🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب قوله: {وكلم الله موسى تكليما} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء) میں ارشاد کہ ”اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7515
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجْتَ ذُرِّيَّتَكَ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَكَلَامِهِ، ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام نے بحث کی، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہوں نے اپنی نسل کو جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے کہا کہ آپ موسیٰ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے پیغام اور کلام کے لیے منتخب کیا اور پھر بھی آپ مجھے ایک ایسی بات کے لیے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے میری پیدائش سے پہلے ہی میری تقدیر میں لکھ دی تھی، چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7515]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام نے آپس میں بحث کی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہی آدم ہیں ناں جنہوں نے اپنی اولاد کو جنت سے نکالا تھا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے جواب دیا: آپ وہی موسیٰ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنی گفتگو سے شرف یاب کیا تھا، پھر بھی آپ مجھے ایک ایسے امر کے سبب ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی میرے لیے مقدر کر دیا تھا۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3409
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ، ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى مَرَّتَيْنِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسیٰ اور آدم علیہم السلام نے آپس میں بحث کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہیں ان کی لغزش نے جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام بولے اور آپ موسیٰ علیہ السلام ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے نوازا ‘ پھر بھی آپ مجھے ایک ایسے معاملے پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے مقدر کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چنانچہ آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 3409]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام نے آپس میں بحث کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ ہی آدم علیہ السلام ہیں کہ آپ کی لغزش نے آپ کو جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ تم وہی موسیٰ علیہ السلام ہو کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور کلام سے نوازا، پھر تم مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جو میرے پیدا ہونے سے پہلے میرا مقدر بن چکی تھی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 3409]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4736
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْتَقَى آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى لِآدَمَ: آنْتَ الَّذِي أَشْقَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَاصْطَفَاكَ لِنَفْسِهِ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَجَدْتَهَا كُتِبَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي، قَالَ: نَعَمْ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى".
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (عالم مثال میں) آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہی نے لوگوں کو پریشانی میں ڈالا اور انہیں جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ وہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے پسند کیا اور خود اپنے لیے پسند کیا اور آپ پر توریت نازل کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جی ہاں۔ اس پر آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر آپ نے تو دیکھا ہی ہو گا کہ میری پیدائش سے پہلے ہی یہ سب کچھ میرے لیے لکھ دیا گیا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جی ہاں معلوم ہے۔ چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ «اليم» کے معنی دریا کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4736]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا: آپ ہی نے لوگوں کو پریشانی میں ڈالا اور انہیں جنت سے نکالا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں جواب دیا: تو وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا اور تجھے خود اپنے لیے پسند کیا، نیز آپ پر تورات نازل فرمائی؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: ہاں۔ (میں وہی ہوں۔) حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: آپ نے تو (تورات میں لکھا) دیکھا ہی ہو گا کہ میری پیدائش سے پہلے ہی یہ سب کچھ میرے لیے لکھ دیا گیا تھا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں (معلوم ہے)، چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام اس طرح موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4736]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4738
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" حَاجَّ مُوسَى آدَمَ، فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ الَّذِي أَخْرَجْتَ النَّاسَ مِنَ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ وَأَشْقَيْتَهُمْ، قَالَ: قَالَ آدَمُ: يَا مُوسَى، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي أَوْ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب بن نجار نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی بکر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے بحث کی اور ان سے کہا کہ آپ ہی نے اپنی غلطی کے نتیجہ میں انسانوں کو جنت سے نکالا اور مشقت میں ڈالا۔ آدم علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ! آپ کو اللہ نے اپنی رسالت کے لیے پسند فرمایا اور ہم کلامی کا شرف بخشا۔ کیا آپ ایک ایسی بات پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے میرے لیے مقرر کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر بحث میں غالب آ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4738]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے بحث کی اور ان سے کہا: آپ ہی نے اپنی غلطی کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے نکالا اور مشقت میں ڈالا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: اے موسیٰ! آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے پسند فرمایا اور ہم کلامی کا شرف بخشا ہے، کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے میرے لیے مقدر کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بحث میں غالب آ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4738]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6614
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ثَلَاثًا"، قَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے عمرو سے اس حدیث کو یاد کیا، ان سے طاؤس نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدم اور موسیٰ نے مباحثہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: آدم! آپ ہمارے باپ ہیں مگر آپ ہی نے ہمیں محروم کیا اور جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے برگزیدہ کیا اور اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا۔ آخر آدم علیہ السلام بحث میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔ تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ سفیان نے اسی اسناد سے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث نقل کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6614]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام نے مباحثہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی نے ہمیں محرومی سے دوچار کیا اور جنت سے باہر نکال پھینکا۔ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اے موسیٰ! اللہ تعالیٰ نے تجھے ہم کلامی کے ساتھ برگزیدہ کیا اور اپنے ہاتھ سے تیرے لیے (تورات کو) لکھا، کیا تم مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ آخر آدم علیہ السلام اس مباحثے میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ہم سے ابو زناد نے بیان کیا اعرج سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6614]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں