🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب فضيلة العمل الدائم من قيام الليل وغيره:
باب: ہمیشگی والے عمل کی فضیلت قیام اللیل وغیرہ میں اور عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 782 ترقیم شاملہ: -- 1827
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ، وَكَانَ يُحَجِّرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ، فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ "، وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا عَمِلُوا عَمَلًا أَثْبَتُوهُ.
سعید بن ابی نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمان بن عوف) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی، آپ رات کو اس سے حجرہ بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے تو لوگوں نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنی شروع کر دی، آپ دن کے وقت اسے بچھا لیتے تھے، ایک رات لوگ کثرت کے ساتھ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا: "لوگو! اتنے اعمال کی پابندی کرو جتنے اعمال کی تم میں طاقت ہے کیونکہ (اس وقت تک) اللہ تعالیٰ (اجر و ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا حتیٰ کہ تم خود اکتا جاؤ اور یقیناً اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے چاہے وہ کم ہو۔" اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے جب کوئی عمل کرتے تو اسے ہمیشہ برقرار رکھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1827]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو رات کو حجرہ بنا کر اس میں نماز پڑھتے تو صحابہ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کو اس کو بچھا لیتے تھے، ایک رات لو گ کثرت کے ساتھ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: اے لوگو! اتنے اعمال کی پابندی کرو، جتنے کی ع تمہیں قدرت حاصل ہے کیونکہ اللہ تعا لیٰ (اجرو ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا۔ تم ہی (عمل سے) اکتاؤ گے، اور اللہ کے نزدیک محبوب عمل وہ ہے جس پردوام اور ہمیشگی کی جا ئے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ یہی تھا جب وہ کوئی عمل کرتے اس کو ہمیشہ بر قرار رکھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1827]
ترقیم فوادعبدالباقی: 782
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 782 ترقیم شاملہ: -- 1828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ".
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوسلمہ سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: "جسے ہمیشہ کیا جائے اگرچہ کم ہو۔" [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1828]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ کم ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1828]
ترقیم فوادعبدالباقی: 782
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 782 ترقیم شاملہ: -- 2723
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، وَكَانَ يَقُولُ: خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ يَقُولُ: أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ، مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ، وَإِنْ قَلَّ ".
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں، شعبان سے بڑھ کر، روزے نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اتنے ہی اعمال اپناؤ جتنوں کی تم طاقت رکھتے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم خود ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ قائم رہے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 2723]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال بھر کسی ماہ میں شعبان سے زیادہ روزے دار نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے۔ اس قدر اعمال کرو۔ جو تمھارے بس میں ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ (اجرو ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا تم خود ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ کے ہاں محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر صاحب عمل ہمیشگی کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 2723]
ترقیم فوادعبدالباقی: 782
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں