🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ:
باب: اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7509
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ شُفِّعْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ، فَيَدْخُلُونَ، ثُمَّ أَقُولُ أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى شَيْءٍ"، فَقَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن عبداللہ یربوعی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے، ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اس کو بھی جنت میں داخل فرما دے۔ ایسے لوگ جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ میں پھر عرض کروں گا: اے رب! جنت میں اسے بھی داخل کر دے جس کے دل میں معمولی سا بھی ایمان ہو۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں اس وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7509]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قیامت کے دن میری سفارش کروائی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! ان لوگوں کو جنت میں داخل فرما جن کے دلوں میں رائی برابر ایمان ہے، تب وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ میں پھر کہوں گا: اسے بھی جنت میں داخل کر دے جس کے دل میں معمولی سا بھی ایمان ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گویا میں اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کی طرف دیکھ رہا ہوں، یعنی انگلیوں کے اشارے سے ادنیٰ شے کی وضاحت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7509]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7510
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَذَهَبْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَذَهَبْنَا مَعَنَا بِثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ لَنَا عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ، فَإِذَا هُوَ فِي قَصْرِهِ، فَوَافَقْنَاهُ يُصَلِّي الضُّحَى، فَاسْتَأْذَنَّا، فَأَذِنَ لَنَا وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقُلْنَا لِثَابِتٍ لَا تَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ أَوَّلَ مِنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ هَؤُلَاءِ إِخْوَانُكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ جَاءُوكَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيم، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ، فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى، فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتُونِي، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لَا تَحْضُرُنِي الْآنَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ: انْطَلِقْ، فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ: انْطَلِقْ، فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ: انْطَلِقْ، فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ أَنَسٍ، قُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِنَا: لَوْ مَرَرْنَا بِالْحَسَنِ وَهُوَ مُتَوَارٍ فِي مَنْزِلِ أَبِي خَلِيفَةَ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَأَذِنَ لَنَا، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَلَمْ نَرَ مِثْلَ مَا حَدَّثَنَا فِي الشَّفَاعَةِ، فَقَالَ: هِيهْ، فَحَدَّثْنَاهُ بِالْحَدِيثِ، فَانْتَهَى إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ، فَقَالَ: هِيهْ، فَقُلْنَا: لَمْ يَزِدْ لَنَا عَلَى هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ حَدَّثَنِي وَهُوَ جَمِيعٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَمْ كَرِهَ أَنْ تَتَّكِلُوا، قُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَحَدِّثْنَا فَضَحِكَ، وَقَالَ: خُلِقَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا مَا ذَكَرْتُهُ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدَّثَنِ كَمَا حَدَّثَكُمْ بِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي، لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ہلال العنزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ بصرہ کے کچھ لوگ ہمارے پاس جمع ہو گئے۔ پھر ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اپنے ساتھ ثابت رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے شفاعت کی حدیث پوچھیں۔ انس رضی اللہ عنہ اپنے محل میں تھے اور جب ہم پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے ملاقات کی اجازت چاہی اور ہمیں اجازت مل گئی۔ اس وقت وہ اپنے بستر پر بیٹھے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا تھا کہ حدیث شفاعت سے پہلے ان سے اور کچھ نہ پوچھنا۔ چنانچہ انہوں نے کہا: اے ابوحمزہ! یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے شفاعت کی حدیث پوچھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کا دن جب آئے گا تو لوگ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ظاہر ہوں گے۔ پھر وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ہماری اپنے رب کے پاس شفاعت کیجئے۔ وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ سے شرف ہم کلامی پانے والے ہیں۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، البتہ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں کہوں گا کہ میں شفاعت کے لیے ہوں اور پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تعریفوں کے الفاظ مجھے الہام کرے گا جن کے ذریعہ میں اللہ کی حمد بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں۔ چنانچہ جب میں یہ تعریفیں بیان کروں گا اللہ کے حضور میں سجدہ کرنے والا ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو وہ سنا جائے گا، جو مانگو گے وہ دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی۔ پھر میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، کہا جائے گا کہ جاؤ اور ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لو جن کے دل میں ذرہ یا رائی برابر بھی ایمان ہو۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ پھر میں لوٹوں گا اور یہی تعریفیں پھر کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا مجھ سے کہا جائے گا۔ اپنا سر اٹھاؤ کہو، آپ کی سنی جائے گی، میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے کم سے کم تر حصہ کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی جہنم سے نکال لو۔ پھر میں جاؤں گا اور نکالوں گا۔ پھر جب ہم انس رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں امام حسن بصری کے پاس بھی چلنا چاہئیے، وہ اس وقت ابوخلیفہ کے مکان میں تھے اور ان سے وہ حدیث بیان کرنا چاہئیے جو انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا۔ پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم نے ان سے کہا: اے ابوسعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے یہاں سے آئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی، اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی، انہوں نے کہا کہ بیان کرو۔ ہم نے ان سے حدیث بیان کی جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا کہ اور بیان کرو، ہم نے کہا کہ اس سے زیادہ انہوں نے نہیں بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ جب صحت مند تھے، بیس سال اب سے پہلے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے یا اس لیے بیان کرنا ناپسند کیا کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ ہم نے کہا ابوسعید! پھر ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے۔ آپ اس پر ہنسے اور فرمایا: انسان بڑا جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے اس کا ذکر ہی اس لیے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح تم سے بیان کی (اور اس میں یہ لفظ اور بڑھائے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا اور وہی تعریفیں کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا۔ اللہ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے سنا جائے گا، جو مانگو کے دیا جائے گا، جو شفاعت کرو کے قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! مجھے ان کے بارے میں بھی اجازت دیجئیے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی، میری بڑائی کی قسم! اس میں سے (میں) انہیں بھی نکالوں گا جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7510]
حضرت معبد بن بلال عنزی رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم اہل بصرہ جمع ہوئے اور ثابت بنانی رحمہ اللہ کو ساتھ لے کر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تاکہ وہ ان سے ہمارے لیے حدیثِ شفاعت کے متعلق پوچھیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے محل میں تشریف فرما تھے۔ جب ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے وہاں پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے ان سے اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ اس وقت وہ اپنے بستر پر بیٹھے تھے۔ ہم نے حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ سے کہہ رکھا تھا کہ ان سے حدیثِ شفاعت سے پہلے کوئی بات نہ پوچھنا، چنانچہ حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ آپ کے دینی بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے یہ حدیثِ شفاعت کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث سنائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ظاہر ہوں گے۔ پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: آپ اپنے رب کے پاس ہماری سفارش کریں۔ وہ کہیں گے: میں سفارش کے لائق نہیں ہوں۔ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ چنانچہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے تو وہ بھی کہیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، یقیناً وہ اللہ تعالیٰ سے شرفِ ہمکلامی پانے والے ہیں۔ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے: میں اس قابل نہیں۔ البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ کے حکم اور اس کی خالص روح ہیں۔ تب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں، البتہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ جب وہ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا: میں اس (شفاعت کرنے) کے لائق ہوں۔ پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی۔ اندریں حالات (اللہ تعالیٰ) اپنے لیے مجھے تعریفی کلمات الہام کرے گا جن کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں، پھر جب میں اللہ کی تعریفیں بیان کروں گا اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤں گا تو مجھ سے فرمایا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، بات کرو تمہاری بات سنی جائے گی، جو مانگو وہ دیا جائے گا، سفارش کرو وہ قبول کی جائے گی۔ پھر میں عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت۔ فرمایا جائے گا: جاؤ دوزخ سے ان لوگوں کو نکال لاؤ جن کے دلوں میں ایک جو کے برابر ایمان ہے۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور تعمیلِ حکم کروں گا۔ پھر میں واپس آؤں گا اور انھی تعریفی کلمات سے اللہ کی حمد و ثناء کروں گا اور اللہ کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا۔ پھر مجھ سے فرمایا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ، کہو آپ کی بات سنی جائے گی، سوال کرو آپ کا مطلوب دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت، مجھے فرمایا جائے گا: جاؤ اور ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لاؤ جن کے دلوں میں ذرہ یا رائی کے برابر بھی ایمان ہے۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور تعمیل کروں گا۔ میں واپس آؤں گا اور تعریفی کلمات سے اللہ کی حمد و ثناء کروں گا اور اللہ کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا۔ پھر مجھ سے فرمایا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ، کہو آپ کی بات سنی جائے گی، سوال کرو آپ کا مطلوب دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: اے رب! میری امت! مجھ سے فرمایا جائے گا کہ جاؤ ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لاؤ جن کے دلوں میں رائی کے دانے سے بھی کم بلکہ کمتر ایمان ہو، میں جاؤں گا اور تعمیلِ حکم کروں گا۔ پھر جب ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس سے واپس آئے تو میں نے اپنے کچھ ساتھیوں سے کہا: ہمیں امام حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس بھی جانا چاہیے وہ اس وقت (حجاج بن یوسف کے ڈر سے) ابو خلیفہ کے مکان میں چھپے ہوئے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان سے وہ حدیث بیان کریں جو ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سنائی ہے، لہذا ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے ہمیں اجازت دی تو ہم نے ان سے کہا: اے ابو سعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں سے آئے ہیں، انہوں نے جو حدیثِ شفاعت بیان کی ہے وہ ہم نے کسی سے نہیں سنی۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: اسے بیان کرو۔ ہم نے ان سے ساری حدیث بیان کی۔ جب ہم حدیث کے آخری مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا: اور بیان کرو۔ ہم نے کہا: اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: انہوں نے مجھے بیس سال پہلے یہ حدیث بیان کی تھی جبکہ وہ پورے قوی نوجوان تھے۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی ماندہ حدیث بھول گئے ہیں یا انہوں نے تمہارے باتیں کرنے کے پیش نظر اسے بیان نہیں کیا۔ ہم نے عرض کیا: ابو سعید! آپ ہم سے حدیث بیان کریں۔ وہ ہنس کر بولے: ﴿خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ [سورة الأنبياء: 37] انسان بہت جلد باز پیدا کیا گیا ہے، میں نے اس کا ذکر ہی اسے بیان کرنے کے لیے کیا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہی حدیث بیان کی تھی جو تمہیں بیان کی ہے (اور اس میں یہ الفاظ مزید بڑھائے)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چوتھی بار واپس آؤں گا اور انھی تعریفی کلمات سے اللہ کی حمد و ثناء کروں گا پھر اللہ کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے اسے سنا جائے گا، جو مانگو گے دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! ان لوگوں کو بھی جہنم سے نکالنے کی اجازت دے جنہوں نے صرف «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہی کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی اور میری عظمت کی قسم! میں دوزخ سے ان لوگوں کو بھی نکالوں گا جنہوں نے صرف «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7510]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7511
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ حَبْوًا، فَيَقُولُ لَهُ رَبُّهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ رَبِّ الْجَنَّةُ مَلْأَى، فَيَقُولُ لَهُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكُلُّ ذَلِكَ يُعِيدُ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ مَلْأَى، فَيَقُولُ: إِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا عَشْرَ مِرَارٍ".
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے بعد میں داخل ہونے والا اور دوزخ سے سب سے بعد میں نکلنے والا وہ شخص ہو گا جو گھسٹ کر نکلے گا، اس سے اس کا رب کہے گا جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا میرے رب! جنت تو بالکل بھری ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لیے دنیا کے دس گنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7511]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا اور جہنم سے تمام لوگوں کے بعد نکلنے والا وہ شخص ہو گا جو گھسٹ کر نکل رہا ہو گا۔ اس سے اس کا رب فرمائے گا: تو جنت میں داخل ہو جا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! جنت تو بالکل بھری ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ تین مرتبہ اس سے فرمائے گا اور وہ ہر مرتبہ یہی جواب دے گا کہ جنت تو بھری پڑی ہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تیرے لیے دنیا کی مثل دس گنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7511]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7512
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ"، قَالَ الْأَعْمَشُ، وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں خیثمہ نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر شخص سے تمہارا رب اس طرح بات کرے گا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا وہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا اور اسے اپنے اعمال کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا اور وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا اور اسے اپنے اعمال کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پھر اپنے سامنے دیکھے گا تو اپنے سامنے جہنم کے سوا اور کوئی چیز نہ دیکھے گا۔ پس جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے۔ اعمش نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، ان سے خیشمہ نے اسی طرح اور اس میں یہ لفظ زیادہ کئے کہ (جہنم سے بچو) خواہ ایک اچھی بات ہی کے ذریعہ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7512]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا رب اس طرح گفتگو کرے گا کہ اس (بندے) اور اس (رب) کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے اپنے اعمال کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا اور اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو بھی اسے اپنے اعمال کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا، پھر جب اپنے سامنے دیکھے گا تو اپنے سامنے جہنم کے سوا کوئی چیز نہ دیکھے گا اس لیے تم جہنم سے بچنے کی فکر کرو، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنے سے کیوں نہ ہو۔ ایک روایت میں ہے: (جہنم سے بچو) خواہ ایک اچھی بات ہی کے ذریعے سے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7512]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7513
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَاءَ حَبْرٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالَ: إِنَّهُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ جَعَلَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْمَلِكُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا وَتَصْدِيقًا لِقَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِه إِلَى قَوْلِهِ يُشْرِكُون سورة الزمر آية 67.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہودیوں کا ایک عالم خدمت نبوی میں حاضر ہوا اور کہا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمین کو ایک انگلی پر، پانی اور کیچڑ کو ایک انگلی پر، اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا اور پھر اسے ہلائے گا اور کہے گا میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک کھل گئے، اس بات کی تصدیق اور تعجب کرتے ہوئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «وما قدروا الله حق قدره‏» انہوں نے اللہ کی شان کے مطابق قدر نہیں کی اللہ تعالیٰ کے ارشاد «يشركون‏» تک۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7513]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: یہودیوں کا ایک عالم آیا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر) کہنے لگا: جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ایک انگلی پر آسمانوں کو، ایک انگلی پر زمین کو، ایک انگلی پر پانی اور کیچڑ کو، ایک انگلی پر دیگر تمام مخلوقات کو اٹھالے گا، پھر ان تمام کو حرکت دے گا اور کہے گا: «أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْمَلِكُ» میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہنسنے لگے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک کھل گئے، آپ اس کی تصدیق اور ان باتوں پر تعجب کر رہے تھے۔ پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [سورة الزمر: 67] انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے، اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک ہے اور اس سے بالاتر ہے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7513]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7514
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي النَّجْوَى، قَالَ: يَدْنُو أَحَدُكُمْ مِنْ رَبِّهِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: أَعَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا؟، فَيَقُولُ: نَعَمْ، وَيَقُولُ: عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَرِّرُهُ، ثُمَّ يَقُولُ:" إِنِّي سَتَرْتُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ"،
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے صفوان بن محرز نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: سرگوشی کے بارے میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرح سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کے قریب جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پردہ اس پر ڈال دے گا اور کہے گا تو نے یہ یہ عمل کیا تھا؟ بندہ کہے گا کہ ہاں۔ چنانچہ وہ اس کا اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہ پر پردہ ڈالا تھا اور آج بھی تجھے معاف کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7514]
صفوان بن محرز سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے سرگوشی کے متعلق سوال کیا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے رب کے قریب ہو گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال کر فرمائے گا: تو نے فلاں فلاں عمل کیا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے یہ یہ عمل بھی کیا تھا؟ بندہ ہاں میں جواب دے کر ان کا اقرار کرے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالا تھا اور آج بھی تجھے معاف کرتا ہوں۔ ایک دوسری روایت میں ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7514]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7514M
وَقَالَ آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان نے بیان کیا، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7514M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں