صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب علامات النبوة فى الإسلام:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3575
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ مِنَ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ وَبَقِيَ قَوْمٌ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ كَفَّهُ فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ فَضَمَّ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا فِي الْمِخْضَبِ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ جَمِيعًا، قُلْتُ: كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: ثَمَانُونَ رَجُلًا".
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا، کہا کہ مجھ کو حمید نے خبر دی اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نماز کا وقت ہو چکا تھا، مسجد نبوی سے جن کے گھر قریب تھے انہوں نے تو وضو کر لیا لیکن بہت سے لوگ باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پتھر کی بنی ہوئی ایک لگن لائی گئی۔ اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا لیکن اس کا منہ اتنا تنگ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر اپنا ہاتھ پھیلا کر نہیں رکھ سکتے تھے، چنانچہ آپ نے انگلیاں ملا لیں اور لگن کے اندر ہاتھ کو ڈال دیا پھر (اسی پانی سے) جتنے لوگ باقی رہ گئے تھے سب نے وضو کیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ حضرات کی تعداد کیا تھی؟ انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اسّی آدمی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3575]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ نماز کا وقت ہو گیا تو جس کا گھر مسجد کے قریب تھا وہ اپنے گھر وضو کرنے کے لیے چلا گیا۔ کچھ لوگ باقی رہ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا بنا ہوا ایک برتن لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ آپ نے اپنی ہتھیلی اس میں رکھنا چاہی لیکن اس کا منہ اتنا تنگ تھا کہ آپ اس کے اندر اپنی ہتھیلی پھیلا کر نہیں رکھ سکتے تھے، چنانچہ آپ نے اپنی انگلیاں سمیٹ کر اس برتن میں رکھیں۔ پھر تمام لوگوں نے اس سے وضو کیا۔ (راوی کہتا ہے:) میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسی (80) آدمی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے خبر دی، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز عصر کا وقت آ گیا، لوگوں نے پانی تلاش کیا، جب انہیں پانی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ایک برتن میں) وضو کے لیے پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اسی (برتن) سے وضو کریں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی (چشمے کی طرح) ابل رہا تھا۔ یہاں تک کہ (قافلے کے) آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 169]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا، لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر نہ ملا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ایک برتن میں) وضو کے لیے پانی لایا گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھ دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ”اس سے وضو کریں۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگشت ہائے مبارک کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 195
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ وَبَقِيَ قَوْمٌ،" فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ"، قُلْنَا: كَمْ كُنْتُمْ، قَالَ: ثَمَانِينَ وَزِيَادَةً.
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا، کہا ہم کو حمید نے یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے انس سے نقل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نماز کا وقت آ گیا، تو جس شخص کا مکان قریب ہی تھا وہ وضو کرنے اپنے گھر چلا گیا اور کچھ لوگ (جن کے مکان دور تھے) رہ گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک لگن لایا گیا۔ جس میں کچھ پانی تھا اور وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ اس میں اپنی ہتھیلی نہیں پھیلا سکتے تھے۔ (مگر) سب نے اس برتن کے پانی سے وضو کر لیا، ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم کتنے نفر تھے؟ کہا اسی (80) سے کچھ زیادہ ہی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 195]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ نماز کا وقت ہو گیا تو جس شخص کا گھر قریب تھا وہ تو اپنے گھر (وضو کرنے کے لیے) چلا گیا جبکہ کچھ لوگ باقی رہ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پتھر کا برتن لایا گیا جس میں کچھ پانی تھا۔ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنی ہتھیلی نہ پھیلا سکے لیکن (اس کے باوجود) سب لوگوں نے اس سے وضو کر لیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ تم اس وقت کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا: اسی (80) سے کچھ زیادہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، وہ ثابت سے، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں کچھ تھوڑا پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس (ایک پیالہ) پانی سے جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستر (70) سے اسی (80) تک تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 200]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا تو ایک کم گہرائی والا پیالہ لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ آپ نے اپنی انگشت ہائے مبارک کو اس میں رکھ دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے آپ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹتے دیکھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: میں نے ان لوگوں کا اندازہ لگایا جنہوں نے اس پانی سے وضو کیا تھا تو ان کی تعداد ستر اسی کے درمیان تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3572
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ وَهُوَ بِالزَّوْرَاءِ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ، قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟، قَالَ: ثَلَاثَ مِائَةٍ أَوْ زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن حاضر کیا گیا (پانی کا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت (مدینہ کے نزدیک) مقام زوراء میں تشریف رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں ہاتھ رکھا تو اس میں سے پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا اور اسی پانی سے پوری جماعت نے وضو کیا۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ تین سو رہے ہوں گے یا تین سو کے قریب رہے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3572]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا جبکہ آپ مقامِ زوراء میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے اپنا دستِ مبارک برتن میں رکھ دیا تو آپ کی انگلیوں سے پانی بہنے لگا جس سے وہاں موجود سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ لوگ وہاں کتنی تعداد میں تھے؟ تو انہوں نے کہا: تین سو یا اس کے لگ بھگ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3572]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3573
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتُمِسَ الْوَضُوءُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا، اور لوگ وضو کا پانی تلاش کر رہے تھے لیکن پانی کا کہیں پتہ نہیں تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک برتن کے اندر) وضو کا پانی لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور لوگوں سے فرمایا کہ اسی پانی سے وضو کریں۔ میں نے دیکھا کہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے ابل رہا تھا چنانچہ لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ہر شخص نے وضو کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3573]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جبکہ نمازِ عصر کا وقت ہو چکا تھا اور لوگ وضو کے لیے پانی تلاش کر رہے تھے لیکن اس کا کہیں سراغ نہیں ملتا تھا۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھ دیا اور لوگوں سے فرمایا کہ ”وہ اس سے وضو کریں۔“ میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا، چنانچہ لوگوں نے وضو کرنا شروع کر دیا حتیٰ کہ اول سے آخر تک تمام لوگوں نے اس سے اپنا وضو مکمل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3574
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُبَارَكٍ، حَدَّثَنَا حَزْمٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَخَارِجِهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَانْطَلَقُوا يَسِيرُونَ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً يَتَوَضَّئُونَ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ يَسِيرٍ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَدَّ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ عَلَى الْقَدَحِ ثُمَّ، قَالَ:" قُومُوا فَتَوَضَّئُوا فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ حَتَّى بَلَغُوا فِيمَا يُرِيدُونَ مِنَ الْوَضُوءِ وَكَانُوا سَبْعِينَ أَوْ نَحْوَهُ".
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حزم بن مہران نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام حسن بصری سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی تھے، چلتے چلتے نماز کا وقت ہو گیا تو وضو کے لیے کہیں پانی نہیں ملا۔ آخر جماعت میں سے ایک صاحب اٹھے اور ایک بڑے سے پیالے میں تھوڑا سا پانی لے کر حاضر خدمت ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اس کے پانی سے وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیالے پر رکھا اور فرمایا کہ آؤ وضو کرو، پوری جماعت نے وضو کیا اور تمام آداب و سنن کے ساتھ پوری طرح کر لیا۔ ہم تعداد میں ستر یا اسی کے لگ بھگ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3574]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں باہر تشریف لے گئے اور آپ کے ہمراہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت بھی تھی۔ چلتے چلتے نماز کا وقت آگیا لیکن وضو کے لیے پانی کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ آخر قوم میں سے ایک آدمی گیا اور ایک پیالہ لے آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اس سے وضو کیا۔ پھر اس پیالے میں اپنی چار انگلیوں کو رکھ دیا۔ پھر لوگوں سے فرمایا: ”اٹھو اور وضو کرو۔“ چنانچہ انہوں نے اس سے وضو کیا اور اس سے اپنی دیگر ضروریات بھی پوری کیں اور وہ تعداد میں ستر یا اس کے لگ بھگ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3574]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3579
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَلَّ الْمَاءُ، فَقَالَ:" اطْلُبُوا فَضْلَةً مِنْ مَاءٍ فَجَاءُوا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَلِيلٌ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے کی طرح پھوٹ رہا تھا اور ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھاتے وقت کھانے کے تسبیح سنتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3579]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم تو معجزات کو باعث برکت خیال کرتے تھے اور تم سمجھتے ہو کہ (کفار کو) ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ پانی کم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ بچا ہوا پانی تلاش کر لاؤ۔“ چنانچہ لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پانی میں ڈال دیا اور اس کے بعد فرمایا: «حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ، وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ» ”مبارک پانی کی طرف آؤ اور برکت تو اللہ کی طرف سے ہے۔“ میں نے اس وقت دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگشتہائے مبارک سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ اور (بسا اوقات) کھانا کھاتے وقت ہم کھانے میں سے تسبیح کی آواز سنتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3579]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5639
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ:" قَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَضَرَتِ الْعَصْرُ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ غَيْرَ فَضْلَةٍ، فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ فَأُتِيَ، النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ وَفَرَّجَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى أَهْلِ الْوُضُوءِ الْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ وَشَرِبُوا، فَجَعَلْتُ لَا آلُوا مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ، قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ"، تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَقَالَ حُصَيْنٌ، وعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَتَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جَابِرٍ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تھوڑے سے بچے ہوئے پانی کے سوا ہمارے پاس اور کوئی پانی نہیں تھا اسے ایک برتن میں رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اپنی انگلیاں پھیلا دیں پھر فرمایا آؤ وضو کر لو یہ اللہ کی طرف سے برکت ہے۔ میں نے دیکھا کہ پانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا تھا چنانچہ سب لوگوں نے اس سے وضو کیا اور پیا بھی۔ میں نے اس کی پرواہ کئے بغیر کہ پیٹ میں کتنا پانی جا رہا ہے خوب پانی پیا کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ برکت کا پانی ہے۔ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لوگ اس وقت کتنی تعداد میں تھے؟ بتلایا کہ ایک ہزار چار سو۔ اس روایت کی متابعت عمرو نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے اور حسین اور عمرو بن مرہ نے سالم سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ صحابہ کی اس وقت تعداد پندرہ سو تھی۔ اس کی متابعت سعید بن مسیب نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 5639]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا جبکہ عصر کا وقت ہو گیا اور ہمارے پاس تھوڑے سے بچے ہوئے پانی کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ اسے ایک برتن میں ڈال کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا دستِ مبارک رکھا اور انگلیاں پھیلا دیں، پھر فرمایا: ”اے وضو کرنے والو! وضو کر لو، یہ اللہ کی طرف سے برکت ہے۔“ میں نے دیکھا کہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا تھا، چنانچہ سب لوگوں نے اس سے وضو کیا اور اسے نوش کیا۔ میں نے اس امر کی پروا کیے بغیر کہ پیٹ میں کتنا پانی جا رہا ہے خوب پانی پیا، کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ بابرکت پانی ہے۔ (راویِ حدیث کہتے ہیں کہ) میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اس دن آپ کتنے لوگ تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ایک ہزار چار سو۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں عمرو بن دینار نے سالم کی متابعت کی ہے، حصین اور عمرو بن مرہ نے سالم کے ذریعے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پندرہ سو کی تعداد بیان کی ہے، سعید بن مسیب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں سالم کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 5639]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة