صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّصَيُّدِ:
باب: شکار کرنے کو بطور مشغلہ اختیار کرنا۔
حدیث نمبر: 5491
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح روایت کیا البتہ اس روایت میں یہ لفظ زیادہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے یا نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5491]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5491]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1821
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ:" انْطَلَقَ أَبِي عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ، وَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا يَغْزُوهُ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ تَضَحَّكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَطَعَنْتُهُ، فَأَثْبَتُّهُ وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، قُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تَرَكْتُهُ بِتَعْهَنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَهْلَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ؟ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ".
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ ابن کثیر نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے موقع پر (دشمنوں کا پتہ لگانے) نکلے۔ پھر ان کے ساتھیوں نے تو احرام باندھا لیا لیکن (خود انہوں نے ابھی) نہیں باندھا تھا (اصل میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے یہ اطلاع دی تھی کہ مقام غیقہ میں دشمن آپ کی تاک میں ہے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابوقتادہ اور چند صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کی تلاش میں) روانہ کیا میرے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے (میرے والد نے بیان کیا کہ) میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ ایک جنگلی گدھا سامنے ہے۔ میں اس پر جھپٹا اور نیزے سے اسے ٹھنڈا کر دیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد چاہی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا، پھر ہم نے گوشت کھایا۔ اب ہمیں یہ ڈر ہوا کہ کہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) دور نہ ہو جائیں، چنانچہ میں نے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا کبھی اپنے گھوڑے تیز کر دیتا اور کبھی آہستہ، آخر رات گئے بنو غفار کے ایک شخص سے ملاقات ہو گئی۔ میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جب میں آپ سے جدا ہوا تو آپ مقام تعھن میں تھے اور آپ کا ارادہ تھا کہ مقام سقیا میں پہنچ کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ غرض میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور میں نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ کے اصحاب آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتے ہیں۔ انہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں وہ بہت پیچھے نہ رہ جائیں۔ اس لیے آپ ٹھہر کر ان کا انتظار کریں، پھر میں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا تھا اور اس کا کچھ بچا ہوا گوشت اب بھی میرے پاس موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کھانے کے لیے فرمایا حالانکہ وہ سب احرام باندھے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 1821]
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے والد محترم (ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا لیکن انہوں نے نہیں باندھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ مقام غیقہ میں دشمن آپ سے جنگ کرنا چاہتا ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر کو جاری رکھا۔ میرے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ اچانک وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ (میرے والد نے بیان کیا کہ میں متوجہ ہوا) تو میں نے دیکھا کہ ایک جنگلی گدھا سامنے ہے۔ میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے زخمی کر کے ٹھہرنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تعاون چاہا لیکن انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ بہر حال ہم نے اس کا کچھ گوشت کھایا۔ اسی اثنا میں ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ مبادا ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) پیچھے رہ جائیں، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنا شروع کیا۔ میں اپنے گھوڑے کو کبھی دوڑاتا اور کبھی آہستہ چلاتا رہا۔ میں آدھی رات کے قریب قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ملا، میں نے اس سے دریافت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تم نے کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام تعہن میں چھوڑا ہے، آپ مقام سقیا پر قیلولہ کرنا چاہتے تھے۔ میں نے (آپ کے پاس پہنچ کر) عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کو سلام کہتے ہیں اور آپ کے لیے رحمت الٰہی کی دعا کرتے ہیں! انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ آپ سے پیچھے نہ رہ جائیں لہذا آپ ان کا انتظار فرمائیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک گاؤ خر کا شکار کیا ہے اور میرے پاس کچھ بچا ہوا گوشت موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم سے فرمایا: ”اسے کھاؤ۔“ حالانکہ وہ سب احرام باندھے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5492
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ والْمَدِينَةِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَنَا رَجُلٌ حِلٌّ عَلَى فَرَسٍ وَكُنْتُ رَقَّاءً عَلَى الْجِبَالِ، فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ إِذْ رَأَيْتُ النَّاسَ مُتَشَوِّفِينَ لِشَيْءٍ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ، فَإِذَا هُوَ حِمَارُ وَحْشٍ، فَقُلْتُ لَهُمْ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: لَا نَدْرِي، قُلْتُ: هُوَ حِمَارٌ وَحْشِيٌّ، فَقَالُوا: هُوَ مَا رَأَيْتَ، وَكُنْتُ نَسِيتُ سَوْطِي، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي سَوْطِي، فَقَالُوا: لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُ ثُمَّ ضَرَبْتُ فِي أَثَرِهِ، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا ذَاكَ حَتَّى عَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ إِلَيْهِمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: قُومُوا فَاحْتَمِلُوا، قَالُوا: لَا نَمَسُّهُ، فَحَمَلْتُهُ حَتَّى جِئْتُهُمْ بِهِ، فَأَبَى بَعْضُهُمْ وَأَكَلَ بَعْضُهُمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ أَنَا أَسْتَوْقِفُ لَكُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْتُهُ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِي:" أَبَقِيَ مَعَكُمْ شَيْءٌ مِنْهُ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" كُلُوا فَهُوَ طُعْمٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، ان سے ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے ابوقتادہ کے غلام نافع اور توامہ کے غلام ابوصالح نے کہ انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ دوسرے لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا اور ایک گھوڑے پر سوار تھا۔ میں پہاڑوں پر چڑھنے کا بڑا عادی تھا پھر اچانک میں نے دیکھا کہ لوگ للچائی ہوئی نظروں سے کوئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ میں نے جو دیکھا تو ایک گورخر تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں! میں نے کہا کہ یہ تو گورخر ہے۔ لوگوں نے کہا کہ جو تم نے دیکھا ہے وہی ہے۔ میں اپنا کوڑا بھول گیا تھا اس لیے ان سے کہا کہ مجھے میرا کوڑا دے دو لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اس میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے (کیونکہ ہم محرم ہیں) میں نے اتر کر خود کوڑا اٹھایا اور اس کے پیچھے سے اسے مارا، وہ وہیں گر گیا پھر میں نے اسے ذبح کیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس اسے لے کر آیا۔ میں نے کہا کہ اب اٹھو اور اسے اٹھاؤ، انہوں نے کہا کہ ہم اسے نہیں چھوئیں گے۔ چنانچہ میں ہی اسے اٹھا کر ان کے پاس لایا۔ بعض نے تو اس کا گوشت کھایا لیکن بعض نے انکار کر دیا پھر میں نے ان سے کہا کہ اچھا میں اب تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رکنے کی درخواست کروں گا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی بچا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا کھاؤ کیونکہ یہ ایک کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو کھلایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5492]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو احرام باندھے ہوئے تھے جبکہ میں احرام کے بغیر تھا، میں ایک گھوڑے پر سوار تھا اور پہاڑوں پر چڑھنے کا بڑا ماہر تھا۔ میں نے اسی دوران لوگوں کو دیکھا کہ وہ للچائی ہوئی نگاہوں سے کوئی چیز دیکھ رہے ہیں، میں نے دیکھنا شروع کیا تو اچانک میری نظر ایک گاؤخر پر پڑی، میں نے ساتھیوں سے پوچھا: ”یہ کیا چیز ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ہمیں معلوم نہیں۔“ میں نے کہا: ”یہ تو گاؤخر ہے“، انہوں نے کہا: ”یہ وہی ہے جو تو نے دیکھا ہے“۔ میں اپنا کوڑا بھول گیا تھا، میں نے ان سے کہا: ”مجھے میرا کوڑا دے دو“، انہوں نے کہا: ”ہم اس سلسلے میں تمہارا کوئی تعاون نہیں کر سکتے“۔ میں نے اتر کر اپنا کوڑا خود اٹھایا اور اس گاؤخر کے پیچھے دوڑ پڑا، واقعی وہ گاؤخر تھا، میں نے پیچھے سے اس کی ٹانگ کو زخمی کر دیا، میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ اب تم اٹھو اور اسے اٹھا لاؤ، انہوں نے کہا: ”ہم تو اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے“۔ بہرحال میں نے خود اسے اٹھایا اور ان کے پاس لے کر آیا، کچھ حضرات نے اس کا گوشت کھایا جبکہ بعض نے انکار کر دیا، میں نے کہا: ”اچھا میں تمہارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتا ہوں“، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی بھی بچا ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھاؤ۔ یہ وہ کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5492]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة