صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب: {نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم وقدموا لأنفسكم} الآية:
باب: آیت کی تفسیر ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو تم اپنے کھیت میں آؤ جس طرح سے چاہو اور اپنے حق میں آخرت کے لیے کچھ نیکیاں کرتے رہو“۔
حدیث نمبر: 4526
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ , قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ، فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ، قَالَ:" تَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا"، ثُمَّ مَضَى.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر بن شمیل نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ ابن عون نے خبر دی، ان سے نافع نے بیان کیا کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما قرآن پڑھتے تو اور کوئی لفظ زبان پر نہیں لاتے یہاں تک کہ تلاوت سے فارغ ہو جاتے۔ ایک دن میں (قرآن مجید لے کر) ان کے سامنے بیٹھ گیا اور انہوں نے سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کی۔ جب اس آیت «نساؤكم حرث لكم» الخ پر پہنچے تو فرمایا، معلوم ہے یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا کہ فلاں فلاں چیز (یعنی عورت سے پیچھے کی طرف سے جماع کرنے کے بارے میں) نازل ہوئی تھی اور پھر تلاوت کرنے لگے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4526]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب قرآن پڑھتے تو اس سے فارغ ہونے تک کوئی بات نہ کرتے تھے۔ ایک دن میں نے ان کے قرآن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تو انہوں نے سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر پہنچے۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس چیز کے متعلق نازل ہوئی تھی؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت فلاں فلاں چیز کے متعلق نازل ہوئی تھی۔“ پھر انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4526]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4527
وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنِي أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 , قَالَ:" يَأْتِيهَا فِي"،رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
اور عبدالصمد بن عبدالوارث سے روایت ہے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ آیت «فأتوا حرثكم أنى شئتم» ”سو تم اپنے کھیت میں آؤ جس طرح چاہو۔“ کے بارے میں فرمایا کہ (پیچھے سے بھی) آ سکتا ہے۔ اور اس حدیث کو محمد بن یحییٰ بن سعید بن قطان نے بھی اپنے والد سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4527]
نافع رحمہ اللہ ہی سے ایک دوسری روایت ہے، وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے ﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تم اپنی کھیتی کو جہاں سے چاہو جا سکتے ہو“ کے متعلق فرمایا: ”مرد اپنی بیوی کی (شرمگاہ) میں جماع کر سکتا ہے۔“ اس روایت کو محمد بن یحییٰ نے اپنے والد یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع رحمہ اللہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4527]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة