صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2648
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟، قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟، قَالَ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ: " إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ "، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: " تَرَكَهُ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ، حضرت عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ وہ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے انہوں نے فرمایا: ”اے ابومحمد! آؤ ناشتہ کر لو۔“ تو انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے کہ عاشورہ کا دن کیا ہے؟“ اشعث نے کہا: وہ کیا ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن کا روزہ چھوڑ دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2648]
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ صبح کا کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے کہا: ”اے ابو محمد! آؤ صبح کا کھانا کھا لو۔“ تو اشعث نے کہا: ”کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کیا جانتے ہو، عاشورہ کے دن کی حقیقت کیا ہے؟“ اشعث نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”وہ تو ایسا دن ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب ماہ رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو اسے چھوڑ دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2648]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2649
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: " فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَهُ ".
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اس طرح نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2649]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ ”جب رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک کر دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2649]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2650
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَكُلْ "، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: " كُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِكَ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، یحییٰ بن سعید، سفیان، محمد بن حاتم، زبید یامی، عمارہ بن عمیر، حضرت قیس بن سکن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابومحمد! قریب ہو جاؤ اور کھاؤ۔“ انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے لیکن چھوڑ دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2650]
قیس بن سکن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ عاشورہ کے دن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے کہا: ”اے ابو محمد! قریب ہوں اور کھانا کھائیں۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں روزے دار ہوں۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم بھی اس کا روزہ رکھا کرتے تھے، پھر اسے چھوڑ دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2650]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2651
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ، فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ ".
محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، اسرائیل، منصور، ابراہیم، علقمہ، اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! آج تو عاشورہ ہے؟“ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتا تھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2651]
علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو اشعث نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمٰن! آج کا دن تو عاشورہ کا دن ہے۔“ تو انہوں نے جواب دیا: ”رمضان کی فرضیت کے نزول سے پہلے اس کا روزہ رکھا جاتا تھا، جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہو گیا تو اسے چھوڑ دیا گیا، اس لیے اگر آپ کا روزہ نہیں ہے تو کھا لیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2651]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة