صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب كراهة الشروع في نافلة بعد شروع المؤذن:
باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1644
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ ".
شعبہ نے ورقاء سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1644]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت شروع ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1644]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1645
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
(شعبہ کی بجائے) شبابہ نے ورقاء سے یہی روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1645]
”امام صاحب نے دوسرے استاد سے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1645]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1646
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ ".
روح نے کہا: ہمیں زکریا بن اسحاق نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عطاء بن یسار سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1646]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1646]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1647
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(روح کی بجائے) عبدالرزاق نے خبر دی کہ ہمیں زکریا بن اسحاق نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1647]
”امام صاحب نے دوسرے استاد سے بھی یہی روایت بیان کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1647]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1648
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، قَالَ حَمَّادٌ: ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا، فَحَدَّثَنِي بِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
حماد بن زید نے ایوب سے روایت کی، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند روایت کی۔ حماد نے کہا: پھر میں (براہ راست) عمرو (بن دینار) سے ملا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی لیکن انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول روایت کیا) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1648]
امام صاحب ایک دوسرے استاد حماد بن زید کی سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بیان کرتے ہیں، حماد کہتے ہیں: ”پھر میں اپنے استاد عمرو سے ملا اس نے مجھے یہ حدیث سنائی، لیکن اس نے اس حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کی“ (یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1648]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة