صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب ظلم دون ظلم:
باب: بعض ظلم بعض سے ادنیٰ ہیں۔
حدیث نمبر: 32
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح قَالَ: وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ہمارے سامنے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے (اسی حدیث کو) بشر نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے شعبہ نے، انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو بہت ہی مشکل ہے۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا۔ تب اللہ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری «إن الشرك لظلم عظيم» کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 32]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت اتری: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا وہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: (اے اللہ کے رسول!) ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ظلم نہیں کیا؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”یقینا شرک ظلم عظیم ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 32]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3360
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ، قَالَ: لَيْسَ كَمَا تَقُولُونَ وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 بِشِرْكٍ أَوَ لَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی قسم کے ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔“ تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔ (میں ظلم سے مراد) شرک ہے کیا تم نے لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو یہ نصیحت نہیں سنی کہ ”اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، بیشک شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 3360]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب درج ذیل آیت کریمہ ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا تو ان کے لیے امن و سلامتی ہے“ نازل ہوئی تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کون سا شخص ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں جیسا تم نے سمجھ لیا ہے۔ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہ کیا ہو۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا: ﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”اے لخت جگر! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“” [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 3360]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3428
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، قَالَ: أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَنَزَلَتْ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنے ایمان میں ظلم نہیں کیا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ بیشک شرک ہی ظلم عظیم ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 3428]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا ہو؟ تو یہ آیت ﴿لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”اللہ کے ساتھ شرک نہ کر کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے“ نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3429
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا، قَالَ: لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 3429]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا۔۔۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) پر بہت شاق گزری اور عرض کرنے لگے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد عام ظلم نہیں بلکہ شرک مراد ہے۔ کیا تم نے حضرت لقمان کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے لختِ جگر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: ﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”اے پیارے بیٹے! شرک نہ کرنا کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے۔““ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 3429]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4629
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، قَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ، فَنَزَلَتْ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» نازل ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، ہم میں کون ہو گا جس کا دامن ظلم سے پاک ہو۔ اس یہ آیت اتری «إن الشرك لظلم عظيم» ”بیشک شرک ظلم عظیم ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 4629]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا۔“ نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے کہا: ”ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو؟“ تو یہ آیت ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”بلاشبہ شرک کرنا ظلم عظیم ہے۔“ نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 4629]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4776
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ: إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» کہ ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ ہم میں کون ایسا ہو گا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے۔ تم نے لقمان علیہ السلام کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی «إن الشرك لظلم عظيم» کہ ”بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 4776]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا۔“ اس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت گھبرائے اور عرض کرنے لگے: ”ہم میں سے کون ایسا ہو گا جس نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا ہو گا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیت میں ظلم سے مراد وہ نہیں جو تم نے سمجھا ہے۔ کیا تم نے حضرت لقمان کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی کہ ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”بلاشبہ شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے“؟“ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 4776]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4937
حدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ حَافِظٌ لَهُ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ القرآن وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَانِ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زرارہ بن اوفی سے سنا، وہ سعد بن ہشام سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ بھی ہے، مکرم اور نیک لکھنے والے (فرشتوں) جیسی ہے اور جو شخص قرآن مجید باربار پڑھتا ہے۔ پھر بھی وہ اس کے لیے دشوار ہے تو اسے دوگنا ثواب ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 4937]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ ہے، وہ مکرم اور نیک لکھنے والے (فرشتوں) کے ساتھ ہے اور جو شخص قرآن مجید بار بار پڑھتا ہے اور وہ اس کے لیے دشوار ہے تو اسے دو گنا ثواب ملے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 4937]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6918
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا:" أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ: إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ جب (سورۃ الانعام کی) یہ آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» اتری ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ایمان کو گناہ سے آلود نہیں کیا (یعنی ظلم سے)“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بہت گراں گزری وہ کہنے لگے بھلا ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ایمان کے ساتھ کوئی ظلم (یعنی گناہ) نہ کیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آیت میں ظلم سے گناہ مراد نہیں ہے (بلکہ شرک مراد ہے) کیا تم نے لقمان علیہ السلام کا قول نہیں سنا «إن الشرك لظلم عظيم» ”شرک بڑا ظلم ہے“۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 6918]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب یہ آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے کو ظلم سے ملوث نہ کیا۔“ نازل ہوئی تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام پر بہت گراں گزری، انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا ہو؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ بات نہیں، کیا تم نے حضرت لقمان کی بات نہیں سنی، انہوں نے کہا تھا: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“““ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة