صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب استقضاء الموالي واستعمالهم:
باب: آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا۔
حدیث نمبر: 7175
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَه قَالَ:"كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَؤُمُّ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، وَأَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَبُو سَلَمَةَ، وَزَيْدٌ،وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ".
ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7175]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا: ”حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ اولین مہاجرین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مسجدِ قباء میں امامت کرتے تھے، ان اصحاب میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت ابوسلمہ، حضرت زید اور حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7175]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْعُصْبَةَ مَوْضِعٌ بِقُبَاءٍ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 692]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے قبل جب اولین مہاجرین قباء کے مقام عصبہ پر پہنچے تو ان کی امامت سالم مولیٰ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، انہیں سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة