صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب التحية والإمام يخطب:
باب: خطبہ جمعہ کے دوران تحیۃ المسجد پڑھنا۔
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2018
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَارْكَعْ.
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اسی اثناء میں جب جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ایک آدمی (مسجد میں) آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اے فلاں (نام لیا)! کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2018]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اس دوران ایک آدمی آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اے فلاں! کیاتو نے نماز پڑھ لی ہے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور دورکعت نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2019
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ حَمَّادٌ، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّكْعَتَيْنِ.
ایوب نے عمرو (بن دینار) سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حماد کی طرح روایت کی، اور انہوں (ایوب) نے بھی اس میں دو رکعت کا ذکر نہیں کیا (البتہ اگلی روایت میں سفیان نے کیا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2019]
مصنف دوسری سند سےیہی روایت لائے ہیں اور اس میں دو رکعت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2019]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2020
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إسحاق: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ " أَصَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " قُمْ فَصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ "، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
قتیبہ بن سعید اور اسحاق بن ابراہیم میں سے قتیبہ نے کہا: ہمیں حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی سفیان نے عمرو سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے۔ تو آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے نماز پڑھ لی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور دو رکعتیں پڑھ لو۔“ قتیبہ کی حدیث میں (فصل رکعتین کے بجائے) صل رکعتین (دو رکعتیں پڑھو) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2020]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اٹھو اور دورکعت پڑھو“ قتیبہ کی حدیث میں ”فَصَلِّ“ پس نماز پڑھو کی جگہ ”صَلِّ“ ہے یعنی فا نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2021
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ: " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، فَقَالَ: " ارْكَعْ ".
ابن جریج نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی آیا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے، جمعے کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2021]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، ایک آدمی آیا جب کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”’کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
شعبہ نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کے دن آئے جبکہ امام (گھر سے) نکل (کر) آ چکا ہے تو وہ دو رکعت پڑھ لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2022]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اس حال میں آئے کہ امام آ چکا ہو تو وہ دو رکعت پڑھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2022]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2023
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: " جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَعَدَ سُلَيْكٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " قُمْ فَارْكَعْهُمَا ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعے کے دن آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو سلیک نماز پڑھنے سے پہلے ہی بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2023]
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ سلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن اس وقت آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو سلیک نماز پڑھے بغیر ہی بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے دو رکعت پڑھ لی ہیں؟" انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور دو ر کعتیں پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2023]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2024
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، كلاهما، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ " يَا سُلَيْكُ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا ".
ابوسفیان (طلحہ بن نافع واسطی) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعے کے دن (اس وقت) آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے۔ آپ نے ان سے کہا: ”اے سلیک! اٹھ کر دو رکعتیں پڑھو اور ان میں سے اختصار برتو۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعے کے دن آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور ان میں اختصار کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2024]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن اس وقت آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اے سلیک! اٹھ کر دو رکعت پڑھو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فخطبہ دے رہا ہے تو وہ دو رکعت پڑھے اور ان میں تخفیف واختصار کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2024]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة