🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب متى يقوم الناس للصلاة:
باب: نماز کے واسطے نمازی کب کھڑے ہوں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 605 ترقیم شاملہ: -- 1367
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُمْنَا، فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ، قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، ذَكَرَ، فَانْصَرَفَ، وَقَالَ لَنَا: مَكَانَكُمْ، فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، وَقَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً، فَكَبَّرَ، فَصَلَّى بِنَا ".
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) اقامت کہی گئی، ہم اپنی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے، آپ نے اللہ اکبر نہیں کہا تھا کہ آپ کو (کچھ) یاد آگیا، اس پر آپ واپس پلٹ گئے اور ہمیں فرمایا: اپنی جگہ پر رہو۔ ہم آپ کے انتظار میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ تشریف لے آئے، آپ غسل کیے ہوئے تھے اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1367]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اقامت ہو گئی تو ہم نے صفوں کو برابر کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَللُّٰہ اَکْبَر نہیں کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (غسل کرنا) یاد آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹ گئے اور ہمیں فرمایا: اسی جگہ پر جمے رہو، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں کھڑے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ کر ہمیں جماعت کرائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 605
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 605 ترقیم شاملہ: -- 1368
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ مَقَامَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ، أَنْ مَكَانَكُمْ فَخَرَجَ، وَقَدِ اغْتَسَلَ، وَرَأْسُهُ يَنْطُفُ الْمَاءَ، فَصَلَّى بِهِمْ ".
زہیر بن حرب نے بیان کیا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی، (کہا): ابوعمرو، یعنی اوزاعی نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں زہری نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی، کہا: نماز کی اقامت کہہ دی گئی، لوگوں نے اپنی صفیں باندھ لیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے پھر آپ نے لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا: اپنی جگہ پر رہو۔ اور خود (مسجد سے) باہر نکل گئے، پھر (آئے تو) آپ غسل فرما چکے تھے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1368]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کھڑی ہو گئی، لوگوں نے اپنی صفیں باندھ لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے کہا، اپنی جگہ ٹھہرے رہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں واپس آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی گر رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کرائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 605
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 605 ترقیم شاملہ: -- 1369
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ الصَّلَاةَ، كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَصَافَّهُمْ، قَبْلَ أَنْ يَقُومَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامَهُ ".
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ولید بن مسلم نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اقامت کہی جاتی تو اس سے پہلے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی جگہ پر) کھڑے ہوں لوگ صفوں میں اپنی اپنی جگہ لے لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1369]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کھڑی کی جاتی اور لوگ صفوں میں اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے، لیکن ابھی تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 605
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں