🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب بعث أبى موسى ومعاذ إلى اليمن قبل حجة الوداع:
باب: حجۃ الوداع سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4342
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلَافٍ، قَالَ: وَالْيَمَنُ مِخْلَافَانِ، ثُمَّ قَالَ:" يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا"، فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَيُّمَ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، قَالَ: لَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَالَ: إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ، فَانْزِلْ، قَالَ: مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا، قَالَ: فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ دونوں صحابیوں کو اس کے ایک ایک صوبے میں بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ یمن کے دو صوبے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھو لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، دشواریاں نہ پیدا کرنا، انہیں خوش کرنے کی کوشش کرنا، دین سے نفرت نہ دلانا۔ یہ دونوں بزرگ اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو گئے۔ دونوں میں سے جب کوئی اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے اپنے دوسرے ساتھی کے پاس پہنچ جاتا تو ان سے تازی (ملاقات) کے لیے آتا اور سلام کرتا۔ ایک مرتبہ معاذ رضی اللہ عنہ اپنے علاقہ میں اپنے صاحب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گئے اور اپنے خچر پر ان سے ملاقات کے لیے چلے۔ جب ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کچھ لوگ جمع ہیں اور ایک شخص ان کے سامنے ہے جس کی مشکیں کسی ہوئی ہیں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: اے عبداللہ بن قیس! یہ کیا واقعہ ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ یہ شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے میں اپنی سواری سے نہیں اتروں گا۔ موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قتل کرنے ہی کے لیے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ آپ اتر جائیں لیکن انہوں نے اب بھی یہی کہا کہ جب تک اسے قتل نہ کیا جائے گا میں نہ اتروں گا۔ آخر موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ تب وہ اپنی سواری سے اترے اور پوچھا، عبداللہ! آپ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں پھر انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ معاذ! آپ قرآن مجید کس طرح پڑھتے ہیں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو رات کے شروع میں سوتا ہوں پھر اپنی نیند کا ایک حصہ پورا کر کے میں اٹھ بیٹھتا ہوں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے مقدر کر رکھا ہے اس میں قرآن مجید پڑھتا ہوں۔ اس طرح بیداری میں جس ثواب کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھتا ہوں سونے کی حالت کے ثواب کا بھی اس سے اسی طرح امیدوار رہتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4342]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کی طرف بھیجا اور ہر ایک کو یمن کی الگ الگ ولایت میں تعینات فرمایا۔ اس وقت یمن دو ولایات پر مشتمل تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر آسانی کرنا، سختی سے کام نہ لینا، انہیں خوش رکھنا، نفرت نہ دلانا۔ بہرحال ان میں سے ہر ایک اپنے کام پر روانہ ہوا۔ ان میں سے جو کوئی اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے اپنے ساتھی کے قریب آ جاتا تو اس سے ضرور ملاقات کرتا اور اسے سلام کر کے مزاج پرسی کرتا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گئے، اس وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے خچر پر سوار بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے۔ وہاں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے عبداللہ بن قیس! یہ کون ہے؟ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تک اسے قتل نہیں کیا جاتا میں اپنے خچر سے نہیں اتروں گا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نیچے اتریں، اسے اسی لیے (قتل کرنے کے لیے) یہاں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: میں تو اس کے مارے جانے سے پہلے ہرگز نہیں اتروں گا، چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حکم سے وہ قتل کر دیا گیا۔ تب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنی سواری سے نیچے اترے اور پوچھا: اے عبداللہ! تم قرآن کیسے پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں۔ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے معاذ! تم کیسے تلاوت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں اولِ شب میں سو جاتا ہوں، پھر اٹھ بیٹھتا ہوں، اس کے بعد اللہ کو منظور ہوتا ہے پڑھ لیتا ہوں۔ میں تو سوتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں جیسے اٹھتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4345
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَدَّهُ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ:" يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا"، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ الْمِزْرُ، وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ الْبِتْعُ، فَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، فَانْطَلَقَا، فَقَالَ مُعَاذٌ لِأَبِي مُوسَى: كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى رَاحِلَتِي وَأَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي، وَضَرَبَ فُسْطَاطًا فَجَعَلَا يَتَزَاوَرَانِ، فَزَارَ مُعَاذٌ أَبَا مُوسَى فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ، ثُمَّ ارْتَدَّ، فَقَالَ مُعَاذٌ: لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. تَابَعَهُ الْعَقَدِيُّ، وَوَهْبٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَالْنَّضْرُ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان کے والد نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، ان کو دشواریوں میں نہ ڈالنا۔ لوگوں کو خوش خبریاں دینا دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں موافقت رکھنا۔ اس پر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے ملک میں جَو سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جس کا نام مزر ہے اور شہد سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جو بتع کہلاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ پھر دونوں بزرگ روانہ ہوئے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ کھڑے ہو کر بھی، بیٹھ کر بھی اور اپنی سواری پر بھی اور میں تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد پڑھتا ہی رہتا ہوں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن میرا معمول یہ ہے کہ شروع رات میں، میں سو جاتا ہوں اور پھر بیدار ہو جاتا ہوں۔ اس طرح میں اپنی نیند پر بھی ثواب کا امیدوار ہوں جس طرح بیدار ہو کر (عبادت کرنے پر) ثواب کی مجھے امید ہے اور انہوں نے ایک خیمہ لگا لیا اور ایک دوسرے سے ملاقات برابر ہوتی رہتی۔ ایک مرتبہ معاذ رضی اللہ عنہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے، دیکھا ایک شخص بندھا ہوا ہے۔ پوچھا یہ کیا بات ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ یہ ایک یہودی ہے، پہلے خود اسلام لایا اب یہ مرتد ہو گیا ہے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسے قتل کئے بغیر ہرگز نہ رہوں گا۔ مسلم بن ابراہیم کے ساتھ اس حدیث کو عبدالملک بن عمرو عقدی اور وہب بن جریر نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور وکیع، نضر اور ابوداؤد نے اس کو شعبہ سے، انہوں نے سعید سے، انہوں اپنے باپ بردہ سے، انہوں نے سعید کے دادا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور جریر بن عبد الحمید نے اس کو شیبانی سے روایت کیا، انہوں نے ابوبردہ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4345]
حضرت سعید بن ابو بردہ اپنے والد (حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (سعید) کے دادا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: لوگوں پر آسانی کرنا، ان پر تنگی نہ کرنا، انہیں خوشخبری سنانا، نفرت نہ دلانا اور ایک دوسرے سے موافقت پیدا کرنا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے علاقے میں کچھ مشروبات جو سے تیار ہوتے ہیں جنہیں «الْمِزْرُ» مزر اور کچھ شہد سے بنتے ہیں جنہیں «الْبِتْعُ» بتع کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ چنانچہ دونوں حضرات یمن کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر (ایک ملاقات میں) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ قرآن کیسے پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، سواری پر وقفے وقفے سے پڑھتا رہتا ہوں۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں سوتا ہوں، پھر اٹھتا ہوں اور اپنی نیند کو بھی قیام کی طرح ثواب سمجھتا ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے ایک خیمہ لگوایا تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی زیارت کریں۔ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لیے آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی بندھا ہوا ہے، پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ یہودی ہے جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس کی گردن ضرور اڑاؤں گا۔ عقدی اور وہب نے شعبہ سے روایت کرنے میں مسلم کی متابعت کی ہے۔ وکیع، ابو نضر اور ابو داود نے شعبہ سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے اپنے والد کے ذریعے سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ جریر بن عبدالحمید نے شیبانی سے اور انہوں نے ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں