صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب استحباب الوضع من الدين:
باب: قرض میں سے کچھ معاف کر دینا مستحب ہے (اگر قرضدار کو تکلیف ہو)۔
ترقیم عبدالباقی: 1558 ترقیم شاملہ: -- 3984
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا كَعْبُ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، " فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ، قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْ فَاقْضِهِ ".
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عبداللہ بن کعب بن مالک نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، مسجد میں، ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا جو ان کے ذمے تھا تو ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے اندر ان کی آوازیں سنیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف گئے یہاں تک کہ آپ نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی: ”کعب!“ انہوں نے عرض کی: حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا آدھا حصہ معاف کر دو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے سے) فرمایا: ”اٹھو اور اس کا قرض چکا دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3984]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک، اپنے باپ (کعب) سے بیان کرتے ہیں، کہ میں نے اپنا قرض جو ابن ابی حدرد رضی اللہ تعالی عنہ کے ذمہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، اس کا اس سے مسجد میں مطالبہ کیا، ہم دونوں کی (تکرار کی وجہ سے) آوازیں بلند ہو گئیں، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر وہ سن لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تک آنے کے لیے اپنے حجرہ کا پردہ اٹھایا اور کعب بن مالک کو آواز دی، فرمایا: ”اے کعب!“ اس نے کہا، حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اسے اشارہ فرمایا، اپنا آدھا قرضہ چھوڑ دو، کعب نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں نے کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقروض کو فرمایا، ”اٹھ اور اس کا قرض ادا کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1558 ترقیم شاملہ: -- 3985
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ تَقَاضَى دَيْنًا لَهُ عَلَى ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ،
عثمان بن عمر نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں یونس نے زہری سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا۔۔۔ (آگے) ابن وہب کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3985]
عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ اسے کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ میں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ تعالی عنہ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1558 ترقیم شاملہ: -- 3986
قَالَ مُسْلِم: وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا كَعْبُ "، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا.
عبدالرحمٰن بن ہُرمز نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کا کچھ مال عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کے ذمے تھا۔ وہ انہیں ملے تو کعب رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لگ گئے، ان کی باہم تکرار ہوئی حتیٰ کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا: ”کعب!“ پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ فرما رہے تھے کہ آدھا لے لو، چنانچہ انہوں نے اس مال میں سے جو اس (ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ) کے ذمے تھا، آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3986]
امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ لیث بن سعد نے اپنی سند سے کعب بن مالک ؓ کی روایت بیان کی، کہ میرا، عبداللہ ابن ابی حدرد کے ذمے مال تھا، وہ مجھے مل گئے تو میں نے انہیں پکڑ لیا، دونوں میں تکرار ہوا، جس سے ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور فرمایا: ”اے کعب!“ آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، گویا کہ آپ فرما رہے ہیں، آدھ لے لو، تو انہوں نے آدھا قرضہ ان سے لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة