صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب الصراط جسر جهنم:
باب: صراط ایک پل ہے جو دوزخ پر بنایا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 6574
قَالَ عَطَاءٌ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ:" هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: حَفِظْتُ: مِثْلُهُ مَعَهُ.
عطاء نے بیان کیا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے ان کی کسی بات پر اعتراض نہیں کیا لیکن جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث کے اس ٹکڑے تک پہنچے کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اس سے دس گنا اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میں نے یوں ہی سنا ہے، یہ سب چیزیں اور اتنی ہی اور۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6574]
حضرت عطاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس وقت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ان کی کسی بات پر اعتراض نہیں کیا، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب حدیث کے اس ٹکڑے پر پہنچے: ”تمہاری تمام خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی اور نعمتیں دی جاتی ہیں“ تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ نے فرمایا: ”تمہاری یہ خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور ان سے دس گنا مزید دی جاتی ہیں۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تو یہی الفاظ یاد کیے ہیں کہ یہ سب چیزیں اور اتنی ہی اور تجھے دی جاتی ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6574]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوِ الْحَيَاةِ شَكَّ مَالِكٌ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً"، قَالَ وُهَيْبٌ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو الْحَيَاةِ، وَقَالَ: خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ.
ہم سے اسماعیل نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ان سے مالک نے، وہ عمرو بن یحییٰ المازنی سے نقل کرتے ہیں، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب (ایسے لوگ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( «حياء» کی بجائے) «حياة»، اور ( «خردل من ايمان») کی بجائے ( «خردل من خير») کا لفظ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 22]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ تو ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا جو کہ جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر انہیں پانی یا زندگی کی نہر میں ڈالا جائے گا۔“ (راویِ حدیث امام) مالک رحمہ اللہ کو شک ہے (کہ ان کے استاذ نے کون سا لفظ بولا)۔ ”وہ ازسرنو یوں اگیں گے جیسے دانہ لبِ جُو اگتا ہے۔ کیا تو دیکھتا نہیں وہ کیسے زرد زرد لپٹا ہوا نمودار ہوتا ہے؟“ (عمرو بن یحییٰ مازنی کے شاگرد) وہیب نے «عَنْ عَمْرٍو» ”عمرو سے“ کی جگہ «حَدَّثَنَا عَمْرٌو» ”ہم سے عمرو نے بیان کیا“ اور (شک کے بغیر) «نَهَرِ الْحَيَاةِ» ”زندگی کی نہر“ کہا ہے، نیز «خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ» ”ایمان کا رائی برابر دانہ“ کی بجائے «خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ» ”بھلائی کا رائی برابر دانہ“ بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7440
وَقَالَ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهِمُّوا بِذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ لِتَشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ: فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، قَالَ: وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ، وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ ثَلَاثَ كَلِمَاتٍ كَذَبَهُنَّ وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا، قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ النَّفْسَ وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ، قَالَ: فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَأْتُونِي، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، فَيَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ: يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ قَتَادَةُ وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا، يَقُولُ: فَأَخْرُجُ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، قَالَ: ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ قَتَادَةُ وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، قَالَ: ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ قَتَادَةُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: فَأَخْرُجُ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، قَالَ: ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79، قَالَ: وَهَذَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وُعِدَهُ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اور حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے حمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ بن دعامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن مومنوں کو (گرم میدان میں) روک دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے اور (صلاح کر کے) کہیں گے کہ کاش کوئی ہمارے رب سے ہماری شفاعت کرتا کہ ہمیں اس حالت سے نجات ملتی۔ چنانچہ وہ مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کو جنت میں مقام عطا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں تاکہ ہمیں اس حالت سے نجات دے۔ بیان کیا کہ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو باوجود رکنے کے درخت کھا لینے کی وجہ سے ان سے ہوئی تھی اور کہیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔ چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں اور اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو بغیر علم کے اللہ رب العزت سے سوال کر کے (اپنے بیٹے کی بخشش کے لیے) انہوں نے کی تھی اور کہیں گے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں۔ بیان کیا کہ ہم سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہی عذر کریں گے کہ میں اس لائق نہیں اور وہ ان تین باتوں کو یاد کریں گے جن میں آپ نے بظاہر غلط بیانی کی تھی اور کہیں گے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توریت دی اور ان سے بات کی اور ان کو نزدیک کر کے ان سے سرگوشی کی۔ بیان کیا کہ پھر لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں اور وہ غلطی یاد کریں گے جو ایک شخص کو قتل کر کے انہوں نے کی تھی۔ (وہ کہیں گے) البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے رب سے اس کے در دولت یعنی عرش معلی پر آنے کے لیے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت دی جائے گی پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے جب تک چاہے گا اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، جو مانگو گے دیا جائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں شفاعت کروں گا۔ چنانچہ میرے لیے حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پھر میں نکالوں گا اور جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری مرتبہ اپنے رب سے اس کے در دولت کے لیے اجازت چاہوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اللہ رب العزت کو دیکھتے ہی اس کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے یوں ہی چھوڑے رکھے گا۔ پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا شفاعت کرو قبول کی جائے گی، مانگو دیا جائے گا۔ آپ نے بیان کیا کہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا بیان کیا کہ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گا اور میں اس کے مطابق جہنم سے لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ پھر میں لوگوں کو نکالوں گا اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، یہاں تک کہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روک رکھا ہو گا یعنی انہیں ہمیشہ ہی اس میں رہنا ہو گا (یعنی کفار و مشرکین) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”قریب ہے کہ آپ کا رب مقام محمود پر آپ کو بھیجے گا“ فرمایا کہ یہی وہ مقام محمود ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 7440]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اہل ایمان کو ایک مقام پر روک لیا جائے گا جس کے باعث وہ غمگین اور پریشان ہوں گے اور کہیں گے: کاش ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارش پیش کریں تاکہ وہ ہمیں اس پریشانی سے نجات دے۔ چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: آپ حضرت آدم علیہ السلام ہیں، تمام لوگوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر جنت میں ٹھہرایا، آپ کے لیے اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو تمام اشیاء کے نام سکھائے، آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں کہ وہ ہمیں اس پریشانی سے نجات دے۔ وہ جواب دیں گے: میں تمہاری سفارش کرنے والا نہیں ہوں۔ وہ اپنی خطا یاد کریں گے جو انہوں نے درخت کا پھل کھانے سے متعلق کی تھی، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا۔ وہ کہیں گے: تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، تو لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ کہیں گے: میں تمہاری سفارش کرنے کے قابل نہیں ہوں اور وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے بظاہر خلاف واقعہ کی تھی، اور کہیں گے: تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تورات دی، ان سے گفتگو فرمائی اور انہیں اپنے قریب کرکے ان سے راز و نیاز کی باتیں کیں، چنانچہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے: میں اس لائق نہیں ہوں۔ وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے ایک آدمی کو قتل کرکے کی تھی۔ وہ کہیں گے: تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کی روح اور اس کا حکم ہیں، چنانچہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے: میں اس لائق نہیں ہوں تم لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے پچھلے سب گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیے ہیں، چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی اس کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا پھر فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور سوال کرو تمہیں دیا جائے گا، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی ایسی تعریف و توصیف کروں گا جو اس وقت اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا جس کے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت قتادہ نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے) بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں نکلوں گا اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں پہنچاؤں گا۔ پھر میں لوٹ آؤں گا، اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کروں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی۔ جب میں وہاں اپنے رب کو دیکھوں گا تو پہلے کی طرح سجدے میں گر جاؤں گا۔ پھر جب تک اللہ چاہے گا مجھے سجدے میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہوگا: محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور بات کہو اسے سنا جائے گا۔ سفارش کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ جو سوال کرو گے وہ پورا ہوگا۔ تب میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف بیان کروں گا جو اس وقت اللہ تعالیٰ مجھے تعلیم دے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی تو میں اس کے مطابق لوگوں کو وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت قتادہ نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے) بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خود وہاں سے نکل کر لوگوں کو جہنم سے نکالوں گا اور انہیں جنت میں داخل کروں گا، پھر میں تیسری مرتبہ وہاں سے لوٹ آؤں گا اور اپنے رب سے اس کی بارگاہ میں حاضری کے لیے اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی اور اپنے رب العزت کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدے میں پڑا رہنے دے گا، پھر ارشاد ہوگا: اے محمد! سر اٹھاؤ۔ بات کہو اسے سنا جائے گا۔ شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا۔ سوال کرو تمہیں دیا جائے گا۔ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثناء بیان کروں گا جو اس وقت وہ مجھے سکھائے گا، اس کے بعد میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں اس کے مطابق لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت قتادہ نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے) بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں وہاں سے نکل کر لوگوں کو جہنم سے نکالوں گا اور انہیں جنت میں داخل کروں گا حتیٰ کہ دوزخ میں وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہوں نے قرآن کے مطابق جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79] ”امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ مقام محمود ہے جس کے متعلق تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیا ہے۔““ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 7440]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة