صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب النهي عن كثرة المسائل من غير حاجة والنهي عن منع وهات وهو الامتناع من اداء حق لزمه او طلب ما لا يستحقه:
باب: بہت پوچھنے سے اور مال کو تباہ کرنے سے ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1338
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
منصور نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (ان کے مطالبے پر) معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے تو فرماتے: ”لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک لے کوئی اسے دے سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1338]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے تو فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی حکومت اور فرمانروائی ہے اور وہی شکر و ستائش کا حقدار ہے اور ہر چیز پر اس کو قدرت حاصل ہے، اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے، اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور جس چیز کے تو نہ دینے کا فیصلہ کر لے، کوئی اسے دے سکنے والا نہیں اور کسی سرمایہ دار، صاحبِ جاہ و عظمت کو اس کا سرمایہ اور جاہ و عظمت تجھ سے مستغنی نہیں کر سکتا، بڑے سے بڑا سرمایا دار اور صاحبِ عظمت وجاہ ہر آن تیرا محتاج ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1338]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1339
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: فَأَمْلَاهَا عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ ، وَكَتَبْتُ بِهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور احمد بن سنان نے ہمیں حدیث بیان کی، ان سب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی۔ ابوبکر اور ابوکریب نے اپنی روایت میں: (وراد نے) کہا: مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات مجھے لکھوائی اور میں نے یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1339]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1339]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1340
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، إِلَّا قَوْلَهُ: وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ.
ابن عون نے ابوسعید سے، انہوں نے وراد سے (جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے) روایت کی، کہا: معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا (مسئلہ دریافت کیا) (آگے منصور اور اعمش کی حدیث کے مطابق ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1340]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھوایا (یہ تحریر ان کی طرف وراد نے لکھی) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کے وقت سنا پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، مگر اس میں (وَھُُُُوَ عَلیٰ کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1340]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1341
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ.
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1341]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1341]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 1342
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، سَمِعَا وَرَّادًا كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1342]
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تو فرماتے: (لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 1342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 4483
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ، عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنْعًا وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ، وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ "،
جریر نے منصور سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام وراد سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور ’روکنا، لاؤ‘ (دوسرے کے حقوق دبانے اور جو اپنا نہیں اسے حاصل کرنے) کو حرام کیا ہے اور تمہارے لیے قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4483]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بےشک اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بچیوں کو زندہ درگور کرنا اور حقوق ادا نہ کرنا اور ناحق مطالبہ کرنا حرام ٹھہرایا ہے اور تمہاری تین باتوں کو ناپسند فرمایا ہے، قیل و قال، کثرت سوال اور مال کا ضیاع۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4483]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 4484
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ.
شیبان نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر حرام کی ہیں“ اور انہوں نے یہ نہیں کہا: ”بلاشبہ اللہ نے تم پر حرام کی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4484]
امام صاحب سے یہی روایت ایک اور استاد کی سند سے، منصور کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں، مگر اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، یہ نہیں کہا، ”اللہ نے تم پر حرام ٹھہرایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4484]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 4485
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ، وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ".
شعبی سے روایت ہے، کہا: مجھے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا: مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ تو انہوں نے ان کو لکھا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”بلاشبہ اللہ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے: قیل و قال، مال کا ضیاع اور کثرتِ سوال۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4485]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ کے کاتب (منشی، سیکرٹری) بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو لکھا مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجو جو تم نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے ان کی طرف لکھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، مال کا ضیاع اور بکثرت سوال کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 4486
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ وَرَّادٍ ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ، حَرَّمَ عُقُوقَ الْوَالِدِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَلَا وَهَاتِ، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ قِيلَ، وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ ".
محمد بن عبیداللہ ثفقی نے ہمیں وراد سے خبر دی، انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ (بن شعبہ رضی اللہ عنہ) نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا: آپ پر سلامتی ہو۔ اس کے بعد! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”بلاشبہ اللہ نے تین حرام کی ہیں اور تین چیزوں سے منع فرمایا ہے: اس نے والد کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور نہ دو اور لاؤ (اپنے ذمے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے اور ناجائز حقوق کا مطالبہ کرنے) کو حرام کیا ہے۔ اور تین باتوں سے منع کیا ہے: قیل و قال (فضول باتوں) سے، کثرتِ سوال سے، اور مال ضائع کرنے سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4486]
حضرت وراد سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو لکھا، سلامت رہو، اس کے بعد واضح ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے والدین کی نافرمانی، بچیوں کو زندہ دفن کرنا، دوسروں کا حق رد کرنا اور ان سے ناجائز مطالبہ کرنا حرام قرار دیا ہے اور تین چیزوں سے روکا ہے، فضول بحث و مباحثہ، بکثرت مانگنا اور مال ضائع کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة