صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ظهور الفتن:
باب: فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7063
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَأَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ، الْقَتْلُ".
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن ہوں گے جن میں جہالت اترے پڑے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور «هرج» بڑھ جائے گا اور «هرج» قتل ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7063]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک قیامت سے کچھ وقت پہلے جہالت عام ہو جائے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا۔ اس زمانے میں ہرج بکثرت ہوگا۔ اور ہرج قتل ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7063]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَحْسِبُهُ رَفَعَهُ، قَالَ:" بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامُ الْهَرْجِ، يَزُولُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ فِيهَا الْجَهْلُ"، قَالَ أَبُو مُوسَى: وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے واصل نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور میرا خیال ہے کہ اس حدیث کو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا، کہا کہ قیامت سے پہلے «هرج» کے دن ہوں گے، ان میں علم ختم ہو جائے گا اور جہالت غالب ہو گی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشی زبان میں «هرج» بمعنی قتل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7066]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں (میرا (ابو وائل) کا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث مرفوع بیان کی تھی) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے «الْهَرْجُ» ”ہرج“ کے دن ہوں گے۔ ان (دنوں) میں علم ختم ہو جائے گا جبکہ جہالت کا غلبہ ہوگا۔“ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حبشی زبان میں «الْهَرْجُ» ”ہرج“ کے معنی ہیں، قتل۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7066]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7064
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، قَالَ: جَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو مُوسَى فَتَحَدَّثَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ، الْقَتْلُ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیٹھے اور گفتگو کرتے رہے پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اترے پڑے گی اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» قتل ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7064]
حضرت شقیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت اتر پڑے گی اور «الْهَرْجُ» کی کثرت ہوگی۔“ اور «الْهَرْجُ» کے معنی ہیں: ”قتل۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7064]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7065
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَالْهَرْجُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ: الْقَتْلُ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی طرح۔ «هرج» حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7065]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔““ اسی (سابقہ حدیث) کی مثل (بیان کیا) حبشی زبان میں «الْهَرْجُ» کے معنیٰ ہیں: ”قتل۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7065]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة