صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ قَوْلِهِ: {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء) میں ارشاد کہ ”اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا“۔
حدیث نمبر: 7515
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجْتَ ذُرِّيَّتَكَ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَكَلَامِهِ، ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام نے بحث کی، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہوں نے اپنی نسل کو جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے کہا کہ آپ موسیٰ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے پیغام اور کلام کے لیے منتخب کیا اور پھر بھی آپ مجھے ایک ایسی بات کے لیے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے میری پیدائش سے پہلے ہی میری تقدیر میں لکھ دی تھی، چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7515]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام نے آپس میں بحث کی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”آپ وہی آدم ہیں ناں جنہوں نے اپنی اولاد کو جنت سے نکالا تھا؟“ حضرت آدم علیہ السلام نے جواب دیا: ”آپ وہی موسیٰ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنی گفتگو سے شرف یاب کیا تھا، پھر بھی آپ مجھے ایک ایسے امر کے سبب ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی میرے لیے مقدر کر دیا تھا۔“ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7516
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُجْمَعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: لَهُ أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ الْمَلَائِكَةَ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایمان والے قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ کاش کوئی ہماری شفاعت کرتا تاکہ ہم اپنی اس حالت سے نجات پاتے، چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ آدم ہیں انسانوں کے پردادا۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور ہر چیز کے نام آپ کو سکھائے پس آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کریں، آپ جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں اور آپ اپنی غلطی انہیں یاد دلائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7516]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اہل ایمان کو جمع کیا جائے گا تو وہ کہیں گے: اے کاش! کوئی ہمارے رب کے ہاں ہماری سفارش کرے تاکہ ہم اس تکلیف دہ مقام سے راحت حاصل کریں، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے (اور کہیں گے): اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دستِ مبارک سے پیدا کیا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا، پھر ہر چیز کے نام آپ کو سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے لیے رب کے حضور سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس مقام سے راحت نصیب کرے۔ وہ ان لوگوں سے کہیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں اور وہ ان کے سامنے اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7516]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7517
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ: أَوَّلُهُمْ أَيُّهُمْ هُوَ، فَقَالَ: أَوْسَطُهُمْ هُوَ خَيْرُهُمْ، فَقَالَ: آخِرُهُمْ خُذُوا خَيْرَهُمْ، فَكَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَرَهُمْ حَتَّى أَتَوْهُ لَيْلَةً أُخْرَى فِيمَا يَرَى قَلْبُهُ، وَتَنَامُ عَيْنُهُ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ تَنَامُ أَعْيُنُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ، فَلَمْ يُكَلِّمُوهُ حَتَّى احْتَمَلُوهُ فَوَضَعُوهُ عِنْدَ بِئْرِ زَمْزَمَ، فَتَوَلَّاهُ مِنْهُمْ جِبْرِيلُ، فَشَقَّ جِبْرِيلُ مَا بَيْنَ نَحْرِهِ إِلَى لَبَّتِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَدْرِهِ وَجَوْفِهِ، فَغَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ بِيَدِهِ حَتَّى أَنْقَى جَوْفَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ تَوْرٌ مِنْ ذَهَبٍ مَحْشُوًّا إِيمَانًا وَحِكْمَةً، فَحَشَا بِهِ صَدْرَهُ وَلَغَادِيدَهُ يَعْنِي عُرُوقَ حَلْقِهِ ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَضَرَبَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِهَا، فَنَادَاهُ أَهْلُ السَّمَاءِ مَنْ هَذَا، فَقَالَ جِبْرِيلُ: قَالُوا: وَمَنْ مَعَكَ؟، قَالَ: مَعِيَ مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالُوا: فَمَرْحَبًا بِهِ وَأَهْلًا، فَيَسْتَبْشِرُ بِهِ أَهْلُ السَّمَاءِ لَا يَعْلَمُ أَهْلُ السَّمَاءِ بِمَا يُرِيدُ اللَّهُ بِهِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى يُعْلِمَهُمْ، فَوَجَدَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا آدَمَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَرَدَّ عَلَيْهِ آدَمُ، وَقَالَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِابْنِي نِعْمَ الِابْنُ أَنْتَ فَإِذَا هُوَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِنَهَرَيْنِ يَطَّرِدَانِ، فَقَالَ: مَا هَذَانِ النَّهَرَانِ يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا النِّيلُ وَالْفُرَاتُ عُنْصُرُهُمَا، ثُمَّ مَضَى بِهِ فِي السَّمَاءِ، فَإِذَا هُوَ بِنَهَرٍ آخَرَ عَلَيْهِ قَصْرٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ، فَضَرَبَ يَدَهُ، فَإِذَا هُوَ مِسْكٌ أَذْفَرُ، قَالَ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي خَبَأَ لَكَ رَبُّكَ، ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ لَهُ: مِثْلَ مَا قَالَتْ لَهُ الْأُولَى مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ: قَالُوا وَمَنْ مَعَكَ؟، قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالُوا: مَرْحَبًا بِهِ وَأَهْلًا، ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، وَقَالُوا لَهُ: مِثْلَ مَا قَالَتِ الْأُولَى وَالثَّانِيَةُ، ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى الرَّابِعَةِ، فَقَالُوا لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ، ثُم عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ، فَقَالُوا: مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَقَالُوا لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَقَالُوا لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ كُلُّ سَمَاءٍ فِيهَا أَنْبِيَاءُ قَدْ سَمَّاهُمْ، فَأَوْعَيْتُ مِنْهُمْ إِدْرِيسَ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَارُونَ فِي الرَّابِعَةِ، وَآخَرَ فِي الْخَامِسَةِ، لَمْ أَحْفَظْ اسْمَهُ، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّادِسَةِ، وَمُوسَى فِي السَّابِعَةِ، بِتَفْضِيلِ كَلَامِ اللَّهِ، فَقَالَ مُوسَى: رَبِّ لَمْ أَظُنَّ أَنْ يُرْفَعَ عَلَيَّ أَحَدٌ، ثُمَّ عَلَا بِهِ فَوْقَ ذَلِكَ بِمَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، حَتَّى جَاءَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى، وَدَنَا لِلْجَبَّارِ رَبِّ الْعِزَّةِ، فَتَدَلَّى، حَتَّى كَانَ مِنْهُ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى، فَأَوْحَى اللَّهُ فِيمَا أَوْحَى إِلَيْهِ خَمْسِينَ صَلَاةً عَلَى أُمَّتِكَ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، ثُمَّ هَبَطَ حَتَّى بَلَغَ مُوسَى، فَاحْتَبَسَهُ مُوسَى، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ: مَاذَا عَهِدَ إِلَيْكَ رَبُّكَ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَارْجِعْ، فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ رَبُّكَ وَعَنْهُمْ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ كَأَنَّهُ يَسْتَشِيرُهُ فِي ذَلِكَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ، أَنْ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَعَلَا بِهِ إِلَى الْجَبَّارِ، فَقَالَ وَهُوَ مَكَانَهُ:" يَا رَبِّ، خَفِّفْ عَنَّا فَإِنَّ أُمَّتِي لَا تَسْتَطِيعُ هَذَا فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرَ صَلَوَاتٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُوسَى، فَاحْتَبَسَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُرَدِّدُهُ مُوسَى إِلَى رَبِّهِ حَتَّى صَارَتْ إِلَى خَمْسِ صَلَوَاتٍ، ثُمَّ احْتَبَسَهُ مُوسَى عِنْدَ الْخَمْسِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَوْمِي عَلَى أَدْنَى مِنْ هَذَا، فَضَعُفُوا، فَتَرَكُوهُ، فَأُمَّتُكَ أَضْعَفُ أَجْسَادًا وَقُلُوبًا وَأَبْدَانًا وَأَبْصَارًا وَأَسْمَاعًا، فَارْجِعْ، فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ رَبُّكَ كُلَّ ذَلِكَ يَلْتَفِتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ لِيُشِيرَ عَلَيْهِ وَلَا يَكْرَهُ ذَلِكَ جِبْرِيلُ، فَرَفَعَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، إِنَّ أُمَّتِي ضُعَفَاءُ أَجْسَادُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ وَأَسْمَاعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَأَبْدَانُهُمْ، فَخَفِّفْ عَنَّا، فَقَالَ الْجَبَّارُ: يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ كَمَا فَرَضْتُهُ عَلَيْكَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ، قَالَ: فَكُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا فَهِيَ خَمْسُونَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ وَهِيَ خَمْسٌ عَلَيْكَ، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: كَيْفَ فَعَلْتَ؟، فَقَالَ: خَفَّفَ عَنَّا أَعْطَانَا بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، قَالَ مُوسَى: قَدْ وَاللَّهِ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَتَرَكُوهُ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ أَيْضًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُوسَى، قَدْ وَاللَّهِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي مِمَّا اخْتَلَفْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَاهْبِطْ بِاسْمِ اللَّهِ، قَالَ: وَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے وہ واقعہ بیان کیا جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے معراج کے لیے لے جایا گیا کہ وحی آنے سے پہلے آپ کے پاس فرشتے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ ان میں سب سے بہتر ہیں تیسرے نے کہا کہ ان میں جو سب سے بہتر ہیں انہیں لے لو۔ اس رات کو بس اتنا ہی واقعہ پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد انہیں نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ وہ دوسری رات آئے جب کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ لیکن دل نہیں سو رہا تھا۔ انبیاء کا یہی حال ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے بات نہیں کی۔ بلکہ آپ کو اٹھا کر زمزم کے کنویں کے پاس لائے۔ یہاں جبرائیل علیہ السلام نے آپ کا کام سنبھالا اور آپ کے گلے سے دل کے نیچے تک سینہ چاک کیا اور سینے اور پیٹ کو پاک کر کے زمزم کے پانی سے اسے اپنے ہاتھ سے دھویا یہاں تک کہ آپ کا پیٹ صاف ہو گیا۔ پھر آپ کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک برتن ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ اس سے آپ کے سینے اور حلق کی رگوں کو سیا اور اسے برابر کر دیا۔ پھر آپ کو لے کر آسمان دنیا پر چڑھے اور اس کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر دستک دی۔ آسمان والوں نے ان سے پوچھا آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل انہوں نے پوچھا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا کہ میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ آسمان والوں نے کہا خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ آسمان والے اس سے خوش ہوئے۔ ان میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ زمین میں کیا کرنا چاہتا ہے جب تک وہ انہیں بتا نہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ یہ آپ کے بزرگ ترین دادا آدم ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ آدم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا۔ کہا کہ خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ مبارک ہو اپنے بیٹے کو، آپ کیا ہی اچھے بیٹے ہیں۔ آپ نے آسمان دنیا میں دو نہریں دیکھیں جو بہہ رہی تھیں۔ پوچھا اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ نیل اور فرات کا منبع ہے۔ پھر آپ آسمان پر اور چلے تو دیکھا کہ ایک دوسری نہر ہے جس کے اوپر موتی اور زبرجد کا محل ہے۔ اس پر اپنا ہاتھ مارا تو وہ مشک ہے۔ پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ جواب دیا کہ یہ کوثر ہے جسے اللہ نے آپ کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ پھر آپ دوسرے آسمان پر چڑھے۔ فرشتوں نے یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے آسمان پر کیا تھا۔ کون ہیں؟ کہا: جبرائیل۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ فرشتے بولے انہیں مرحبا اور بشارت ہو۔ پھر آپ کو لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے اور دوسرے آسمان پر کیا تھا۔ پھر چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر پانچویں آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا پھر چھٹے آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر آپ کو لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ ہر آسمان پر انبیاء ہیں جن کے نام آپ نے لیے۔ مجھے یہ یاد ہے کہ ادریس علیہ السلام دوسرے آسمان پر، ہارون علیہ السلام چوتھے آسمان پر، اور دوسرے نبی پانچویں آسمان پر۔ جن کے نام مجھے یاد نہیں اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر۔ یہ انہیں اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی کی وجہ سے فضیلت ملی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میرے رب! میرا خیال نہیں تھا کہ کسی کو مجھ سے بڑھایا جائے گا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر اس سے بھی اوپر گئے جس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں یہاں تک کہ آپ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے کر آئے اور رب العزت اللہ تبارک وتعالیٰ سے قریب ہوئے اور اتنے قریب جیسے کمان کے دونوں کنارے یا اس سے بھی قریب۔ پھر اللہ نے اور دوسری باتوں کے ساتھ آپ کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کی وحی کی۔ پھر آپ اترے اور جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور پوچھا: اے محمد! آپ کے رب نے آپ سے کیا عہد لیا ہے؟ فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے دن اور رات میں پچاس نمازوں کا عہد لیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں۔ واپس جائیے اور اپنی اور اپنی امت کی طرف سے کمی کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے بھی اشارہ کیا کہ ہاں اگر چاہیں تو بہتر ہے۔ چنانچہ آپ پھر انہیں لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہو کر عرض کیا: اے رب! ہم سے کمی کر دے کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دس نمازوں کی کمی کر دی۔ پھر آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو روکا۔ موسیٰ علیہ السلام آپ کو اسی طرح برابر اللہ رب العزت کے پاس واپس کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پانچ نمازیں ہو گئیں۔ پانچ نمازوں پر بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا اور کہا: اے محمد! میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کا تجربہ اس سے کم پر کیا ہے وہ ناتواں ثابت ہوئے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ آپ کی امت تو جسم، دل، بدن، نظر اور کان ہر اعتبار سے کمزور ہے، آپ واپس جائیے اور اللہ رب العزت اس میں بھی کمی کر دے گا۔ ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتے تھے تاکہ ان سے مشورہ لیں اور جبرائیل علیہ السلام اسے ناپسند نہیں کرتے تھے۔ جب وہ آپ کو پانچویں مرتبہ بھی لے گئے تو عرض کیا: اے میرے رب! میری امت جسم، دل، نگاہ اور بند ہر حیثیت سے کمزور ہے، پس ہم سے اور کمی کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا کہ وہ قول میرے یہاں بدلا نہیں جاتا جیسا کہ میں نے تم پر ام الکتاب میں فرض کیا ہے۔ اور فرمایا کہ ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے پس یہ ام الکتاب میں پچاس نمازیں ہیں لیکن تم پر فرض پانچ ہی ہیں۔ چنانچہ آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آئے اور انہوں نے پوچھا: کیا ہوا؟ آپ نے کہا کہ ہم سے یہ تخفیف کی کہ ہر نیکی کے بدلے دس کا ثواب ملے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں نے بنی اسرائیل کو اس سے کم پر آزمایا ہے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ پس آپ واپس جائیے اور مزید کمی کرائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کہا: اے موسیٰ، واللہ! مجھے اپنے رب سے اب شرم آتی ہے کیونکہ باربار آ جا چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پھر اللہ کا نام لے کر اتر جاؤ۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد الحرام میں تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام ہی میں تھے کہ جاگ اٹھے، جاگ اٹھنے سے یہ مراد ہے کہ وہ حالت معراج کی جاتی رہی اور آپ اپنی حالت میں آ گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7517]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے وہ واقعہ بیان کیا جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ کعبہ سے اسراء کے لیے لے جایا گیا تھا۔ وحی آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین فرشتے آئے جبکہ آپ مسجدِ حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا: ”وہ کون ہیں؟“ دوسرے نے جواب دیا: ”ان میں جو سب سے بہتر ہیں۔“ تیسرے نے کہا: ”ان میں جو بہتر ہے اسے لے لو۔“ اس رات تو اتنا ہی واقعہ پیش آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد انہیں نہیں دیکھا، حتیٰ کہ وہ دوسری رات آئے جبکہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں لیکن دل نہیں سو رہا تھا۔ حضراتِ انبیاء علیہم السلام کا یہی حال ہوتا ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل بیدار رہتے ہیں، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہ کی بلکہ آپ کو اٹھا کر چاہِ زمزم کے پاس لے آئے۔ پھر جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے متعلقہ کام لیا، اس نے آپ کے گلے سے لے کر دل سے نیچے تک چاک کیا، پھر اسے زمزم کے ساتھ اپنے ہاتھ سے دھویا حتیٰ کہ آپ کا سینہ اور پیٹ خوب صاف کر دیا، چنانچہ آپ کا اندر پاک ہو گیا۔ پھر آپ کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں ایمان و حکمت سے بھرا ہوا سونے کا ایک برتن تھا۔ اس سے آپ کا سینہ مبارک اور حلق کی رگیں بھر دیں، پھر اسے برابر کر دیا۔ اس کے بعد وہ فرشتے آپ کو لے کر آسمانِ دنیا پر چڑھے اور اس کے دروازے پر دستک دی۔ آسمان والوں نے ان سے پوچھا: ”کون ہیں؟“ جواب دیا: ”میں جبرئیل ہوں۔“ انہوں نے پوچھا: ”تمہارے ساتھ کون ہے؟“ جواب دیا: ”میرے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ انہوں نے پوچھا: ”کیا انہیں بلایا گیا ہے؟“ جواب دیا کہ ”ہاں۔“ آسمان والوں نے انہیں خوش آمدید کہا کہ ”تم اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔“ آسمان والے اس سے بہت خوش ہوئے، ان میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ زمین میں کیا کرنا چاہتا ہے جب تک وہ انہیں بتا نہیں دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانِ دنیا پر حضرت آدم علیہ السلام کو پایا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے کہا: ”یہ آپ کے والد محترم آدم ہیں، انہیں سلام کریں۔“ آپ نے انہیں سلام کیا تو حضرت آدم علیہ السلام نے آپ کے سلام کا جواب دیا اور کہا: ”میرے پیارے بیٹے! آپ کا آنا مبارک ہو، آپ کیا ہی اچھے بیٹے ہیں۔“ پھر آپ نے اچانک آسمانِ دنیا پر دو نہریں دیکھیں جو جاری تھیں۔ آپ نے پوچھا: ”اے جبرئیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”یہ نیل اور فرات کا اصل منبع ہیں۔“ پھر آپ آسمان پر مزید سیر کرنے لگے تو ایک اور نہر دیکھی جس کے اوپر موتیوں اور زبرجد سے تیار شدہ ایک محل ہے۔ اس پر آپ نے ہاتھ مارا تو پتا چلا کہ وہ مشک ہے۔ پوچھا: ”اے جبرئیل! یہ کیا ہے؟“ جواب دیا: ”یہ کوثر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے محفوظ کر رکھا ہے۔“ پھر آپ دوسرے آسمان پر چڑھے تو فرشتوں نے یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے پر کیا تھا، یعنی ”کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں جبرئیل ہوں۔“ انہوں نے پوچھا: ”آپ کے ساتھ کون ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم !“ پوچھا: ”کیا انہیں بلایا گیا ہے؟“ جواب دیا: ”ہاں۔“ فرشتے بولے: ”انہیں خوش آمدید اور بشارت ہو“، پھر وہ آپ کو لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے۔ یہاں کے فرشتوں نے بھی وہی سوال کیا جو پہلے اور دوسرے آسمان والوں نے کیا تھا۔ پھر چوتھے آسمان پر لے گئے اور یہاں بھی وہی سوال ہوا۔ پھر پانچویں آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال ہوا۔ پھر چھٹے آسمان پر آپ کو لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے تو یہاں بھی وہی سوال ہوا۔ ہر آسمان پر انبیاء علیہم السلام ہیں۔ راوی کہتا ہے: ان کے نام آپ نے لیے، مجھے اتنا یاد ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام دوسرے آسمان پر، حضرت ہارون علیہ السلام چوتھے آسمان پر، پانچویں آسمان پر بھی کسی نبی کا نام لیا لیکن مجھے اب یاد نہیں۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر، انہیں اللہ تعالیٰ سے شرفِ ہم کلامی کی وجہ سے یہ فضیلت ملی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”اے میرے رب! مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی مجھ سے زیادہ بلندی پر پہنچے گا۔“ پھر جبرئیل علیہ السلام آپ کو لے کر اس سے بھی اوپر گئے جس کا علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں، یہاں تک کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر آئے اور اللہ رب العزت کے قریب ہوئے اور اتنے قریب جیسا کہ کمان کے دونوں کنارے یا اس سے بھی زیادہ قریب۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی بھیجی اس میں آپ کی امت پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لائے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور پوچھا: ”اے محمد! تمہارے رب نے تم سے کیا عہد لیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے دن رات میں پچاس نمازیں ادا کرنے کا عہد لیا ہے۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”یقیناً آپ کی امت میں انہیں ادا کرنے کی ہمت نہیں، واپس جائیں، اپنی اور اپنی امت کی طرف سے کمی کی درخواست کریں۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کی طرف مشورہ لینے کے لیے متوجہ ہوئے تو انہوں نے اشارہ کیا کہ اگر آپ چاہیں تو بہتر ہے۔ پھر آپ انہیں لے کر اللہ جبار کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہو کر عرض کی: ”اے میرے رب! ہم سے تخفیف کر دے کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دس نمازوں کی کمی کر دی۔ پھر آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو روکا اور کہا: ”اے محمد! میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں کہ میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کا اس سے کم نماز ادا کرنے کا تجربہ کیا ہے، وہ انتہائی ناتواں ثابت ہوئے اور انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ کی امت تو جسم، دل، بدن، نظر اور سماعت کے اعتبار سے بہت کمزور ہے، آپ واپس تشریف لے جائیں اور اپنے رب سے مزید تخفیف کی درخواست کریں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتے رہے تاکہ وہ آپ کو اس کے متعلق مشورہ دیں، حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی اسے ناپسند نہیں کرتے تھے۔ آخر کار وہ پانچویں بار آپ کو اوپر لے گئے تو آپ نے عرض کی: ”اے میرے رب! میری امت جسم، دل، کان ہر حیثیت سے کمزور ہے، لہٰذا ہم سے مزید تخفیف فرما۔“ اللہ جبار نے فرمایا: ”اے محمد!“ آپ نے کہا: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ» ”میں حاضر ہوں، اس حاضری میں میری سعادت ہے“، فرمایا: ”میرے ہاں وہ قول بدلا نہیں جاتا جیسا کہ میں نے تم پر ام الکتاب میں فرض کیا ہے۔“ مزید فرمایا: ”ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے، لہٰذا یہ ام الکتاب میں پچاس ہیں مگر تم پر فرض پانچ ہی ہیں۔“ پھر جب آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آئے تو انہوں نے پوچھا: ”اب کیا ہوا؟“ آپ نے فرمایا: ”اب اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ تخفیف کر دی ہے کہ ہر نیکی کے بدلے دس گنا ثواب ملے گا۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے بنی اسرائیل کا اس سے کم نمازوں کا تجربہ کیا ہے، انہوں نے اسے بھی چھوڑ دیا تھا، آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور ان میں مزید کمی کی درخواست کریں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے موسیٰ! اللہ کی قسم! اب مجھے اپنے رب سے حیا آتی ہے کہ بار بار ایک کام کے لیے اس کی طرف جاؤں۔“ انہوں نے کہا: ”پھر اللہ کا نام لے کر (زمین پر) اتر جائیں۔“ راوی کہتا ہے: اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے جبکہ آپ مسجدِ حرام ہی میں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7517]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة