صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ قیامت میں) ارشاد ”اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے، وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے، یا دیکھ رہے ہوں گے“۔
حدیث نمبر: 7434
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَافْعَلُوا".
ہم سے عمر بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد اور ہشیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے چاند کی طرف دیکھا، چودھوریں رات کا چاند تھا اور فرمایا کہ تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل نہیں ہو گی۔ پس اگر تمہیں اس کی طاقت ہو کہ سورج طلوع ہونے کے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد کی نمازوں میں سستی نہ ہو تو ایسا کر لو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7434]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا: ”تم لوگ اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل یا مشقت نہیں ہوگی۔ اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نمازوں میں سستی نہ کرو تو ایسا کرلو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7434]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7435
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا".
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن یوسف الیربوعی نے بیان کیا، ان سے ابوشہاب نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے رب کو صاف صاف دیکھو گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7435]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم اپنے رب کو صاف صاف علانیہ کھلی آنکھ سے ضرور دیکھو گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7435]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7436
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ".
ہم سے عبدۃ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا ان سے زائد نے، ان سے بیان بن بشر نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم اپنے رب کو قیامت کے دن اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں کوئی مزاحمت نہیں ہو گی۔ کھلم کھلا دیکھو گے، بےتکلف، بےمشقت، بےزحمت۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7436]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں کی رات ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: ”تم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھو گے جیسے تم چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت و رکاوٹ نہ ہوگی اور نہ کوئی مشقت ہی اٹھانا پڑے گی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7436]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7437
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ النَّاس قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتْبَعْهُ، فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا شَافِعُوهَا أَوْ مُنَافِقُوهَا شَكَّ إِبْرَاهِيمُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَنَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتْبَعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُهَا وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ؟ هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُوبَقُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ، أَوِ الْمُوثَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ أَوِ الْمُجَازَى أَوْ نَحْوُهُ، ثُمَّ يَتَجَلَّى حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ تَحْتَهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقَى رَجُلٌ مِنْهُمْ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ هُوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَدْعُو اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَهُ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ أَبَدًا؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، وَيَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَقُولَ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ وَيُعْطِي مَا شَاءَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا قَامَ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحَبْرَةِ وَالسُّرُورِ فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ: أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ، فَيَقُولُ: وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، لَا أَكُونَنَّ أَشْقَى خَلْقِكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ قَالَ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِذَا دَخَلَهَا، قَالَ: اللَّهُ لَهُ تَمَنَّهْ، فَسَأَلَ رَبَّهُ وَتَمَنَّى حَتَّى إِنَّ اللَّهَ لَيُذَكِّرُهُ، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا حَتَّى انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ: ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا کیا جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ تم میں جو کوئی جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے۔ چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہو جائے گا، جو چاند کی پوجا کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہو جائے گا اور جو بتوں کی پوجا کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے لگ جائے گا (اسی طرح قبروں، تعزیوں کے پجاری قبروں، تعزیوں کے پیچھے لگ جائیں گے) پھر یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں بڑے درجہ کے شفاعت کرنے والے بھی ہوں گے یا منافق بھی ہوں گے ابراہیم کو ان لفظوں میں شک تھا۔ پھر اللہ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ جواب دیں گے کہ ہم یہیں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ہمارا رب آ جائے، جب ہمارا رب آ جائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ اقرار کریں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔ چنانچہ وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے اور دوزخ کی پیٹھ پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا اور میں اور میری امت سب سے پہلے اس کو پار کرنے والے ہوں گے اور اس دن صرف انبیاء بات کر سکیں گے اور انبیاء کی زبان پر یہ ہو گا۔ اے اللہ! مجھ کو محفوظ رکھ، مجھ کو محفوظ رکھ۔ اور دوزخ میں درخت سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹوں ہی کی طرح ہوں گے البتہ وہ اتنے بڑے ہوں گے کہ اس کا طول و عرض اللہ کے سوا اور کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے بدلے میں اچک لیں گے تو ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو تباہ ہونے والے ہوں گے اور اپنے عمل بد کی وجہ سے وہ دوزخ میں گر جائیں گے یا اپنے عمل کے ساتھ بندھے ہوں گے اور ان میں بعض ٹکڑے کر دئیے جائیں گے یا بدلہ دئیے جائیں گے یا اسی جیسے الفاظ بیان کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور جب بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو گا اور دوزخیوں میں سے جسے اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکالیں، یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرنا چاہے گا۔ ان میں سے جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کیا تھا۔ چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشان سے دوزخ میں پہچانیں گے۔ دوزخ ابن آدم کا ہر عضو جلا کر بھسم کر دے گی سوا سجدہ کے نشان کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو جلائے (یا اللہ! ہم گنہگاروں کو دوزخ سے محفوظ رکھیو ہم کو تیری رحمت سے یہی امید ہے) چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ یہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا اور یہ اس کے نیچے سے اس طرح اگ کر نکلیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ اگ آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہو گا۔ ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہو گا، وہ ان دوزخیوں میں سب سے آخری انسان ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! میرا منہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ مجھے اس کی گرم ہوا نے پریشان کر رکھا ہے اور اس کی تیزی نے جھلسا ڈالا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں گا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگوں گا اور وہ شخص اللہ رب العزت سے بڑے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو اتنی دیر خاموش رہے گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ اسے خاموش رہنے دینا چاہے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ کبھی تو نہیں مانگے گا؟ افسوس ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! اور اللہ سے دعا کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو اس کے سوا کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جتنے اللہ چاہے گا وہ شخص وعدہ کرے گا۔ چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر خیریت اور مسرت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا: اے رب! مجھے جنت میں پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے تجھے دے دیا ہے اس کے سوا تو اور کچھ نہیں مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا افسوس! ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑھ کر بدبخت نہ بنا۔ چنانچہ وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر ہنس دے گا، جب ہنس دے گا تو اس کے متعلق کہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دو۔ جنت میں اسے داخل کر دے گا تو اس سے فرمائے گا کہ اپنی آرزوئیں بیان کر، وہ اپنی تمام آرزوئیں بیان کر دے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا۔ وہ کہے گا کہ فلاں چیز، فلاں چیز، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ آرزوئیں اور انہی جیسی تمہیں ملیں گی۔ ( «اللھم ارزقنا آمین») [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7437]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لوگوں نے پوچھا: ”اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اللہ کے رسول!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تم اسی طرح اپنے رب کو دیکھو گے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور فرمائے گا: ”جو کوئی جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے“، چنانچہ جو لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے وہ سورج کے پیچھے ہو جائیں گے اور چاند کی پوجا کرنے والے چاند کے پیچھے لگ جائیں گے۔ پھر یہ امت باقی رہ جائے گی۔ اس میں سفارش کرنے والے یا نفاق رکھنے والے بھی ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (راوی حدیث) ابراہیم کو (الفاظ بیان کرنے میں) شک ہوا ہے۔۔۔۔۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا: ”میں تمہارا رب ہوں“۔ وہ کہیں گے: ”ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آجائے، جب ہمارا رب آجائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔“ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا: ”میں تمہارا رب ہوں“۔ وہ اقرار کریں گے۔ اس کے بعد دوزخ کی پشت پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا تو میں اور میری امت اس پر سب سے پہلے گزریں گے۔ اس دن انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی شخص گفتگو کرنے کی ہمت نہیں رکھے گا۔ اس روز رسولوں کی زبان پر ہوگا: «اللّٰهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامتی سے رکھ، اے اللہ! سلامتی سے رکھ۔“ دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان درخت دیکھا ہے؟ لوگوں نے کہا: ”ہاں، اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آنکڑے سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے البتہ ان کی لمبائی، چوڑائی اور موٹائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے۔ ان میں سے کچھ تباہ ہونے والے ہوں گے یا اپنے اعمال سے جکڑے ہوئے ہوں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے یا انہیں بدلہ دیا جائے گا یا اس طرح کے الفاظ ذکر کیے۔ پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا حتیٰ کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہوگا اور اہل جہنم میں سے کسی کو اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکال لو۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ اپنا رحم و کرم کرنا چاہے گا اور انہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کیا ہوگا۔ وہ (فرشتے) ایسے لوگوں کو سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے۔ دوزخ سجدوں کے نشانات کے علاوہ ابن آدم کے ہر عضو کو جلا کر بھسم کر دے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ سجدوں کے نشانات کو جلائے، چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر «مَاءُ الْحَيَاةِ» ”آبِ حیات“ ڈالا جائے گا۔ وہ اس کے نیچے سے اس طرح نکلیں گے جیسے دانہ سیلاب کے خس و خاشاک کے نیچے سے اگتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہوگا، صرف ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا۔ وہ اہل جہنم میں سے آخری شخص ہوگا جسے سب کے بعد جنت میں داخل کیا جائے گا۔ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! میرا چہرہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ اس کے شعلوں نے مجھے جلا دیا ہے۔“ پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر تجھے یہ دے دیا جائے تو کیا تو اس کے علاوہ کچھ اور مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”تیری عزت کی قسم! میں کوئی اور سوال نہیں کروں گا“ اور وہ اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گا، پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو جتنا عرصہ اللہ کو منظور ہوگا خاموش رہے گا پھر وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے عہد و پیمان نہیں کیے تھے کہ جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے، اس کے علاوہ تو مجھ سے کبھی کچھ نہیں مانگے گا؟ افسوس اے ابن آدم! تو کس قدر عہد شکن ہے؟“ پھر وہ کہے گا: ”اے میرے رب!“ نیز اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرے گا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: ”اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو کیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”تیری عزت کی قسم! اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگوں گا“ اور اللہ جو چاہے گا عہد و پیمان کرے گا چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دیا جائے گا، پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہوگا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور وہ دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر فرحت و مسرت کا سامان ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے جنت میں پہنچا دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے عہد و پیمان نہیں کیے تھے کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگے گا؟“ اللہ تعالیٰ مزید فرمائے گا: ”اے ابن آدم! افسوس تو کس قدر وعدہ خلاف ہے۔“ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہیں ہوں۔“ وہ ہمیشہ اللہ کو پکارتا رہے گا اور مسلسل دعائیں کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر ہنس دے گا۔ جب ہنس دے گا تو فرمائے گا: ”تو جنت میں داخل ہو جا“، جب وہ جنت میں داخل ہو جائے گا تو اس سے فرمائے گا کہ ”اپنی تمنائیں بیان کر“۔ تب وہ اپنی تمام خواہشات بیان کرے گا اور اللہ سے مانگے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا اور فرمائے گا: ”فلاں فلاں چیز کی تمنا کر“ یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی۔ (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تیرے لیے یہ ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7437]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7438
قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ: لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ.
عطا بن یزید نے بیان کیا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان کی حدیث کا کوئی حصہ رد نہیں کرتے تھے۔ البتہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ”یہ اور انہیں جیسی تمہیں اور ملیں گی“ تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے دس گنا ملیں گی اے ابوہریرہ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد یاد ہے کہ ”یہ اور انہیں جیسی اور“ اس پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے آپ کا یہ ارشاد یاد کیا ہے کہ ”تمہیں یہ سب چیزیں ملیں گی اور اس سے دس گنا“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخری داخل ہونے والا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7438]
حضرت عطاء بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کی بیان کردہ حدیث کا کوئی حصہ رد نہیں کرتے تھے البتہ جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے یہ بیان کیا کہ ”تیرے لیے یہ ہے اور اس کے ساتھ اس کی مثل اور بھی ہے“ تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابو ہریرہ! یہ اور اس کے ساتھ دس گنا اور۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی فرمان یاد کیا ہے: ”تیرے لیے یہ ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہے“”اس پر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی یاد رکھا ہے کہ تیرے لیے یہ ہے اور اس کے ساتھ دس گنا اور بھی ہے۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ شخص جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7438]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7439
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ: هَلْ تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ إِذَا كَانَتْ صَحْوًا، قُلْنَا: لَا، قَالَ: فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا، ثُمَّ قَالَ: يُنَادِي مُنَادٍ لِيَذْهَبْ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، فَيَذْهَبُ أَصْحَابُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ، وَأَصْحَابُ الْأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ، أَوْ فَاجِرٍ، وَغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ، فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟، قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ صَاحِبَةٌ وَلَا وَلَدٌ فَمَا تُرِيدُونَ؟، قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ، ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟، فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ صَاحِبَةٌ وَلَا وَلَدٌ، فَمَا تُرِيدُونَ؟، فَيَقُولُونَ: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ، أَوْ فَاجِرٍ، فَيُقَالُ: لَهُمْ مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ؟، فَيَقُولُونَ: فَارَقْنَاهُمْ، وَنَحْنُ أَحْوَجُ مِنَّا إِلَيْهِ الْيَوْمَ، وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَإِنَّمَا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا، قَالَ: فَيَأْتِيهِمُ الْجَبَّارُ فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَلَا يُكَلِّمُهُ إِلَّا الْأَنْبِيَاءُ، فَيَقُولُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهُ؟، فَيَقُولُونَ: السَّاقُ، فَيَكْشِفُ عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ كَيْمَا يَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَسْرِ، فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْجَسْرُ؟، قَالَ: مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ وَكَلَالِيبُ وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكَةٌ عُقَيْفَاءُ تَكُونُ بِنَجْدٍ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ الْمُؤْمِنُ عَلَيْهَا كَالطَّرْفِ، وَكَالْبَرْقِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَنَاجٍ مَخْدُوشٌ وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا فَمَا أَنْتُمْ بِأَشَدَّ لِي مُنَاشَدَةً فِي الْحَقِّ قَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِ يَوْمَئِذٍ لِلْجَبَّارِ، وَإِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا فِي إِخْوَانِهِمْ، يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، وَيُحَرِّمُ اللَّهُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمِهِ وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا، ثُمَّ يَعُودُونَ، فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ، فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا، ثُمَّ يَعُودُونَ، فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي، فَاقْرَءُوا: إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا سورة النساء آية 40 فَيَشْفَعُ النَّبِيُّونَ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ: بَقِيَتْ شَفَاعَتِي، فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ بِأَفْوَاهِ الْجَنَّةِ، يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ فِي حَافَتَيْهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَدْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ وَإِلَى جَانِبِ الشَّجَرَةِ فَمَا كَانَ إِلَى الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ وَمَا كَانَ مِنْهَا إِلَى الظِّلِّ كَانَ أَبْيَضَ، فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ اللُّؤْلُؤُ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ أَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلَهُ مَعَهُ"،
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے خالد بن یزید نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان بھی صاف ہو؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے رب کے دیدار میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پیش آئے گی جس طرح سورج اور چاند کو دیکھنے میں نہیں پیش آتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ پوجا کیا کرتی تھی۔ چنانچہ صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ، بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ، تمام جھوٹے معبودوں کے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے اور صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔ ان میں نیک و بد دونوں قسم کے مسلمانوں ہوں گے اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ پھر دوزخ ان کے سامنے پیش کی جائے گی وہ ایسی چمکدار ہو گی جیسے میدان کا ریت ہوتا ہے۔ (جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے) پھر یہود سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کے پوجا کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر ابن اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ تم جھوٹے ہو اللہ کے نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی لڑکا۔ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم پانی پینا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے سیراب کیا جائے۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو وہ اس چمکتی ریت کی طرف پانی جان کر چلیں گے اور پھر وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے۔ پھر نصاریٰ سے کہا جائے گا کہ تم کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹے ہو۔ اللہ کے نہ بیوی تھی اور نہ کوئی بچہ، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانی سے سیراب کئے جائیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو (ان کو بھی اس چمکتی ریت کی طرف چلایا جائے گا) اور انہیں بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے، نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان، ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں ان سے ایسے وقت جدا ہوئے کہ ہمیں ان کی دنیاوی فائدوں کے لیے بہت زیادہ ضرورت تھی اور ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔ بیان کیا کہ پھر اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور اس دن انبیاء کے سوا اور کوئی بات نہیں کرے گا۔ پھر پوچھے گا: کیا تمہیں اس کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ «ساق.» پنڈلی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اس کے لیے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھاوے اور شہرت کے لیے اسے سجدہ کرتے تھے، وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح ہو کر رہ جائے گی۔ پھر انہیں پل پر لایا جائے گا۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! پل کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا , وہ ایک پھسلواں گرنے کا مقام ہے اس پر سنسنیاں ہیں، آنکڑے ہیں، چوڑے چوڑے کانٹے ہیں، ان کے سر خمدار سعدان کے کانٹوں کی طرح ہیں جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں۔ مومن اس پر پلک مارنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح، تیز رفتار گھوڑے اور سواری کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا تم لوگ آج کے دن اپنا حق لینے کے لیے جتنا تقاضا اور مطالبہ مجھ سے کرتے ہو اس سے زیادہ مسلمان لوگ اللہ سے تقاضا اور مطالبہ کریں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے (نیک) اعمال کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات فرما) چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک اشرفی کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے دوزخ سے نکال لو اور اللہ ان کے چہروں کو دوزخ پر حرام کر دے گا۔ چنانچہ وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بعض کا تو جہنم میں قدم اور آدھی پنڈلی جلی ہوئی ہے۔ چنانچہ جنہیں وہ پہچانیں گے انہیں دوزخ سے نکالیں گے، پھر واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں آدھی اشرفی کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکالیں گے۔ پھر وہ واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ پہچانے جانے والوں کو نکالیں گے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھو «إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها» ”اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔“ اگر نیکی ہے تو اسے بڑھاتا ہے۔ پھر انبیاء اور مومنین اور فرشتے شفاعت کریں گے اور پروردگار کا ارشاد ہو گا کہ اب خاص میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھر لے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو کوئلہ ہو گئے ہوں گے۔ پھر وہ جنت کے سرے پر ایک نہر میں ڈال دئیے جائیں گے جسے نہر آب حیات کہا جاتا ہے اور یہ لوگ اس کے کنارے سے اس طرح ابھریں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا تو جس پر دھوپ پڑتی رہتی ہے وہ سبزا بھرتا ہے اور جس پر سایہ ہوتا ہے وہ سفید ابھرتا ہے۔ پھر وہ اس طرح نکلیں گے جیسے موتی چمکتا ہے۔ اس کے بعد ان کی گردنوں پر مہر کر دی جائیں گے (کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں) اور انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اہل جنت انہیں «عتقاء الرحمن» کہیں گے۔ انہیں اللہ نے بلا عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بلا خیر کے جو ان سے صادر ہوئی ہو جنت میں داخل کیا ہے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم دیکھتے ہو اور اتنا ہی اور بھی ملے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7439]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مطلع صاف ہونے کی صورت میں کیا تمہیں سورج اور چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے؟“ ہم نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یقیناً تمہیں اپنے رب کے دیدار میں کوئی تکلیف پیش نہیں آئے گی جیسے تمہیں سورج اور چاند دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔“ پھر فرمایا: ”ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: ”ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ پوجا کیا کرتی تھی۔“ تب صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ، بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ اور تمام معبودانِ باطلہ کی پوجا پاٹ کرنے والے اپنے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نیک و بد اور بچے کھچے اہل کتاب باقی رہ جائیں گے۔ اس کے بعد جہنم ان کے سامنے لائی جائے گی جو سراب کی طرح ہو گی۔ پھر یہودیوں سے پوچھا جائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ جواب دیں گے: ”ہم اللہ کے بیٹے عزیر کی پوجا کرتے تھے۔“ انہیں کہا جائے گا: ”تم جھوٹے ہو، اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد۔ اب تم کیا چاہتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہم پانی پینا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے سیراب کیا جائے۔“ ان سے کہا جائے گا: ”جاؤ پانی پیو“، تو وہ دوزخ میں گر پڑیں گے۔ پھر نصاریٰ سے پوچھا جائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ جواب دیں گے: ”ہم اللہ کے بیٹے مسیح کی پوجا کرتے تھے۔“ ان سے کہا جائے گا: ”تم جھوٹے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اس کی اولاد ہی ہے۔ اب تم کیا چاہتے ہو؟“ وہ جواب دیں گے: ”ہم پانی سے سیراب ہونا چاہتے ہیں۔“ ان سے کہا جائے گا: ”جاؤ پیو“، تو وہ بھی دوزخ میں گر پڑیں گے یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کرنے والے نیک و بد باقی رہ جائیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ”تمہیں یہاں کس چیز نے روک رکھا ہے جبکہ باقی سب لوگ اپنے اپنے معبودوں کے ساتھ جا چکے ہیں؟“ وہ کہیں گے: ”ہم دنیا میں ان سے ایسے وقت جدا ہو گئے تھے کہ ہمیں ان کی زیادہ ضرورت تھی۔ یعنی ہم دنیا میں ان کے ساتھی نہ تھے اور آخرت میں بھی ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے، بلاشبہ ہم نے ایک اعلان کرنے والے کو اعلان کرتے ہوئے سنا: ”ہر شخص اس کے ساتھ چلا جائے جس کی وہ عبادت کرتا تھا۔“ (ہم تو اپنے رب کی عبادت کرتے تھے) اس لیے ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا۔ وہ کہے گا: ”میں تمہارا رب ہوں۔“ وہ کہیں گے: ”واقعی تو ہمارا رب ہے“ اور اس دن انبیاء علیہم السلام کے علاوہ اور کوئی اللہ سے گفتگو نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تمہیں اپنے رب کی کوئی نشانی معلوم ہے جس کے ذریعے سے تم اسے پہچان سکو؟“ وہ کہیں گے: ”پنڈلی ذریعہ شناخت ہے“، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دے گا تو ہر مومن اس کے حضور سجدہ ریز ہو جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو محض ریا کاری اور شہرت کے لیے اسے سجدہ کرتے تھے۔ وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پشت ایک تختے کی طرح ہو جائے گی، پھر پل صراط لایا جائے گا اور اسے جہنم کی پشت پر رکھ دیا جائے گا۔“ ہم نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! پل صراط کیا چیز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گرنے اور پھسلنے کا مقام ہے اور اس پر لوہے کے نوک دار آنکڑے اور کانٹے ہوں گے۔ وہ لوہے کے کنڈے سعدان نامی جھاڑی کے کانٹوں کی طرح ہوں گے جو نجد میں پائی جاتی ہے۔ اس پر اہل ایمان پلک جھپکنے میں، بجلی کی مانند، ہوا کی مانند، تیز رفتار گھوڑوں اور تیز اونٹوں کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں سے کچھ صحیح سالم نجات پانے والے ہوں گے جبکہ کچھ زخمی ہو کر بالآخر اسے عبور کر جائیں گے اور کچھ جھلس کر آگ میں گرنے والے ہوں گے حتیٰ کہ آخری شخص خود کو گھسیٹ کر اسے پار کرے گا۔ تم لوگ آج کے دن اپنا حق لینے کے لیے جتنا تقاضا اور مطالبہ مجھ سے کرتے ہو اس سے کہیں زیادہ اس وقت مسلمان جبار (اللہ تعالیٰ) سے تقاضا کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ کچھ تو قدموں تک آگ میں غائب ہوں گے اور کچھ نصف پنڈلی تک دوزخ میں ہوں گے۔ وہ جنہیں پہچان لیں گے انہیں وہاں سے نکال لائیں گے۔ پھر واپس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ”جاؤ اور جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ“، چنانچہ وہ جن کو پہچانتے ہوں گے ان کو وہاں سے نکال لائیں گے۔ پھر جب واپس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”جاؤ جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔“ وہ جنہیں پہچانیں گے انہیں وہاں سے نکال لائیں گے۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت کریمہ پڑھو: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ [سورة النساء: 40] ”بے شک اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر (بھی) ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو وہ اسے دگنا کر دے گا۔“ پھر انبیاء علیہم السلام، اہل ایمان اور فرشتے شفاعت کریں گے۔ اس کے بعد جبار (اللہ تعالیٰ) کا ارشاد ہو گا: ”اب خاص میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر وہ جنت کے ایک کنارے پر واقع نہر میں ڈال دیے جائیں گے جسے «مَاءُ الْحَيَاةِ» ”آبِ حیات“ کہا جاتا ہے، وہ نہر کے کنارے پر ایسے ابھریں گے جس طرح دانہ سیلاب کے خس و خاشاک (کوڑے کرکٹ) میں اگتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان یا کسی درخت کے پاس دیکھا ہو گا؛ جس پر دھوپ رہتی ہے وہ سبز ابھرتا ہے اور جس پر سایہ ہوتا ہے وہ سفید ابھرتا ہے۔ وہ آبِ حیات سے اس طرح نکلیں گے جس طرح موتی چمکتا ہے، اس کے بعد ان کی گردنوں پر مہر لگا دی جائے گی (کہ یہ لوگ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں) پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اہل جنت انہیں «عُتَقَاءُ الرَّحْمٰنِ» ”اللہ کے آزاد کردہ“ کے نام سے یاد کریں گے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اچھا عمل یا بھلا کام کیے بغیر جنت میں داخل کیا ہے۔ ان سے کہا جائے گا: ”تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم دیکھتے ہو اور اتنا ہی مزید دیا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7439]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7440
وَقَالَ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهِمُّوا بِذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ لِتَشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ: فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، قَالَ: وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ، وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ ثَلَاثَ كَلِمَاتٍ كَذَبَهُنَّ وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا، قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ النَّفْسَ وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ، قَالَ: فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَأْتُونِي، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، فَيَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ: يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ قَتَادَةُ وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا، يَقُولُ: فَأَخْرُجُ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، قَالَ: ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ قَتَادَةُ وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، قَالَ: ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ قَتَادَةُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: فَأَخْرُجُ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، قَالَ: ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79، قَالَ: وَهَذَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وُعِدَهُ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اور حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے حمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ بن دعامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن مومنوں کو (گرم میدان میں) روک دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے اور (صلاح کر کے) کہیں گے کہ کاش کوئی ہمارے رب سے ہماری شفاعت کرتا کہ ہمیں اس حالت سے نجات ملتی۔ چنانچہ وہ مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کو جنت میں مقام عطا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں تاکہ ہمیں اس حالت سے نجات دے۔ بیان کیا کہ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو باوجود رکنے کے درخت کھا لینے کی وجہ سے ان سے ہوئی تھی اور کہیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔ چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں اور اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو بغیر علم کے اللہ رب العزت سے سوال کر کے (اپنے بیٹے کی بخشش کے لیے) انہوں نے کی تھی اور کہیں گے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں۔ بیان کیا کہ ہم سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہی عذر کریں گے کہ میں اس لائق نہیں اور وہ ان تین باتوں کو یاد کریں گے جن میں آپ نے بظاہر غلط بیانی کی تھی اور کہیں گے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توریت دی اور ان سے بات کی اور ان کو نزدیک کر کے ان سے سرگوشی کی۔ بیان کیا کہ پھر لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں اور وہ غلطی یاد کریں گے جو ایک شخص کو قتل کر کے انہوں نے کی تھی۔ (وہ کہیں گے) البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے رب سے اس کے در دولت یعنی عرش معلی پر آنے کے لیے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت دی جائے گی پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے جب تک چاہے گا اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، جو مانگو گے دیا جائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں شفاعت کروں گا۔ چنانچہ میرے لیے حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پھر میں نکالوں گا اور جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری مرتبہ اپنے رب سے اس کے در دولت کے لیے اجازت چاہوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اللہ رب العزت کو دیکھتے ہی اس کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے یوں ہی چھوڑے رکھے گا۔ پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا شفاعت کرو قبول کی جائے گی، مانگو دیا جائے گا۔ آپ نے بیان کیا کہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا بیان کیا کہ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گا اور میں اس کے مطابق جہنم سے لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ پھر میں لوگوں کو نکالوں گا اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، یہاں تک کہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روک رکھا ہو گا یعنی انہیں ہمیشہ ہی اس میں رہنا ہو گا (یعنی کفار و مشرکین) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”قریب ہے کہ آپ کا رب مقام محمود پر آپ کو بھیجے گا“ فرمایا کہ یہی وہ مقام محمود ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7440]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اہل ایمان کو ایک مقام پر روک لیا جائے گا جس کے باعث وہ غمگین اور پریشان ہوں گے اور کہیں گے: کاش ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارش پیش کریں تاکہ وہ ہمیں اس پریشانی سے نجات دے۔ چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: آپ حضرت آدم علیہ السلام ہیں، تمام لوگوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر جنت میں ٹھہرایا، آپ کے لیے اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو تمام اشیاء کے نام سکھائے، آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں کہ وہ ہمیں اس پریشانی سے نجات دے۔ وہ جواب دیں گے: میں تمہاری سفارش کرنے والا نہیں ہوں۔ وہ اپنی خطا یاد کریں گے جو انہوں نے درخت کا پھل کھانے سے متعلق کی تھی، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا۔ وہ کہیں گے: تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، تو لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ کہیں گے: میں تمہاری سفارش کرنے کے قابل نہیں ہوں اور وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے بظاہر خلاف واقعہ کی تھی، اور کہیں گے: تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تورات دی، ان سے گفتگو فرمائی اور انہیں اپنے قریب کرکے ان سے راز و نیاز کی باتیں کیں، چنانچہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے: میں اس لائق نہیں ہوں۔ وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے ایک آدمی کو قتل کرکے کی تھی۔ وہ کہیں گے: تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کی روح اور اس کا حکم ہیں، چنانچہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے: میں اس لائق نہیں ہوں تم لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے پچھلے سب گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیے ہیں، چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی اس کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا پھر فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور سوال کرو تمہیں دیا جائے گا، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی ایسی تعریف و توصیف کروں گا جو اس وقت اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا جس کے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت قتادہ نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے) بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں نکلوں گا اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں پہنچاؤں گا۔ پھر میں لوٹ آؤں گا، اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کروں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی۔ جب میں وہاں اپنے رب کو دیکھوں گا تو پہلے کی طرح سجدے میں گر جاؤں گا۔ پھر جب تک اللہ چاہے گا مجھے سجدے میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہوگا: محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور بات کہو اسے سنا جائے گا۔ سفارش کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ جو سوال کرو گے وہ پورا ہوگا۔ تب میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف بیان کروں گا جو اس وقت اللہ تعالیٰ مجھے تعلیم دے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی تو میں اس کے مطابق لوگوں کو وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت قتادہ نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے) بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خود وہاں سے نکل کر لوگوں کو جہنم سے نکالوں گا اور انہیں جنت میں داخل کروں گا، پھر میں تیسری مرتبہ وہاں سے لوٹ آؤں گا اور اپنے رب سے اس کی بارگاہ میں حاضری کے لیے اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی اور اپنے رب العزت کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدے میں پڑا رہنے دے گا، پھر ارشاد ہوگا: اے محمد! سر اٹھاؤ۔ بات کہو اسے سنا جائے گا۔ شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا۔ سوال کرو تمہیں دیا جائے گا۔ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثناء بیان کروں گا جو اس وقت وہ مجھے سکھائے گا، اس کے بعد میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں اس کے مطابق لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت قتادہ نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے) بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں وہاں سے نکل کر لوگوں کو جہنم سے نکالوں گا اور انہیں جنت میں داخل کروں گا حتیٰ کہ دوزخ میں وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہوں نے قرآن کے مطابق جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79] ”امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ مقام محمود ہے جس کے متعلق تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیا ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7440]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7441
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ، وَقَالَ لَهُمْ: اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ".
ہم سے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں ایک ڈیرے میں جمع کیا اور ان سے کہا کہ صبر کرو یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے آ کر ملو، میں حوض پر ہوں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7441]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پیغام بھیجا اور انہیں ایک ڈیرے میں جمع کیا، پھر ان سے فرمایا: ”تم صبر کرو حتیٰ کہ تم (قیامت کے دن) اللہ اور اس کے رسول سے ملاقات کرو، یقیناً میں اس وقت حوض کوثر پر ہوں گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7441]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7442
حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ قَيَّامُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْقَيُّومُ الْقَائِمُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَأَ عُمَرُ الْقَيَّامُ وَكِلَاهُمَا مَدْحٌ.
مجھ سے ثابت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تہجد کی نماز میں یہ دعا کرتے تھے «اللهم ربنا لك الحمد، أنت قيم السموات والأرض، ولك الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن، أنت الحق، وقولك الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك الحق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك خاصمت، وبك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وأسررت وأعلنت، وما أنت أعلم به مني، لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! حمد تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے اور ان سب کا جو ان میں ہیں اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمان و زمین کا نور ہے اور ان سب کا جو ان میں ہیں۔ تو سچا ہے، تیرا قول سچا، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیرے پاس اپنے جھگڑے لے گیا اور تیری ہی مدد سے مقابلہ کیا، پس تو مجھے معاف کر دے، میرے وہ گناہ بھی جو میں پہلے کر چکا ہوں اور وہ بھی جو بعد میں کروں گا اور وہ بھی جو میں نے پوشیدہ طور پر کئے اور وہ بھی جو ظاہر طور پر کیا اور وہ بھی جن میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قیس بن سعد اور ابو الزبیر نے طاؤس کے حوالہ سے «قيام» بیان کیا اور مجاہد نے «قيوم» کہا یعنی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا اور عمر رضی اللہ عنہ نے «قيام» پڑھا اور دونوں ہی مدح کے لیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7442]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت تہجد کی نماز پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے حمد و ثنا ہے، تو آسمان و زمین کو تھامنے والا ہے۔ تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے۔ تو آسمان و زمین اور جو ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اور تو ہی ہر قسم کی تعریف کا سزاوار ہے۔ تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو روشن کرنے والا ہے۔ تو سچا، تیری بات سچی، تیرا وعدہ مبنی بر حقیقت اور تیری ملاقات بھی حقیقت ہے، جنت سچ، دوزخ برحق اور قیامت بھی مبنی بر حقیقت ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے حضور سرِ تسلیم خم کر دیا، میں تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر بھروسا کیا۔ تیرے پاس ہی اپنے جھگڑے لے گیا اور تیری ہی مدد سے میں نے مقابلہ کیا۔ اے اللہ! مجھے معاف کر دے جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں کروں گا اور وہ گناہ بھی جو چھپ کر کیے، نیز وہ بھی جو علانیہ کیے اور وہ گناہ بھی جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔“ قیس بن سعد اور ابو زبیر نے امام طاؤس رحمہ اللہ کے حوالے سے ( «قَيِّم» کے بجائے) «قِيَام» بیان کیا ہے۔ امام مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: ” «الْقَيُّومُ» وہ ہے جو ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے «قِيَام» پڑھا ہے۔ «قَيُّوم» اور «قِيَام» دونوں مدح کے لیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7442]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7443
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ وَلَا حِجَابٌ يَحْجُبُهُ".
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے اعمش نے بیان کیا، ان سے خیشمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں کوئی ایسا نہیں ہو گا جس سے اس کا رب کلام نہ کرے، اس کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا اور نہ کوئی حجاب ہو گا جو اسے چھپائے رکھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7443]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہو گا جس سے اس کا رب کلام نہ کرے، کلام کرتے وقت اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا اور نہ کوئی حجاب ہی ہو گا جو اسے پردے میں رکھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7443]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة