🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب العذرة:
باب: «عذرة» یعنی حلق کے کوا کے گر جانے کا علاج (جسے عربی میں سقوط اللھاۃ کہتے ہیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5715
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةَ أَسَدَ خُزَيْمَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَاشَةَ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا قَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا: ذَاتُ الْجَنْبِ"، يُرِيدُ الْكُسْتَ وَهُوَ الْعُودُ الْهِنْدِيُّ، وَقَالَ يُونُسُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن اسدیہ نے انہیں خبر دی، ان کا تعلق قبیلہ خزیمہ کی شاخ بن اسد سے تھا وہ ان ابتدائی مہاجرات میں سے تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ آپ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں (انہوں نے بیان کیا کہ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں۔ انہوں نے اپنے لڑکے کے «عذرة» کا علاج تالو دبا کر کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آخر تم عورتیں کیوں اپنی اولاد کو یوں تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو۔ تمہیں چاہیئے کہ اس مرض میں عود ہندی کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے۔ ان میں ایک ذات الجنب کی بیماری بھی ہے۔ (عود ہندی سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد «كست» تھی یہی عود ہندی ہے۔ اور یونس اور اسحاق بن راشد نے بیان کیا اور ان سے زہری نے اس روایت میں بجائے «اعلقت عليه‏.‏» کے «علقت عليه‏.‏» نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5715]
حضرت ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان کا تعلق قبیلہ خزیمہ کی شاخ بنو اسد سے تھا، وہ پہلی پہلی مہاجر عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ نیز آپ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لائیں، انہوں نے اپنے بیٹے کی عذرہ بیماری کا علاج تالو دبا کر کیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عورتیں کس لیے اپنی اولاد کو تالو دبا کر تکلیف دیتی ہو؟ تمہیں چاہیے کہ اس مرض میں عودِ ہندی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے، ان میں سے ایک سینے کا درد ہے۔ اس سے آپ کی مراد کست تھی، یہی عودِ ہندی ہے۔ یونس اور اسحاق بن راشد نے امام زہری سے «أَعْلَقْتِ» کے بجائے «عَلَّقْتِ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5715]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5692
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ: يُسْتَعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، کہا میں نے زہری سے سنا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے کہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس عود ہندی ( «كست») کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے، پسلی کے درد میں چبائی جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5692]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْعُودُ الْهِنْدِيُّ» عودِ ہندی استعمال کیا کرو، بلاشبہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے اور سینہ کے درد کے لیے اسے چبایا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5692]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5693
وَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّ عَلَيْهِ.
‏‏‏‏ اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک شیرخوار لڑکے کو لے کر حاضر ہوئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اس نے پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر پیشاب کی جگہ پر چھینٹا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5693]
(وہ کہتی ہیں کہ) میں اپنے شیر خوار بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس (پیشاب کی جگہ) پر چھینٹے مار دیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5693]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَجْرِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، وَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ، فَخَفَّفُوا عَنْهُ، وَقَالَ: إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ، وَقَالَ: لَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْقُسْطِ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو حمید الطویل نے خبر دی اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے ان سے پچھنا لگوانے والے کی مزدوری کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا تھا آپ کو ابوطیبہ (نافع یا میسرہ) نے پچھنا لگایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو صاع کھجور مزدوری میں دی تھی اور آپ نے ان کے مالکوں (بنو حارثہ) سے گفتگو کی تو انہوں نے ان سے وصول کئے جانے والے لگان میں کمی کر دی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (خون کے دباؤ کا) بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے اور عمدہ دوا عود ہندی کا استعمال کرنا ہے اور فرمایا اپنے بچوں کو «عذرة» (حلق کی بیماری) میں ان کا تالو دبا کر تکلیف مت دو بلکہ «قسط» لگا دو اس سے ورم جاتا رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5696]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے سینگی لگوانے والے کی مزدوری کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے سینگی لگائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع غلہ دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ کے آقاؤں سے اس کے ٹیکس کے متعلق گفتگو کی تو انہوں نے اس میں تخفیف کر دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنے لگوانا ہے اور عود بحری استعمال کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: تم اپنے بچوں کو حلق کی بیماری کی وجہ سے ان کا تالو دبا کر تکلیف نہ دیا کرو بلکہ (اس کے لیے) تم قسط ہندی استعمال کیا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5696]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5713
ع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ قَالَتْ:" دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ: مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ، فَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: بَيَّنَ لَنَا اثْنَيْنِ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا خَمْسَةً، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَعْمَرًا يَقُولُ: أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ؟، قَالَ: لَمْ يَحْفَظْ، إِنَّمَا قَالَ: أَعْلَقْتُ عَنْهُ، حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ وَوَصَفَ سُفْيَانُ الْغُلَامَ يُحَنَّكُ بِالْإِصْبَعِ، وَأَدْخَلَ سُفْيَان فِي حَنَكِهِ إِنَّمَا يَعْنِي رَفْعَ حَنَكِهِ بِإِصْبَعِهِ، وَلَمْ يَقُلْ أَعْلِقُوا عَنْهُ شَيْئًا.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ام قیس رضی اللہ عنہا نے کہ میں اپنے ایک لڑکے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے اس کی ناک میں بتی ڈالی تھی، اس کا حلق دبایا تھا چونکہ اس کو گلے کی بیماری ہو گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بچوں کو انگلی سے حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو یہ عود ہندی لو اس میں سات بیماریوں کی شفاء ہے ان میں ایک ذات الجنب (پسلی کا ورم بھی ہے) اگر حلق کی بیماری ہو تو اس کو ناک میں ڈالو اگر ذات الجنب ہو تو حلق میں ڈالو (لدود کرو) سفیان کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیماریوں کو تو بیان کیا باقی پانچ بیماریوں کو بیان نہیں فرمایا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان سے کہا، معمر تو زہری سے یوں نقل کرتا ہے «أعلقت عنه» انہوں نے کہا کہ معمر نے یاد نہیں رکھا۔ مجھے یاد ہے زہری نے یوں کہا تھا «أعلقت عليه‏.‏» اور سفیان نے اس تحنیک کو بیان کیا جو بچہ کو پیدائش کے وقت کی جاتی ہے سفیان نے انگلی حلق میں ڈال کر اپنے کوے کو انگلی سے اٹھایا تو سفیان نے «أعلاق» کا معنی بچے کے حلق میں انگلی ڈال کر تالو کو اٹھایا انہوں نے یہ نہیں کہا «أعلقوا عنه شيئا‏.‏» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5713]
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ میں نے عذرہ (گلے کی بیماری) کی وجہ سے اس کا تالو دبوایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچوں کو انگلی سے حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو؟ تم عود ہندی استعمال کرو۔ اس میں سات بیماریوں کی شفا ہے، ان میں سے ایک سینے کا درد ہے۔ اگر حلق کی بیماری ہے تو ناک میں دوائی ڈالی جائے اور سینے کے درد کے لیے منہ کے ایک جانب دوائی ڈالی جائے۔ (سفیان کہتے ہیں کہ) میں نے زہری سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیماریوں کو بیان کیا لیکن باقی پانچ بیماریوں کا ذکر نہیں کیا۔ (عبداللہ بن مدینی نے کہا کہ) میں نے سفیان سے ذکر کیا کہ معمر تو «أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ» أعلقت علیہ کے الفاظ بیان کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: معمر نے یاد نہیں رکھا، مجھے یاد ہے کہ زہری نے «أَعْلَقْتُ عَنْهُ» أعلقت عنہ کہا۔ سفیان نے اس تحنیک کو بیان کیا جو بچے کو پیدائش کے وقت کی جاتی ہے۔ سفیان نے اپنے حلق میں انگلی ڈالی اور اپنے تالو کو انگلی سے اٹھایا۔ سفیان نے اعلاق کے یہ معنیٰ بیان کیے کہ بچے کو حلق میں انگلی ڈال کر اس کا تالو اٹھانا، انہوں نے «أَعْلَقُوا عَنْهُ شَيْئًا» أعلقوا عنہ شیئا کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5718
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا قَدْ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ عَلَى مَا تَدْغَرُونَ أَوْلَادَكُمْ بِهَذِهِ الْأَعْلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا: ذَاتُ الْجَنْبِ"، يُرِيدُ الْكُسْتَ يَعْنِي الْقُسْطَ، قَالَ: وَهِيَ لُغَةٌ.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی، انہیں اسحاق نے، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور وہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئیں۔ انہوں نے اس بچے کا کوا گرنے میں تالو دبا کر علاج کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو کہ تم اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو عود ہندی (کوٹ) اس میں استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کے لیے شفاء ہے جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عود ہندی سے «كست» تھی جسے «قسط» بھی کہتے ہیں یہ بھی ایک لغت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5718]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، یہ خاتون ان پہلی مہاجرات سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، نیز یہ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا ایک بیٹا لے کر حاضر ہوئیں جبکہ انہوں نے «عُذْرَة» بیماری کی وجہ سے بچے کا تالو دبا دیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، تم عورتیں اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر کیوں تکلیف پہنچاتی ہو؟ تم اس کے لیے «عُودِ هِنْدِي» استعمال کرو، اس میں سات بیماریوں کے لیے شفا ہے، جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد «كُسْت» تھی جسے «قُسْط» بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی ایک لغت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں