🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب قوله تعالى: {وكان الإنسان أكثر شيء جدلا} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الکہف میں) ارشاد ”اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7348
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُمْ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ أُرِيدُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد ابوسعید کیسان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد نبوی میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ چنانچہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم ان کے مدرسہ تک پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر انہیں آواز دی اور فرمایا، اے یہودیو! اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے۔ اس پر یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم! آپ نے اللہ کا حکم پہنچا دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے فرمایا کہ یہی میرا مقصد ہے، اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے۔ انہوں نے کہا ابوالقاسم! آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات تیسری بار کہی اور فرمایا، جان لو کہ ساری زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس جگہ سے باہر کر دوں۔ پس تم میں سے جو کوئی اپنی جائیداد کے بدلے میں کوئی قیمت پاتا ہو تو اسے بیچ لے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے (تم کو یہ شہر چھوڑنا ہو گا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7348]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: یہودیوں کے پاس چلیں۔ تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ جب ہم ان کے مدرسہ «بَيْتُ الْمِدْرَاسِ» بیت المدراس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر انہیں آواز دی اور فرمایا: اے یہودیوں کی جماعت! «أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا» مسلمان ہو جاؤ، مسلمان ہو جاؤ تو سلامتی سے رہو گے۔ انہوں نے کہا: ابو القاسم! آپ نے تبلیغ کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: میں یہی چاہتا ہوں کہ تم مسلمان ہو جاؤ تو سلامتی سے رہو گے۔ انہوں نے کہا: ابو القاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: میں یہی چاہتا ہوں۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی بات کہی اور فرمایا: یقین کرو کہ ساری زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس زمین سے جلاوطن کروں، لہذا تم میں سے کوئی اپنی جائیداد کے عوض میں کوئی قیمت پاتا ہو تو اسے فروخت کر دے، بصورتِ دیگر یقین کر لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے (تمہیں یہ زمین چھوڑنی ہوگی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7348]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3167
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَالَ: أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ يَجِدْ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعد مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابوسعید) نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم ابھی مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور فرمایا کہ یہودیوں کی طرف چلو۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے اور جب بیت المدراس (یہودیوں کا مدرسہ) پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 3167]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: یہودیوں کے پاس چلیں۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ بیت المدراس میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) فرمایا: مسلمان ہو جاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے۔ خوب جان لو! زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس زمین سے جلا وطن کر دوں، لہذا تم میں سے کوئی کچھ مال و اسباب پائے تو اسے فروخت کر دے بصورتِ دیگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 3167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں