صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَنَاقِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3745
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ:" لَأَبْعَثَنَّ يَعْنِي عَلَيْكُمْ يَعْنِي أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ" , فَأَشْرَفَ أَصْحَابُهُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے صلہ نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے یہاں ایک امین کو بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہو گا۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شوق ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3745]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا: ”میں تمہارے ہاں ایسا حاکم بھیجوں گا جو کامل امین ہوگا۔“ یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے نگاہیں اٹھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3745]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر امت میں امین ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3744]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور ہماری اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4380
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: جَاءَ الْعَاقِبُ، وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ أَنْ يُلَاعِنَاهُ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: لَا تَفْعَلْ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ، وَلَا عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا، قَالَا: إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا، فَقَالَ:" لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ"، فَلَمَّا قَامَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
مجھ سے عباس بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے صلہ بن زفر نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نجران کے دو سردار عاقب اور سید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور پھر بھی ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم پنپ نہیں سکتے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسلیں رہ سکیں گی۔ پھر ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو کچھ آپ مانگیں ہم جزیہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ کوئی امین بھیج دیجئیے، جو بھی آدمی ہمارے ساتھ بھیجیں وہ امین ہونا ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہو گا بلکہ پورا پورا امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے، آپ نے فرمایا کہ ابوعبیدہ بن الجراح! اٹھو۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4380]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سردارانِ نجران عاقب اور سید مباہلے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”مباہلہ مت کرو کیونکہ اگر وہ سچے نبی ہیں اور ہم ان سے مباہلہ کریں تو ہماری اور ہماری اولاد سب کی تباہی ہو جائے گی“، چنانچہ دونوں نے آپ سے عرض کی: ”آپ جو ہمیں فرمائیں گے ہم وہ ادا کرتے رہیں گے۔ آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار کو بھیج دیں۔ ازراہ کرم کسی امین ہی کو بھیجیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ ضرور ایک ایسے امانت دار کو بھیجوں گا جو اعلیٰ درجے کا امین ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے (کہ وہ کون خوش قسمت ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوعبیدہ بن جراح! کھڑے ہو جاؤ۔“ پھر جب وہ کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص اس امت کا امین ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ابْعَثْ لَنَا رَجُلًا أَمِينًا، فَقَالَ:" لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ النَّاسُ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سے سنا، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور ان سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل نجران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کوئی امانت دار آدمی بھیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا آدمی بھیجوں گا جو ہر حیثیت سے امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم منتظر تھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4381]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اہل نجران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”ہمارے پاس کسی امین شخص کو بھیجیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس ایسا امانت دار ضرور بھیجوں گا جو کامل امین ہے۔“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گردنیں اونچی کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4381]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4382
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر امت میں امین (امانتدار) ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4382]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4382]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7254
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ:"لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ، فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے، ان سے صلہ بن زفر نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا ”میں تمہارے پاس ایک امانت دار آدمی جو حقیقی امانت دار ہو گا بھیجوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ منتظر رہے (کہ کون اس صفت سے موصوف ہے) تو آپ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7254]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا: ”میں تمہارے پاس ایک امانت دار آدمی جو حقیقی امانت دار ہوگا ضرور بھیجوں گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی طرف نگاہیں اٹھائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7254]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7255
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد بن مہران نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر امت میں ایک امانت دار ہوتا ہے اور اس امت کے امانت دار ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7255]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7354
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْأَعْرَجِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَالَ:" مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ثُمَّ يَقْبِضْهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا، مجھ سے زہری نے، انہوں نے اعرج سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات زیادہ حدیث بیان کرتے ہیں، اللہ کے حضور میں سب کو جانا ہے۔ بات یہ تھی کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا لیکن مہاجرین کو بازار کے کاروبار مشغول رکھتے تھے اور انصار کو اپنے مالوں کی دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی۔ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا، یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کر لوں اور پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔ چنانچہ میں نے اپنی چادر جو میرے جسم پر تھی، پھیلا دی اور اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تھا پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی، نہیں بھولا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7354]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”تم خیال کرتے ہو کہ ابوہریرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت احادیث بیان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور سب نے جانا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتا تھا، جبکہ مہاجرین کو بازار کے کاروبار مشغول رکھتے تھے اور انصار کو اپنی زمینوں کی دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو اپنی چادر پھیلائے رکھے یہاں تک کہ میں اپنا کلام پورا کر لوں، پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔“ تو میں نے اپنے بدن کی چادر پھیلا دی۔ اللہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز بھی سنی اس کو نہیں بھولا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7354]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7381
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَقُولُ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم (ابتداء اسلام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے «السلام على الله.» تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ تو خود ہی «السلام.» ہے، البتہ اس طرح کہا کرو «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7381]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم (ابتدائے اسلام میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو اس طرح کہتے: ”اللہ پر سلام۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ» ”اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے (اسے تمہاری دعائے سلامتی کی ضرورت نہیں) البتہ اس طرح کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام عبادتیں، نمازیں اور پاکیزہ کلمات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو۔ آپ پر اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو۔ سلام ہو ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7381]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة