🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب التخيير في الصوم والفطر في السفر:
باب: سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2625
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ؟، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ".
قتیبہ بن سعید، لیث، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزے رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر تو چاہے تو روزہ افطار کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2625]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2626
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟، قَالَ: " صُمْ إِنْ شِئْتَ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ "،
ابوربیع، حماد، ابن زید، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو افطار کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2626]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا انسان ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہے تو کیا میں سفر میں روزہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھ لو اگر چاہو اور روزہ چھوڑدو اگر چاہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2627
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ: إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ،
یحییٰ بن یحییٰ، ابومعاویہ، ہشام سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2627]
امام صاحب اپنے استاد یحییٰ بن یحییٰ سے یہی روایت ہشام ہی کی سند سے نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں ایک آدمی ہوں میں ہمیشہ روزے رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2627]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2628
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ حَمْزَةَ، قَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ابوبکر، عبدالرحیم بن سلیمان، ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2628]
امام صاحب اپنے دواور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں؟ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2628]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2629
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ "، قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ: " هِيَ رُخْصَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنَ اللَّهِ.
ابوطاہر، ہارون بن سعید، ہارون، ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابواسود، عروہ بن زبیر، ابومرواح، حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے ایک رخصت ہے تو جس نے اس رخصت پر عمل کیا تو اس نے اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ہارون نے اپنی حدیث میں رخصۃ کا لفظ کہا ہے اور من اللہ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2629]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سفر میں روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ افطار کرنا اللہ کی طرف سے رخصت ہے تو جس نے اس کو قبول کیا تو اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ یا تنگی نہیں ہے۔ ہارون کی حدیث میں وہی صرف رخصت کے الفاظ ہیں۔ من اللہ (اللہ کی طرف سے) کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں