي لَمْ آمَنْ بِمَكَانِهِمَا إِذْ، قَالَ لِي: أَحَدُهُمَا سِرًّا مِنْ صَاحِبِهِ يَا عَمِّ أَرِنِي أَبَا جَهْلٍ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ أَخِي وَمَا تَصْنَعُ بِهِ، قَالَ: عَاهَدْتُ اللَّهَ إِنْ رَأَيْتُهُ أَنْ أَقْتُلَهُ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُ، فَقَالَ لِي: الْآخَرُ سِرًّا مِنْ صَاحِبِهِ مِثْلَهُ، قَالَ: فَمَا سَرَّنِي أَنِّي بَيْنَ رَجُلَيْنِ مَكَانَهُمَا , فَأَشَرْتُ لَهُمَا إِلَيْهِ فَشَدَّا عَلَيْهِ مِثْلَ الصَّقْرَيْنِ حَتَّى ضَرَبَاهُ وَهُمَا ابْنَا عَفْرَاءَ".
مجھ سے یعقوب نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان کے دادا سے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا بدر کی لڑائی کے موقع پر میں صف میں کھڑا ہوا تھا۔ میں نے مڑ کے دیکھا تو میری داہنی اور بائیں طرف دو نوجوان کھڑے تھے۔ ابھی میں ان کے متعلق کوئی فیصلہ بھی نہ کر پایا تھا کہ ایک نے مجھ سے چپکے سے پوچھا تاکہ اس کا ساتھی سننے نہ پائے۔ چچا! مجھے ابوجہل کو دکھا دو۔ میں نے کہا بھتیجے! تم اسے دیکھ کر کیا کرو گے؟ اس نے کہا، میں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ عہد کیا ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو یا اسے قتل کر کے رہوں گا یا پھر خود اپنی جان دے دوں گا۔ دوسرے نوجوان نے بھی اپنے ساتھی سے چھپاتے ہوئے مجھ سے یہی بات پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان دونوں نوجوانوں کے درمیان میں کھڑے ہو کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے اشارے سے انہیں ابوجہل دکھا دیا۔ جسے دیکھتے ہی وہ دونوں باز کی طرح اس پر جھپٹے اور فوراً ہی اسے مار گرایا۔ یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3988]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں غزوہ بدر میں صف بستہ تھا۔ اس دوران میں میں نے مڑ کر دیکھا کہ میرے دائیں بائیں دو کمسن لڑکے کھڑے ہیں تو گویا (اپنے دائیں اور بائیں) ان دو (نو عمر لڑکوں) کے ہونے کی وجہ سے میرا اطمینان جاتا رہا (اور میں دل میں ڈر ہی رہا تھا) کہ اتنے میں ان میں سے ایک نے چپکے سے پوچھا تاکہ اس کا ساتھی نہ سن سکے: اے چچا! مجھے ابوجہل دکھاؤ۔ میں نے اسے کہا: اے بھتیجے! تو ابوجہل کو کیا کرے گا؟ اس نے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کر رکھا ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو اسے قتل کر کے رہوں گا یا خود اپنی جان کا نذرانہ اللہ کے حضور پیش کر دوں گا۔ پھر مجھے دوسرے نے بھی چپکے سے اپنے ساتھی کو بے خبر رکھتے ہوئے اسی طرح کہا، چنانچہ اس وقت مجھے ان دونوں جوانوں کے درمیان کھڑے ہو کر بہت خوشی ہوئی۔ میں نے اشارے سے انہیں ابوجہل دکھایا تو وہ دیکھتے ہی ابوجہل پر باز کی طرح جھپٹے اور اس کا کام تمام کر دیا اور وہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3988]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں