صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب النهي عن الوصال في الصوم:
باب: صوم و صال کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 1103 ترقیم شاملہ: -- 2566
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ، يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي "، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ: " لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ "، كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا.
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے میری طرح کون ہے؟ میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ جب اس کے باوجود صحابہ رضی اللہ عنہم صوم وصال سے نہ رکے تو آپ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا اور پھر افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ نے فرمایا: ”اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا۔“ گویا کہ آپ نے ان کے نہ رکنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2566]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا افطار مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا: تو ایک مسلمان آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بھی تو وصال کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون میری مثل ہے؟ میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے تو جب لوگوں نے وصال پر اصرار کیا (لوگ وصال سے نہ رکے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن پھر دوسرے دن بلا افطار و سحری روزہ رکھا، پھر انھوں نے چاند دیکھ لیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاند لیٹ ہوتا تو میں تمھارے ساتھ اور وصال کرتا۔ گویا جب وہ وصال سے باز نہ آئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطور عبرت و سزا یہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2566]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1103
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1103 ترقیم شاملہ: -- 2567
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ "، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ "،
زہیر بن حرب، اسحاق، زہیر، جریر، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہو کیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2567]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وصال سے بچو“ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وصال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس مسئلہ و معاملہ میں میرے جیسے نہیں ہو، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے، تم انہی اعمال کی ذمہ داری قبول کرو۔ جو تمھارے بس اور طاقت میں ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2567]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1103
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1103 ترقیم شاملہ: -- 2568
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ "،
قتیبہ، مغیرہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کام کی تم طاقت رکھو وہ کام کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2568]
امام صاحب یہی روایت ایک دوسرے استاد سے اس فرق سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کام کی ذمہ داری قبول کرو جس کی تم میں طاقت ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2568]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1103
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1103 ترقیم شاملہ: -- 2569
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ.
ابن نمیر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے جس میں ہے کہ آپ نے وصال سے منع فرمایا۔ (آگے) ابوزرعہ سے عمارہ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2569]
امام صاحب ایک اور استاد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے روکا جیسا کہ عمارہ ابو زرعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2569]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1103
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة