صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب تحريم قتل الكافر بعد ان قال لا إله إلا الله:
باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 95 ترقیم شاملہ: -- 274
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْتُلْهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا، أَفَأَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ".
لیث نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن عدی بن خیار کو خبر دی کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اگر کافروں میں سے کسی شخص سے میرا سامنا ہو، وہ مجھ سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ تلوار کی ضرب لگائے اور اسے کاٹ ڈالے، پھر مجھ سے بچاؤ کے لیے کسی درخت کی آڑ لے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا تو اے اللہ کے رسول! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو۔“ انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور اسے کاٹ ڈالنے کے بعد یہ کلمہ کہے تو کیا میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس جگہ ہو گے جہاں وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 274]
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بتائیے اگر کسی کافر آدمی سے میرا مقابلہ ہو جائے اور وہ مجھ سے لڑ پڑے اور میرا ایک ہاتھ تلوار کی ضرب سے کاٹ دے، پھر مجھ سے کسی درخت کی پناہ لے کر کہے: «أَسْلَمْتُ لِلَّهِ» ”میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا (میں مسلمان ہو گیا)“، تو اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اس کو قتل کر سکتا ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ میرا ایک ہاتھ کاٹ چکا ہے، پھر اس نے میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد یہ کلمہ کہا ہے، تو کیا میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو، اگر تو نے اس کو قتل کر دیا تو وہ اس مقام پر ہوگا جس پر تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے، اور تو اس کی جگہ و مقام پر ہو گا جس پر وہ اس کلمہ کے کہنے سے پہلے تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 274]
ترقیم فوادعبدالباقی: 95
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في المغازی، باب شهود الملائكة بداء برقم (3794) وفي الديات، باب قول الله تعالى: ﴿ وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ﴾ برقم (6472) وابوداؤد في ((سننه)) في الجهاد، باب: على ما يقاتل المشركون برقم (2644) انظر ((التحفة)) برقم (11547)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 95 ترقیم شاملہ: -- 275
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَمَّا الأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ، وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ: فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے معمر، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کے ساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، اوزاعی اور ابن جریج کی روایت میں (لیث کی) سابقہ حدیث کی طرح «أسلمت للہ» ”میں اللہ کے لیے اسلام لے آیا“ کے الفاظ ہیں جبکہ معمر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب میں نے چاہا کہ اسے قتل کر دوں تو اس نے «لا إلہ إلا اللہ» کہہ دیا۔“ (دونوں کا حاصل ایک ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 275]
امام مسلم رحمہ اللہ مختلف اساتذہ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں۔ ایک روایت میں «أَسْلَمْتُ لِلَّهِ» ”میں اللہ کا مطیع ہوا“ کے الفاظ ہیں، اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ جب میں اس کے قتل کے لیے لپکا تو اس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 275]
ترقیم فوادعبدالباقی: 95
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (270)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 95 ترقیم شاملہ: -- 276
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ِ أَخْبَرَهُ، أَنّ َ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
یونس نے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے اسے خبر دی کہ حضرت مقداد بن عمرو (ابن اسود) کندی رضی اللہ عنہ نے، جو بنو زہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ) بدر میں شرکت کی تھی، عرض کی: اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کافروں میں سے ایک آدمی سے میرا سامنا ہو جائے ..... آگے ایسے ہی ہے جیسے لیث کی (روایت کردہ) سابقہ حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 276]
حضرت مقداد بن عمرو بن اسود کندی رضی اللہ عنہ جو بنو زہرہ کے حلیف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بتائیے اگر میری ایک کافر آدمی سے مڈبھیڑ ہو جائے، پھر سب سے پہلی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 276]
ترقیم فوادعبدالباقی: 95
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (270)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة