صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 7101
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَامَ عَمَّارٌ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ عَائِشَةَ وَذَكَرَ مَسِيرَهَا، وَقَالَ:"إِنَّهَا زَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّهَا مِمَّا ابْتُلِيتُمْ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی غنیہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ کوفہ میں عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7101]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ کوفہ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور فرمایا: ”بے شک وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، لیکن تمہیں ان کے متعلق آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ , سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ خَطَبَ عَمَّارٌ، فَقَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے اور انہوں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے عمار اور حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہو (جو برحق خلیفہ ہیں) یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 3772]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ روانہ کیا تاکہ لوگوں کو ان کی مدد پر آمادہ کریں اور انہیں اس مقصد کے لیے باہر نکالیں تو وہاں پہنچ کر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”ہمیں اس بات کا علم ہے کہ وہ (اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) دنیا وآخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ تم اس (اللہ) کی پیروی کرتے ہو یا اس کے مقابلے میں تم اُم المومنین کی پیروی کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة