صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب قضاء الصيام عن الميت:
باب: میت کی طرف سے روزوں کی قضا کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2697
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: فَقَالَ: " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ "، قَالَتْ " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: " صُومِي عَنْهَا "، قَالَتْ: إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟، قَالَ: " حُجِّي عَنْهَا "،
علی بن مسہر، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ (والدہ) فوت ہو گئی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اجر پکا ہو گیا۔ اور وراثت نے وہ (لونڈی) تمہیں لوٹا دی۔“ اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔“ اس نے پوچھا: انہوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2697]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آ گئی اور اس نے پوچھا: ”میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ میں دی اور اب میری ماں فوت ہوئی ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر ثابت ہو گیا اور وراثت کی بنا پر تیری لونڈی واپس مل گئی۔“ اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے، تو کیا میں اس کی طرف سے رکھ سکتی ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے روزہ رکھو۔“ اس نے پوچھا: ”اس نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے حج کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2697]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2698
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ،
عبداللہ بن نمیر نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ (آگے) ابن مسہر کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) مگر انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2698]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں جس میں «أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا“ کے بجائے «كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا“ ہے اور اس میں ایک ماہ کے بجائے دو ماہ کے روزے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2698]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2699
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ،
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں (سفیان) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی، انہوں نے ابن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔۔۔ اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2699]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ ”ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں ایک ماہ کے روزہ کا ذکر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2699]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2700
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ،
عبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان (ثوری) سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2700]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں دو ماہ کے روزوں کا تذکرہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2700]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2701
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ.
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے سلیمان بن بریرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔۔۔ (آگے) ان کی حدیث کے مانند (بیان کیا) اور انہوں نے بھی کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2701]
امام صاحب ایک اور استاد سے سلیمان بن بریدہ کی اپنے باپ (حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں ایک ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2701]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة