صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان على الصائم ووجوب الكفارة الكبرى فيه وبيانها وانها تجب على الموسر والمعسر وتثبت في ذمة المعسر حتى يستطيع:
باب: رمضان کے دنوں میں روزہ دار پر ہم بستری کی سخت حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کا بیان، اور یہ کفارہ مالدار اور تنگ دست دونوں پر واجب ہے، اور تنگ دست کے ذمے اس وقت واجب ہو گا جب وہ اس کی طاقت رکھتا ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1111 ترقیم شاملہ: -- 2595
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَمَا أَهْلَكَكَ؟ "، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ "، فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا "، قَالَ: أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، " فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ "، ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ "،
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابن عیینہ، سفیان بن عیینہ، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا آپ نے فرمایا: ”تو کیسے ہلاک ہو گیا؟“ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے آپ نے فرمایا: ”کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا کہ نہیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو محتاجوں میں صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کیا: کیا ہم سے بھی زیادہ محتاج ہے؟ مدینہ کے دونوں اطراف کے درمیان والے گھروں میں کوئی ایسا گھر نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک ظاہر ہو گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: ”جا اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2595]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تباہ و برباد ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تجھے کس چیز نے تباہ برباد کر ڈالا؟ اس نے کہا: رمضان میں اپنی بیوی سے تعلقات قائم کر بیٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ایک گردن آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک ٹوکری لائی گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صدقہ کر دو۔ اس نے عرض کیا: کیا کوئی ہم سے بھی زیادہ محتاج ہے؟ مدینہ کے دونوں سنگلاخ زمینوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ اس کا محتاج نہیں ہے اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں۔ پھر فرمایا: ”جاؤ اور اسے اپنے اہل کو کھلاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2595]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1111
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1111 ترقیم شاملہ: -- 2596
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ.
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، حضرت محمد بن مسلم زہری رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور راوی نے کہا کہ اس میں اس ٹوکرے کا ذکر نہیں ہے۔ جس میں کھجوریں تھیں۔ یعنی زنبیل اور وہ یہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2596]
امام صاحب ایک دوسرے استاد سے زہری کی سند سے ابن عیینہ کی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔ ایک عرق جس میں کھجوریں تھیں اور عرق زنبیل (ٹوکری) کو کہتے ہیں۔ اور اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہنس پڑے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں نمایاں ہو گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2596]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1111
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1111 ترقیم شاملہ: -- 2597
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟، قَالَ: لَا، قَالَ: وَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "،
یحییٰ بن یحییٰ، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، ابن عوف، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2597]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رمضان میں اپنی بیوی کے پاس چلا گیا، پھر اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی پوچھا: تو آپ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس غلام ہےِ۔“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2597]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1111
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1111 ترقیم شاملہ: -- 2598
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ " أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
محمد بن رافع، اسحاق بن عیسیٰ، مالک، حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ ایک غلام آزاد کر کے کفارہ ادا کرے پھر ابن عیینہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2598]
امام صاحب اپنے استاد محمد بن رافع سے یہی روایت زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ چھوڑ دیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گردن آزاد کرنے کا حکم دیا پھر ابن عیینہ کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2598]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1111
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1111 ترقیم شاملہ: -- 2599
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً، أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ، أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا "،
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2599]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جس نے رمضان میں روزہ کھول دیا تھا حکم دیا کہ ”وہ گردن آزاد کرے یا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2599]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1111
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1111 ترقیم شاملہ: -- 2600
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ابن عیینہ کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2600]
امام صاحب اپنے استاد عبدبن حمید سے زہری ہی کی سند سے ابن عیینہ کے موافق روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2600]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1111
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة